مہاراشٹر میں مسلمانوں کو ریزرویشن کیلئے متحدہ تحریک کااعلان

ممبئی//مہاراشٹر میں مسلمانوں کی پسماندگی کے پیش نظر تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کے مطالبہ کے پیش نظر ریاست گیر سطح پر متحدہ تحریک چلانے کااعلان آج یہاں مولانا آزاد وچار منچ کے زیراہتمام مسلم آرکشن سنیکت کروتی سمیتی(مسلم ریزرویشن متحدہ ایکشن کمیٹی)کے ماہر تعلیم اور پونے اعظم کیمپس کے روح رواں پی سے انعامدار کی صدارت میں انجمن اسلام کی کریمی لائبریری میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا.  مذکورہ اجلاس میں یہ اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیاکہ مہاراشٹر میں مسلمانوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے جمہوری اورقانونی طریق کار اپنایاجائے گا. جبکہ عدالت عظمی نے تعلیمی میدان میں مسلمانوں کو پانچ فیصد حق دینے کے حلم کوبرقرار رکھا ہے ,اس لیے پُرامن اورجمہوری دائرے میں رہ کر جد وجہد جاری رہیگی. اس موقع پر اپنے صدارتی خطبہ میں پی سے انعامدار نے کہاکہ سابقہ کانگریس -این سی پی حکومت نے مراٹھااور مسلمانوں کوتعلیمی اور ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کا جوفیصلہ لیا, اس آریننس کو موجودہ بی جے پی اتحادی حکومت نے قانونی شکل نہیں فی, یہی سبب ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود اسے نافذ کرنے میں کوتاہی ہوئی اور اس عمل درآمد نہیں ہوسکا. اس اجلا س سے راجیہ سبھا ایم پی اور وچار منچ کے صدر حسین دلوائی, جلگاؤں کے عبدالکریم سالار, سابق وزیر انیس احمد, سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی ,اقبال انصاری,یوسف انصاری, حسیب نداف, سلیم سلوات, کارپوریٹر فردوس پٹیل امیر متعدد مدعوئین نے خطاب کیا جبکہ پرویزانصاری, صادق لطیف خان اور ایڈوکیٹ شکیل قاضی نے اجلاس کے انتظامات کی جانب توجہ دی.جبکہ جاویدجمال الدین, محمودحکیمی, عبدالکریم فیصل, مشیرانصاری بھی موجود رہے۔اس اجلاس میں پونے , شولاپور, جلگاؤں, ناگپور ,اورنگ آباداور دیگر شہروں سے مندوبین بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔اس موقع پر انعامدار نے مزیدکہاکہ اس آریننس کے سبب 2014-15میں مسلمان طلبا ء کو داخلے بھی دیئے گئے , لیکن ایک سازش کے تحت مسلمانوں اور مراٹھااور فرقے کااعلان کردہ ریرزویشن کوآرایس ایس لابی نے عدالت میں چلینج کیااور اسٹے دینے کے باوجود عدالت نے مسلمانوں کے لیے تعلیمی میدان میں ریزرویشن دینے کی وکالت کی, لیکن حکومت نے چھ مہینے میں قانونی حیثیت دینے کی کوشش نہیں کی, حس کے نتیجے میں ریزرویشن کے فیصلہ کو نافذنہیں کیاگیا . اس سے قبل مولاناوچار منچ کے صدراورراجیہ سبھا ایم پی حسین دلوائی نے کہاکہ مہاراشٹر میں الگ الگ بینرس کے تلے ریرزرویشن کے لیے جدوجہد جاری ہے اور اس تحریک کو ایک چھتری کے نیچے لاکر تحریک کو پراثر بنانے کی کوشش کی گئی ہے .  انہوں نے ستمبر کے مہینے میں پی اے انعامدار کی قیادت میں ریاست گیر تحریک کرنے کااعلان کیا جبکہ سابق ایم ایل اے یوسف ابراہانی نے واضح طورپرکہاکہ اپنے حقوق کے لیے جمہوری طور پر جدوجہد کرنا, ہرکسی کا حق ہے ,اس لیے ڈر اور خوف کو نکال لر مسلمانوں کو جدوجہد کرنا ہوگی.انہوں نے آدمی. مساجد اور موذن کئ تنخواہوں کا. مسئلہ اٹھایا.   سابق ریاستی وزیر انیس احمد, خصوصی طور پر ناگپور سے تشریف لائے اور انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰاشوک چوان نے انہیں پہلا اقلیتی وزیر بنایا اور انہوں نے مسلمانوں جمہوری دائرے میں رہ کر حقوق دینے میں کبھی تاخیر نہیں کی۔یو این آئی