مہرو کہانی

رحیم رہبر

گھنے جنگل کے دامن میں غلام قادر اپنی چکّی چلاتا تھا۔ اس پہاڑی علاقے میں صرف یہی ایک چکی تھی جو پانی پر چلتی تھی۔ دور دراز گائوں سے لوگ اس چکی پر گُندم، چاول اور مکیٔ پیسنے کے لئے آتے تھے۔ اُس کی جوان سُندر سی بیٹی مہرو دن بھر اپنے بابا کے ساتھ رہتی تھی۔ مہرو نے کچھ پڑھا تھا؟ وہ کیوں اپنے بابا کے پاس دن بھر چکّی گھر میں یا چکّی کے آس پاس اپنا قیمتی وقت صرف کرتی تھی؟‘‘ ان سوالات کا جواب میرے پاس نہیں۔
ہاں! قادر نے مجھے ایک دن کہا تھا۔
’’مہرو اس کی اکلوتی بیٹی ہے۔ ماں کی اچانک موت کے بعد وہ مہرو کو گھر میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔!‘‘
مہرو بہت حسین و جمیل تھی۔ اُس کا مرمریں سا بدن، ہرنی جیسی چال، اُس کے ماتھے پر جیسے کہ چاند نے جھومر ٹکا دیا تھا۔ اس کے ہونٹوں سے دعا کی سی جیسی خوشبو آئی تھی۔ وہ گلاب جیسی معصوم تھی۔
مہرو عموماً گلابی رنگ کا کُرتا پہنتی تھی۔
گوکہ کُرتا بٹن کے بغیر ہی تھا لیکن پھر بھی مہرو کو وہ کُرتا پسند تھا۔ ہاں اتنا تو ضرور ہے کہ کُرتے میں بٹن نہ ہونے کا غم مہرو کو بہت ستا رہاتھا۔
گلابی کُرتے کی کہانی قادر ہر ایک کو سناتا تھا۔ جو کوئی بھی اِس کے چکّی گھر میں آٹا، ستُو پسینے آتا تھا وہ ضرور گلابی کُرتے کی کہانی سے محظوظ ہوجاتا تھا۔
’’دو سال بیت گئے میں مہرو کو لیکر کھیر بھوانی میلہ دیکھنے کے لئے گیا۔ وہاں میری نگاہیں ایک خوبصورت کُرتے پر جمیں۔ کُرتا میری مہرو کے سائیز کا تھا۔ مہرو کی فرمائش پر میں نے پھیری والے سے وہ کُرتا بیس روپے میں خرید لیا۔گھر پہنچ کر مہرو نے جب یہ کُرتا زیب تن کیا تو اُس کی جیب میں سے ایک سونے کا سِکہ نکلا۔ اب مجھے پورا یقین ہوا کہ اس کُرتے کا بٹن بھی سونے کا ہوگا۔ اس لئے مجھے کُرتے میں بٹن نہ ہونے کا غم کانٹے کی طرح چُبھ رہا تھا۔۔۔‘‘مجھے اب یہ کہانی حرف بہ حرف یاد تھی۔
خیر مہرو کسی اجنبی کو دیکھ کر خود کو چکی گھر کے پیچھے چھپاتی تھی۔ مہرو اکثر تیز بہائو والے پانی کے درّے میں اپنے نرم خوبصورت پیر ڈالتی تھی۔ اُس کی پائیل کی جھنکار، پانی کا رقص اور بانسری کی وہ سُریلی آواز جو پاس ہی جنگل سے آتی تھی، ان تینوں کا آپسی تال میل، واہ ۔۔۔! وہ منظر کیا ہی دِلرّبا ہوتا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر مغل بادشاہ جہانگیر کا دربار یاد آتا تھا۔!
ایک دن ایک اجنبی خوبصورت جوان چکی گھر میں مکئی پسوانے کے لئے آگیا۔ چکّی گھر کے سامنے جونہی اُس کی نظریں مہرو پر پڑیں تو اس سے رہا نہ گیا۔ اُس پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی۔ اُس نے جلدی میں اپنا مکئی کا تھیلہ قادر کے حوالے کیا اور فوراً چکّی گھر سے باہر آگیا۔ وہ مہرو کے قریب پہنچا۔ مہرو کی ترچھی نگاہیں اجنبی جوان کے دل و جگر کو گھائو دے گئیں۔ ایک ہی نظر میں مہرو اس جوان پر فریفتہ ہوگئی۔
’’تم۔۔۔تم۔۔۔تمہارا نام کیا ہے‘‘ جوان نے انہماک سے پوچھا۔
’’جی۔۔۔مہہ۔۔۔مہہ۔۔۔مہرو۔‘‘ مہرو نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
’’میں۔۔۔میرے۔۔۔۔‘‘ پھر جوان چُپ ہوا۔
’’چُپ کیوں ہوئے۔۔۔بتائو کیا کہنا چاہتے ہو‘‘۔ مہرو بولی
’’میرے عشق نے انگھوٹھالگایا۔ اب حساب کون دے گا!؟‘‘
مہرو نے شرماتے ہوئے پوچھا۔
’’تم۔۔۔تم پہلی بار کسی لڑکی کو دیکھ رہے ہو کیا؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ہاں ہاں آج پہلی بار پری کو دیکھ رہا ہوں۔ آج تک میری دادی مجھے سُلانے کے لئے لوری سناتی تھی۔۔۔لوری ایک پری کے بارے میں۔۔پری ایسی ہوتی ہے، پری ویسی ہوتی ہے! لیکن آج مجھے آپ کو دیکھ کر پری کے ہونے کی تصدیق ہوئی۔‘‘
تعریف سُنکر مہرو گلاب کی طرح شرمائی اور چکّی گھر کے پیچھے چلی گئی۔
اجنبی جوان خیالوں کی دنیا میں مست چکّی گھر کے اندر چلا گیا جہاں قادر نے اس کا آٹا تیار رکھا تھا!
’’بیٹا! اتنی دیر کہاں تھے؟‘‘
’’اجنبی جوان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’بیٹا کہاں کھوگئے ہو؟‘‘ قادر نے تعجب سے پوچھا۔
’’چاچا۔۔۔بس یونہی‘‘
’’بیٹا ! کیا کام کرتے ہو؟‘‘ قادر نے جوان سے دفعتاً پوچھا۔
’’پھیری والا ہوں۔۔میلوں میں کپڑے بیچتا ہوں۔
جواب سُنکر قادر کو میلے کا وہ واقعہ یا آگیا ، جب اُس نے کُرتا خریدا تھا۔ اچانک قادر کو جوان کا حُلیہ دیکھ کر یاد آگیا۔ وہ کُرتا اُس نے میلے میں اسی جوان سے خریدا تھا۔‘‘
’’چاچا! میں چلتا ہوں۔‘‘ جواب بولا
’’نہیں۔۔۔نہیں بیٹے میرا تجربہ کہہ رہا ہے کہ تم مجھ سے کچھ چُھپا رہے ہو!‘‘
’’چاچا!کیسے کہوں۔ تمہاری بیٹی نے جو کُرتا پہن رکھا ہے۔ وہ تُم نے دو سال قبل مجھ سے میلہ کھیر بھوانی میں خریدا تھا۔ مجھے اُس کُرتے کی تلاش تھی۔ اِس کا بٹن میرے پاس محفوظ ہے۔ میں چاہتا ہوں اس کُرتے پر میں وہ بٹن ٹانک دو۔‘‘
���
آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ
موبائل نمبر؛9906534724