مہلوک جج کی درخواست پر فیصلہ کریں موٹر ایکسیڈنٹ ٹریبونل کو ہائی کورٹ کی ہدایت

 بلال فرقانی

سرینگر//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ’موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل‘ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک جج کے زیر کفالت افراد کی طرف سے دائر درخواست پر فیصلہ کرے، جسے جنگجوئوںنے اپنی کار میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔اس وقت کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وجے کمار کی کار کو جنگجوئوںنے روکا اور ان کے ساتھ ایک دوست اور دو محافظوں پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جج اور اس کے دوست کے زیر کفالت افراد نے موٹر ایکسیڈنٹ ٹریبونل میں ایم وی ایکٹ کی دفعہ 166 کے تحت معاوضے کی درخواست کی تھی۔

 

اس دعوے کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ یہ قتل کا معاملہ ہے اور چونکہ جج کی گاڑی کو روکا گیا تھا، اسلئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حادثہ موٹر گاڑی کے’استعمال ‘کے دوران ہوا تھا۔ہائی کورٹ نے پایا کہ یہ مقدمہ اگرچہ قتل کا ہے، لیکن یہ جنگجوئوںکاغالباً ’ارادہ‘ نہیں تھا۔ جسٹس سنجے دھر نے کہا کہ جب گاڑی غیرمتحرک ہو تب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ موٹر گاڑی استعمال میں نہیں تھی اور ایک حادثہ جو ایسے وقت میں پیش آتا ہے جب گاڑی غیر متحرک ہو، اسے موٹر گاڑی کے استعمال سے پیدا ہونے والا ’حادثہ‘کہا جا سکتا ہے۔بنچ نے وضاحت کی’’ملی ٹنٹوںکا غالب ارادہ مہلوک ونود کمار کے مسلح محافظوں سے اسلحہ اور گولہ بارود چھیننا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ اس علاقے سے گزرنے والی گاڑیوں کو روکتے رہے اور آخر کار اس گاڑی کو روکاجس میں متوفی سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے مذکورہ گاڑی میں مسلح گارڈز کو سفر کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے گاڑی پر گولیوں کی بارش کر دی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چاروں افراد لقمہ اجل بن گئے، اس طرح یہ ایک حادثاتی قتل کا معاملہ تھا۔ لہذا، یہ محفوظ طریقے سے کہا جا سکتا ہے کہ متوفی کی موت موٹر گاڑی کے استعمال کی وجہ سے ہوئی تھی۔عدالت نے کہا کہ حادثاتی قتل وہ ہوتا ہے جب قتل کی وجہ یا قتل کا فعل اصل میں مقصود نہ ہو اور یہ کسی اور سنگین فعل کی وجہ سے ہوا ہو تو ایسا قتل حادثاتی قتل ہے۔