مہنگائی کے چند اسباب و علل

مہنگائی تو مہنگائی ہے،کوئی بھی چیز لے لیجئے اگر وہ سستی ہوجاتی ہے تو لوگ اس کو خریدنے کی بجائے اس سے زیادہ قیمت کے سامان خریدنے کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیاری ہیں اورسستی والی چیز معیاری نہیں ہے۔ یہ بات ہمارے ذہن میں ایک زمانہ سے بیٹھ چکی ہے اوراس طرح ہم ہی مہنگائی کو بڑھاوادیتے  ہوئے کہتے رہتے ہیںکہ اُ ف یہ مہنگائی ، اس نے تو مار ہی ڈالاہے۔خیر! جیسے کہ میںنے  پہلے ایک مضمون ’’مہنگائی نے تومار ہی ڈالا‘‘تحریرکیاتھااور اب اس تحریر کو مختصراورمفید لکھنے کی کوشش کی ہے ۔مہنگائی کی وجوہات میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سرکاری اخراجات میں اضافہ،معیشت میں رقم کی فراہمی کو بڑھانا، ریاست کی مانیٹری پالیسی،بڑے کاروبار کی اجارہ داری،اشیاء کی پیداوار میں کمی،ٹیکس اور ڈیوٹی میں اضافہ۔
ظاہر ہے کہ ان حالات میں مہنگائی کا بڑھناقدرتی ہے۔لیکن موجودہ مہنگائی کی صورتحال کو منافع خوری، بلیک مارکیٹ اوررشوت نے اس حد تک پہنچادیاہے کہ درمیانہ اوراوسط طبقے کے لوگ بھی پیٹ بھرنے جیسی ضرورتوں کو پورانہیں کرسکتے ۔جس کے باعث غریبی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔
مہنگائی روکنے کے لئے حکومت کو اپنے تمام تروسائل اورقوت سے کام لیناچاہئے اوربلیک کرنے والوں ،رشوت خوروں اوربے ایمانی کرنے والوں کو سزا ضرور دینی چاہئے ،کیونکہ اگرجلد ہی مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے تویہ مسئلہ اتنابڑھ جائے گاکہ اس پرقابوپاناناممکن ہوجائے گا۔مہنگائی کی وجہ سے ایک طرف توحکومت کے بہت سے ترقیاتی منصوبے عمل میں نہیں آپاتے اوردوسرے ریاستوں میں بے اطمینانی اورجگہ جگہ حکومت کے خلاف جذبات پیداہوتے ہیں جوتخریبی کارروائیوں اورتوڑپھوڑ کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اوران تخریبی کارروائیوں سے ملک کے امن واطمینان میں خلل پیداہوتاہے اورترقی کے منصوبے سست اوربے عمل ہوجاتے ہیں۔
بلا شبہ حکومت ابھی تک مؤثر اقدامات کرنے سے قاصر رہی ہے ۔لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عوام نے حکومت کو اس سلسلے میں مناسب تعاون نہیں دیا۔ظاہر ہے کہ قانون اورحکومت ہی منافع خوروں کو سزادے سکتی ہے لیکن کیایہ عوام کا فرض نہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو قانون کی نظر میں لائیں ۔پُر امن طریقوں سے ذخیرہ اندوزوں وغیرہ کو بے نقاب کریںاوران کا سماجی بائیکاٹ کریں ۔اگر عوام اورحکومت دونوں اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح اورخلوص اورلگن سے انجام دینے کی کوشش کرینگے تووہ دن دُور نہیں کہ جب ملک میں خوشحالی کا سورج چمک اُٹھے گا۔
اوراب دینی طریقے سے مہنگائی کا حل دیکھتے ہیں کہ کیامہنگائی پہلے دور میں تھی یا نہیں اوراگر تھی تو اس کا حل کیاتھا؟
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اشیاء کے قیمت بہت بڑھ گئے، تو لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہؐ! مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے آپؐ ہمارے لیے قیمت مقرر فرمادیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک اللہ تعالی ہی قیمتیں مقرر کرنے والا ہے، وہی تنگی کرنے والا اور فراخی کرنے والا، اور رزق عطاء فرمانے والا ہے۔ میں یہ اُمید کرتا ہوں کہ جب میں اپنے رب سے ملاقات کروں گا تو کوئی شخص مجھ سے جان ومال کے بارے میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔(سنن ابن ماجہ)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور عرض کی: یا رسول اللہؐ! قیمت مقرر فرمادیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم اللہ تعالی سے دعاء کرو، پھر ایک اور شخص آیا اور عرض کی: یا رسول اللہؐ! قیمت مقرر فرمادیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلکہ اللہ تعالی ہی قیمت گھٹاتا اور بڑھاتا ہے، اور بے شک میں یہ اُمید کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالی سے ملاقات کروں اس حال میں کہ کسی پر ظلم زیادتی میرے ذمے نہ ہو۔(سنن ابی داؤد)
 جب یہ اُمور اللہ تعالی کے ہاتھوں میں ہے تو بندوں کو چاہیے اللہ سے لو لگائیں اور ا س کی جانب رجوع کریں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ تعالی سے دعاء کرنے کی جانب رہنمائی فرمائی۔ بندوں کو چاہیے کہ اپنے رب سے راضی رہیں، اس کی اطاعت کریں ،نافرمانی سے بچیں اور شکر گزاری کریں تو آسمان وزمین کی خیر وبرکات اللہ تعالی ان کے لیے کھول دے گا۔ اللہ تعالی ہی رزق عطاء کرنے والا ہے ،خواہ مہنگائی کی حالت ہو یا سستائی کی۔ اللہ تعالی نے رزق کا وعدہ فرمایا ہے جو بندے کی پیدائش سے قبل لکھ دیا گیا ہے۔
 سب سے افضل ترین زمانہ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کادور اورصحابہ کرام ؓکا زمانہ بھی مہنگائی سے محفوظ نہیں تھا تو یہ مومنوں کے لیے تسلی ہے کہ ایسے دنیاوی مصائب آتے رہتے ہیں ۔اگر سزا نہ بھی ہوں تو درجات کی بلندی اور گناہوں کی بخشش کا سبب بنتے ہیں۔اوراب ہمیں چاہئے کہ اپنی ضرورت کے حساب سے اشیاء کی خریداری کریں تا کہ مہنگائی کے اس دور میںکچھ تو بچاسکتے ہیں ۔جیسے کہ فارسی کا قدیم قول ہے ’’قطر ہ قطرہ دریاباشد‘‘جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’قطرے قطرے سے دریابنتاہے ‘‘اب آپ قارئین اچھے سے جانتے ہیں کہ مہنگائی کو روکنامشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔اس لئے اپنے پیسوںکو احتیاط سے خرچ کریں اوراپنے پیسوں کی حفاظت کریں اوربے وجہ پیسہ فضول خرچ نہ کریں ورنہ و ہی ہوگاجس کا ڈرہے’’ مہنگائی نے تو مارہی ڈالا‘‘یہی ایک بات ذہن میں رہ جائیگی ۔’’مہنگائی اوراس کا حل‘‘ نکالنا مشکل ہوجائے گا ۔
موبائیل نمبر:8977864279