مہلوک سکھ خاتون کے اہلخانہ کا پریس کالونی میں احتجاج

سرینگر// مہجور نگر میں ایک ہفتہ قبل ایک سکھ خاتون کی پراسرار طور موت واقع ہونے کے خلاف انکے اہل خانہ نے احتجاج کیااور اسکے سسرال والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ مہجور نگر عمران گلی میںگذشتہ ہفتے سکھ خاتون پربجوت کور عرف پوجا نامی29برس کی خاتون کی لاش پنکھے سے لٹکتی ہوئی پائی گئی،جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔پوجا کے رشتہ داروں اور اہل خانہ نے کل پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انکی بیٹی کو جہیز کی بھینٹ چڑایا گیا۔ مظاہرین نے نعرہ بازی کرتے ہوئے فوری طور پر پوجا کے سسرال والوں کی گرفتاری عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے بیچ پریس انکلیو میں اس وقت رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے،جب پوجا کے والدہ نے زارو قطار روتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کرنے کی فریاد کی۔انہوں نے کہا کہ انکی بیٹی معصوم تھی اور جہیز کے نام پر انہیں سسرال والے تنگ کرتے تھے،اور بالآخر اسکا قصہ ہی تمام کیا گیا۔ ایک رشتہ دار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پوجا  کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے،جو اس بات کی عکاس ہے کہ پھانسی پر لٹکانے سے قبل انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوںنے کہا’’پربجوت کور کی موت صبحؓواقعہ ہوئی اور جب اس کا 4 سال کا بیٹا اسکول سے واپس آیا،تو اسی وقت میکے والوں نے سسرال والوں کو خبر دی۔انہوںنے مزید کہا ’’پوجاکے گردے پھٹ گئے تھے اور ٹانگوں پر تشدد اور زخموں کے واضح نشانات تھے‘‘۔انہوں نے انصاف کی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ قاتلوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہے۔