مہاڑ ٹنل میں دراڑیں پڑ گئیں حفاظتی اقدامات کرنے میں کئی ماہ درکار ہوں گے

  فور لین ڈبل ٹیوب ٹنل پر کام بند کردیا گیا، مزدوروں اور ٹیکنشنوں کو ایک ماہ کی چھٹی

محمد تسکین

بانہال // جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ناشری اور بانہال کے درمیان فورلین پروجیکٹ کا کام جہاں جاری ہے وہیں رام بن میں کیفٹیریا موڑ اور مہاڑ کے درمیان قریب ایک کلومیٹر کے حصے کو بائی پاس کرنے والے ایک ( cut and cover ) ٹنل میں دراڑیں پڑ گئیںہیں اور فورلین شاہراہ کے اس زیر تعمیر دو ٹیوب ٹنل میں دراڑیں اور پتھرگرنے کے عمل کے بعد ٹنل کے کام کو احتیاطاً روک دیا گیا ہے اور مزدوروں کوچھٹی دی گئی ہے۔ اگرچہ کوشش کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام نے فون کالز کا جواب نہیں دیا تاہم سب لیٹ تعمیراتی کمپنی DMR کا کہنا ہے کہ ان دراڑوں کی نوعیت کا پتہ لگانے کیلئے تعمیراتی کمپنی اور ہائی وے اتھارٹی کے انجینئر زجائزہ لے رہے ہیں اور کسی بھی حادثے سے بچنے کیلئے کام کو احتیاطی طور بند کر دیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے realignment کے منصوبے کے طور قصبہ رام بن کے نزدیک کیفٹیریا موڑ سے مہاڑ تک ٹنل کی تعمیر کا کام 2021 میں شروع کیا گیا۔یہ علاقہ شروعات سے ہی جغرافیائی اور موسمی دشواریوں سے بھرپور رہا اور رواں سال جون کے مہینے میں پسیوں اور پتھروں کے گر نے کیوجہ سے اس ٹنل کے دھانے کو شدید نقصان بھی پہنچا تھا اور ٹنل کا قریب ایک سو میٹر کا حصہ تباہ ہوا تھا اور اُسوقت بھی کام کو کچھ وقت کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔اس پروجیکٹ سے منسلک جانکار ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پسیوں اور پتھرگرنے کیلئے مشہور مہاڑ اور کیفٹیریا موڑ کے درمیانی حصے کیلئے قریب 800 میٹر طویل دو الگ الگ کٹ اینڈ کور ٹنل ایک ایسی پہاڑی کے نیچے سے تعمیر کی جارہی ہے جو فریکچرڈ اورمٹی سے بھر پور پہاڑی ہے اور پوری پہاڑی سے ملبہ گرنے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس حصے کو بائی پاس کرنے کیلئے ٹنل کی تعمیر کا فیصلہ ہائی وے اتھارٹی نے لیا اور بھارت نامی کمپنی نے اس کا ٹینڈرحاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ قریب چار سو میٹر ٹنل کی کھدائی کا کام سب لیٹ کمپنی ڈی ایم آر نے کیا ، جس میں راک بولٹنگ اور وائر میش کنکریٹ وغیرہ کا کام شامل ہے۔ انہوں نے کہ نومبر اور اس سے قبل ہوئی بارشوں کے بعد سے ٹنل کے شمالی پورٹل میں چھوٹی دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں اور اکا دکا پتھر بھی گرتے رہے۔معلوم ہوا ہے کہ ٹنل کے اندر سیمنٹ اکھڑ رہا ہے او دراڑیں پڑنے کے بعد کمپنی نے ٹنل کے اندر جاری کام کو احتیاطی طور بند کر دیا ہے اور مشینری اور افرادی قوت کو کئی روز پہلے باہر نکالا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 12 دسمبر کو ٹنلمیں کام بند کرنے کا ایک نوٹس بھی ٹنل کے باہر چسپاں کیا گیا ہے اور اس میں کام کرنے والے مزدوروں، تربیت یافتہ ٹیکنشنوں اور دیگر ورکروں کو آئندہ ایک مہینے کی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراڑوں پڑنے اور کام بند ہونے سے تعمیراتی کمپنی کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔ ٹنل کی سب لیٹ تعمیراتی کمپنی کے ایک عہدیدار و نے رانا نے بتایا کہ کمپنی اور این ایچ اے آئی کے انجینئرز نیشنل ہائی وے کی ٹیم ٹنل کے اندر پیدا ہوئے بگاڑ کا پہلے سے ہی بغور جائزہ لے رہے تھے اور کسی حادثے سے بچنے کیلئے کام کو فی الحال بند کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام انسانی جانوں کے مکمل تحفظ کو مدنظر رکھکر کیا گیا ہے اور ٹنل کے اندر پیدا ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹنل پر کام دوبارہ شروع کرنے میں مزید کئی مہینوں کا وقت درکار ہوگا اور ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کے بعد ہی ٹنل میں کام دوبارہ شروع کیا جائیگا۔