مہنگائی کی مار|| غریب کا چولہا کیسے جلے ؟ تعمیراتی اور صنعتی شعبوں کی رفتار کم، یومیہ مزدوروں کی طلب نہ کے برابر

 اشفاق سعید

سرینگر // مہنگائی کے اس دور میں صنعتی اور دیگر تعمیراتی شعبے میں مزدوروں کی طلب میںکمی نے خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والوں کیلئے پریشانیاں بڑھا دی ہیں اور ہر گذرتے وقت کے ساتھ اُن کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ رہے ہیں ۔لیبر یونین جموں وکشمیر کا یہ ماننا ہے کہ اس وقت جموں وکشمیر میں قریب 18لاکھ مزدور ہیں جن میں سے صرف 4لاکھ 50ہزار ہی لیبر بورڈ میں درج ہیں اور باقی مشکل سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر رہے ہیں۔

 

 

 

یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ جموں وکشمیر میں قریب 55لاکھ لوگ ایسے ہیں جو اے آئی وائی، بی پی ایل اور دیگر زمروں میں آتے ہیں۔ ایسے تمام لوگ نان شبینہ کیلئے محتاج ہوگئے ہیں،کیونکہ بازار سے ضروری اشیاء کی قوت خرید بھی ان لوگوں میں نہیں رہی ہے۔ جموں وکشمیر میں اس وقت صرف سیاحت اور زراعت میں تھوڑا بہت روز گار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔لیکن قالین سازی ، شال بافی ،، مختلف دستکاریوں، چمڑے کی صنعت ، فوڈ پروسیسنگ، پلے بورڈ فیکٹری کچھ اہم صنعتیں ہیںجو ماضی میں مکمل یا جز وقتی روزگار فراہم کرتی تھیں۔لیکن مہنگائی کی مار کی وجہ سے روزگار پیدا ہونے کے یہ وسائل دھیرے دھیرے دم توڑ چکے ہیں۔مہنگائی کے دور میں کام نہ ملنا ایسے کنبوں کیلئے پریشانی کا سبب بن رہا ہے، جو مشکل سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرپاتے ہیں۔مہنگائی کی مارسے مزدور اور سماج کا درمیانی طبقہ پسا جا رہا ہے ۔ بے قابو مہنگائی کے دور میںاوسطاً مزدور پیشہ افراد کے کنبوں کے یومیہ اخراجات 100روپے تک پہنچ گئے ہیں اور وہ مشکل سے زندگی بسر کررہے ہیں۔اوسط طریقے سے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کے یومیہ اخراجات کی مجموعی رقم مہینے میں 12000سے کم نہیں ہے۔مزدوروں کیلئے روزگار کمانا بہت مشکل بنتا جارہا ہے اور انکی زندگی بد سے بدترہے۔ معروف تاجر ،سماجی کارکن اور ماہر اقتصادیات شکیل قلندر نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی دکھاتے ہوئے از سر نو کوئی ایسی پالیسی یا منصوبہ بنانا چاہئے جس سے ان لوگوں کی بھوک کسی حد تک مٹ سکے ۔

 

 

 

شکیل قلندر نے کہا ’’ موجودہ دور میں غریب سبسڈی کے چاول کھا کر صرف زندہ تو رہ سکتا ہے لیکن اپنی اقتصادی حالت کو نہیں بدل سکتا ‘‘۔ قلند رنے اس بات کا اعتراف کیا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو روزانہ کام نہیں ملتا ، کیونکہ ان کی طلب بہت کم ہے۔شکیل قلندر نے کہا کہ دیہی علاقوں میں زیادہ کام نہیں اور تعمیراتی سرگرمیاں بھی وہاں محدود ہیں، جبکہ انڈسٹری سیکٹر میں بھی کئی دہائیوں سے ان کی طلب نہ کے برابر ہے اور ایسے میں جب کسی کو روزگار نہیں ملے گا تو مہنگائی کے اس دور میں اُس کے گھر کا چولہاکیسے جلے گا کیونکہ سب چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھو گئی ہیںاور یہ زمہ داری حکومت کی ہے کہ ان کے روزگار کیلئے کوئی نئی پلاننگ کی جائے ۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ اکنامکس کے سربراہ پروفیسر امتیاز الحق نے بے روزگاری کو ایک سنگین مسئلہ بتایا۔ان کا کہنا تھا ’’ سرکار اگر روزگار کے مواقع تلاش نہیں کرتی تو آنے والے دنوں میں یہاں حالات انتہائی تشویشناک ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگوں کی قوت خریداری ختم ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی نے اس تعلق سے حال ہی میں محکمہ روزگار ، سیاحت ہارٹیکلچر اور انڈسٹریز کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا جس کے بعد انہیں یہ صلاح دی گئی کہ روزگار کے مواقعے تلاش کئے جائیں ۔محکمہ لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ نے بتایا کہ لیبر بورڈ میں قریب 4لاکھ 60ہزار مزدوروں کا اندراج کیا گیا ہے ، جنہیں بچوں کیلئے تعلیم کی مراعات دی جاتی ہیں، اور مہلک بیماری یا جراحی کی صورت میں 1لاکھ روپے تک دیا جاتا ہے ۔