مہوراکیسویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم

مہور//آج اکیسویں صدی میں جہاں دنیا چاند پر بستی بسانے اور وہاں پر رہنے سہنے کی سوچ میں لگی ہے لیکن زمین پر کچھ ایسے بھی بالخصوص اس ہندوستان میں جہاں کے وزیر اعلیٰ اس ملک کو ڈیجیٹل انڈیا بنانا چاہتے ہیں ابھی بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ ضلع ریاسی کا مہور سب ڈویژن میں قصبہ میں قدم رکھتے ہیں یہاں کی تعمیر ترقی کے بارے میں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر آج اس ڈیجیٹل انڈیا کے دور میں کتنی ترقی ہوئی ہے یا ہو رہی ہے ۔ اگر کوئی بھی انسان چاہے وہ جموں سے آئے یا گول یا راجوری سے اس قصبہ میں قدم رکھے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں پر کتنی تعمیر و ترقی کے دعوے کھوکھلے اور صرف کاغذی ہیں ۔ ہر کسی علاقہ کو ترقی دینے کے لئے سب سے پہلے سڑک ہے سڑک جسے ترقی کا منبع بھی کہتے ہیں ۔ سڑک اتنی خراب ہے کہ ہر ایک یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ آج کے دور میں بھی قصبہ یعنی سب ڈویژن میں اتنی خستہ سڑک ہے ۔ یہ سڑک بیکن کے تحت ہے جن کے آفیسران یہاں پر تعمیر کرنے میں آنا کانا کرتے ہیں ۔ یہاں گول مہور سڑک پر گزشتہ دوہفتہ قبل ایک المناک سڑک حادثہ ہوا تھا جس میں دس سے زائد افراد لقمہ اجل اور پندرہ لوگ شدید زخمی ہوئے تھے یہ سڑک بھی گریف کے تحت ہے اور تب تک اس سڑک پر گریف حکام نے بیلچہ تک نہیں چلایا لیکن اتنی جانیں زیاں ہونے کے بعد آج گریف اس پر بیلچہ چلا کریہ احساس دلا رہے ہیں کہ گریف کی جانب سے تعمیر و ترقی جاری ہے ۔ وہیں اگر نمائندوں کی بات کریں تو افسوس ہوتا ہے جو نمائندے قصبہ میں اس پیشانی کو صاف کرنے اور اس کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے وہ دور دراز علاقوں کو جوڑنے اور وہاں پر باقی بنیادی سہولیات پہنچانے میں کتنے اپنے دعوئوں میں مضبوط ہے وہ قصبے کی حالت دیکھ کر ہی لگتا ہے ۔ مہور تحصیل جو پہلے ضلع ادھمپور کے ساتھ تھی اور بہت پرانی تحصیل ہے لیکن افسوس کا مقام ہے جہاں سڑک کی خستہ حالت ہے وہیں ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی بھی ساتھ ساتھ ہے ۔ دوردراز علاقوں سے لوگ اس ہسپتال میں علاج و معالجہ کے لئے اس امید سے آتے ہیں کہ یہاں پر بہتر علاج ہو گا لیکن یہاں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ لوگ مایوسی کے شکار ہو کر واپس جاتے ہیں یا جموں کا رخ کرنے میں مجبور ہوتے ہیں ۔ وہیں یہاں کے اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت سے یہاں کے غریب طالب علموں کی پڑھائی پر کافی بُرا اثر پڑ رہا ہے ۔ پورے زون میں اساتذہ کی شدید قلت کا ہاہا کار ہے لیکن سننے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے ۔ وہیں اگر سوچھ بھارت کا نام لیا جائے تو یہ بھی برائے نام ہے ۔ محکمہ رورل ڈولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بازار میں چند ایک ڈیسٹ بن تو لگائے گئے لیکن تمام گندگی پورے بازار کی سڑک پر ڈھیر پڑے ہیں ۔وہیں یہاں پر مقامی لوگوں نے اس مسئلے کو شدت سے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صبح شام بالخصوص سکولی اوقات میں گاڑیوں کی شدیدت قلت ہے اور بچوں کو سکول آنے اور گھر جانے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جمسلان میں سڑک حادثہ کے بعد اگر چہ محکمہ پولیس متحرک ہوا لیکن اس سے عام لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ڈرائیوروں کو زیادہ سواریاں اٹھانے سے منع کیا گیا لیکن اس کے با وجود گاڑیوں میں کھچا کھچ سواریاں بھری دکھنے کو مل رہی ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں نمائندوں کو ان علاقہ جات کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وہیں انتظامیہ کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کوتاہی بھرتنے سے پرہیز کرنا لازمی ہے تا کہ یہ پچھڑا علاقہ اس جدید دور میں بھی تعمیر و ترقی میں آگے ہو ۔