مہاتما گاندھی ۔عدمِ تشدد کا دلیر سپاہی

بلا شبہ بھارت واسیوں کو ہمیشہ اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ہمارے درمیان ایک ایسا شخص بھی گزرا ہے جس کی عظمت کی پوری دنیا معترف ہے ۔ یہ مہاتما گاندھی کی عظمت کی دلیل ہے کہ اقوام متحدہ ان کی یوم پیدائش پر یوم عدم تشدد کا اہتمام کرتی ہے ۔ حالانکہ تواریخ کے اوراق پلٹے جائیں ،تو ہم دیکھیںگے کہ عالمی سطح پر بڑھتے تشدد میں نہ جانے کتنے لوگ شکار ہوئے ہیں ۔ قتل کئے جانے والوں میں مہاتما گاندھی کے ساتھ ساتھ ابراہم لنکن، مارٹن لوتھر کنگ، جان ایف کینڈی،مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، لیاقت علی خاں ،جنرل ضیاالحق، بے نظیر بھٹو وغیرہ جیسی بڑی اور اہم شخصیات کی ایک لمبی فہرست ہے ،لیکن عالمی سطح پر مہاتما گاندھی کو جس قدراہمیت دی گئی ، وہ اہمیت ان میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ تشدد سے ہونے والے قتل و غارت گری سے پوری دنیا کے امن پسند لوگوں کا متفکر ہونا فطری عمل تھا ۔ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کی تشدد کے متعلق فکر مندی ان الفاظ میں ہمارے سامنے آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
" Non violence means avoiding not only external physical violence but also internal violence of sprit . You not only refuse to shoot a man but you refuse to hate him.  " 
اسی طرح ہمارے ملک کی شان اور پوری دنیا میں عزت و احترام والی شخصیت مدر ٹریسا کا امن و امان کو انسانیت کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ۔۔۔۔" we do not need guns and bombs to bring peace.we need love and campassion" ۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر بہت بڑی تعداد میں لوگ تشدد کے شکار ہو چکے ، جس کے منفی اثرات عالمی سطح پر شدت سے محسوس کئے گئے ۔ایسے بڑھتے خونین حالات میں مہاتما گاندھی کے ذریعہ دئے جانے والے عدم تشدد کے پیغام کو پوری عالمی برادری کے لئے ایک انمول پیغام تصور کیا گیا۔ اس لئے بڑھتے تشدد کے خاتمے کے لئے مہاتما گاندھی کے اس پیام کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں  15 ؍جون 2007 ء کو’ عدم تشدد کا عالمی دن‘ منانے کی قرارداد پیش کی گئی ، جو کہ 27 ؍جون 2007ء کو منظور کر تے ہوئے یہ اعلان کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے فیصلے کے بموجب اب ہر سال بھارت کے سپوت اور عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی کے یوم پیدائیش پر عالمی سطح پر یوم عدم تشدد کا انعقاد کیا جائے گا ۔ اس دن پوری دنیا میں ہونے والے تشدد کے خلاف مختلف طریقے سے ذہن سازی کی ضرورت محسوس کی گئی، تاکہ تشددکے بڑھتے واقعات اورسانحات روکاجا سکے۔ اس لحاظ سے 2 ؍ اکتوبر وہ اہم دن ہے ، جو عالمی سطح پر عدم تشدد کے طور پر منایا جا رہا ہے ۔ ویسے یہ بھی ایک المناک حقیقت ہے کہ جس گاندھی نے عدم تشدد کا پیغام عام کرنے کی کوشش کی ،وہ خود تشدد کا شکار ہوا اور قتل کیا گیا۔
اس تناظر میں اب ہم مہاتما گاندھی اور ان کے پیغامات کو عہد حاضر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جس کے ایک پیغام کو بین الاقوامی سطح پر اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ۔  2 ؍ اکتوبر( 1869ء) ہی وہ اہم تاریخ ہے ، جس دن گجرات کے کاٹھیاواڑ، پوربندر میں موہن داس کرم چند گاندھی نے جنم لیا تھا ۔وہ اپنے اخلاق ، کردا ر ، تعلیمات اور اپنے نظریات سے موہن داس کرم چند گاندھی سے ’’ مہاتما ‘‘بنے ۔ اپنے  ملک کے لئے ان کی جو خدمات رہی ہیں ، وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے ،جنھیں بیان کرنے کی اس لئے اب ضرورت نہیں ہے کہ ملک کے لئے دی گئی ان کی قربانیاں ،نہ صرف اپنے ملک کے لئے، بلکہ بیرون ممالک کی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تاریخ میں درج ہو چکا ہے کہ اپنی ان ہی خصوصیات کی بنا پر انھیں سینکڑوں لوگوں کے سامنے ملک کی آزادی کے صرف پانچ ماہ بعد یعنی30 ؍ جنوری 1948 کو ہندو مہا سبھا کے حامی ناتھو رام گوڈسےنامی شخص نے گولی مار کر انھیںقتل کیا تھا اور جب اس قاتل پر گاندھی جی کے قتل کا مقدمہ چلا ، اس وقت اس نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے عدالت میں کہا تھا کہ گاندھی قیام پاکستان کے لئے ذمّہ دارتھے اور مسلمانوں کی حمایت کیا کرتے تھے ۔ اس مقدمہ میں ہندو مہا سبھا کے سابق صدر ونائک ساورکر کو بھی ملزم بنایا گیا تھا ۔ لیکن جرم ثابت نہیں ہو سکا تھا ۔ اس سلسلے میں مشہور تاریخ داں ایم اے نورانی کا کہنا ہے کہ سردار پٹیل نے وزیر اعظم وقت پنڈت نہرو کو لکھا تھا کہ قتل کی سازش جن لوگوں نے تیار کی تھی ، ان کی براہ راست سربراہی ساورکر نے ہی کی تھی ۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر عارضی پابندی بھی لگائی تھی او ر گاندھی جی کے قتل کے جرم کی پاداش میں گوڈسے کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی ۔ مہاتما گاندھی کی یہ قربانی رائیگاں نہیں گئی اور ملک کے لوگ ہمیشہ ان کی دی گئی قربانی سے خود کو ان کا مقرو ض سمجھا اور ملک کے کونے کونے میں نہ صرف ان کی یادگار قائم کی گئیں بلکہ ملک کے ایک ایک فرد خواہ وہ امیر ہو ، غریب ہو ، صنعت کار ہو ، مزدور ہو سبھی انھیں کرنسی نوٹوں پر آویزاں تصویر کی شکل میں دل سے لگائے رہتے ہیں ۔ اس سے بڑی خراج عقیدت اور ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہو سکتا ہے ۔   
لیکن ان دنوں مہاتما گاندھی اور ان کے اصول وتعلیمات کے ساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے ۔ وہ پورے ملک کے لئے خطرناک صورت حال کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔ وہ لوگ جو گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو اپنا ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں، گاندھی کے یوم شہادت کو ’’شوریہ دیوس‘‘ یعنی یوم افتخار کے طور پر مناتے ہیں اور وہ مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے کا ،ملک کے دارالسلطنت نئی دلی میں نہ صرف مجسمہ بلکہ اس کے نام پر مندر تعمیر کا بھی منصوبہ بنا کر اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں سرگرم ہیں ۔  یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ مہاتما گاندھی کے قتل کی دوبارہ انکوائری کرا کر کر آر ایس ایس کو اس الزام سے بری کر دیا جائے کہ گاندھی کا قتل ان کی تنظیم نے کرائی تھی ۔ ساتھ ہی ساتھ ملک کے کرنسی نوٹوںپر سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر دوسرے رہنمائوں کی تصویر لگانے کابھی مطالبہ کرتے ہیں ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں ساورکر کو شامل کیا گیا ہے ۔ اس تناظر میں اب ہم یہ دیکھیں کہ آخر ان لوگوں کے دلوں میں،مہاتما گاندھی اب تک کانٹے کی طرح کیوں چبھ رہے ہیں ۔ دراصل مہاتما گاندھی نے وطن دوستی، حب الوطنی، انسانی اقدار، یکجہتی اور رواداری کی جو تعلیمات دی ہے ۔ وہ ملک اور بیرون ممالک کے لوگوں کو اب تک اپنے سحر میںلئے ہوئے ہے ۔ جس کے باعث ’’ہندوتوا‘‘ کا نظریہ نافذ کرنےوالوں کو دشواریاں پیش آ رہی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ موہن داس کرم چند گاندھی بلا شبہ ایک عظیم شخصیت کا نام ہے ۔ جنھوں نے اپنی زندگی میں سچائی ، عدم تشدد،انصاف اور رواداری کے اقدار کو اتار کر جو تعلیمات اور نظریات دئے ۔ انھیں آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ خاص طور پر عدم تشدد ، جو ان کی زندگی کا جزولا ینفک تھا ، اورجن پر وہ نہ صرف پوری زندگی خود چلے بلکہ دوسرے لوگوں کو چلنے کی ترغیب دی ۔ اس سلسلے میں ان کا خیال تھا کہ ’ عدم تشدد سے پیدا ہونے والی طاقت انسان کے ایجاد کردہ ہتھیاروں سے بدجہا بہتر ہے ۔‘ مہاتما گاندھی کی شخصیت کی جو سحر انگیزی تھی ، وہ ان کے گفتار اور کردار کی ہم آہنگی کی وجہ کرتھی۔ انھیں انسانی ، روحانی اور مذہبی افکار ونظریات پر مکمل یقین تھا ۔ جس کے باعث وہ محبت، اخوت، مساوات،صداقت، انسانی دوستی اور یکجہتی کے پیکر بنے ۔ سماجی نابرابری ،ناانصافی اور غیر انسانی عمل و دخل کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے خاردار راستوں سے گزرکر جب انھوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا ، تب بھی انھوں نے سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا بلکہ سیاست اور مذہب کو ایک دوسرے کے لئے لازم  وملزوم قرار دیا ۔ ان کا یہ خیال تھا کہ جہاں بھی ، جس جگہ بھی جن کے دلوں میں مساوات اور سچائی کا عنصر ہوگا ، وہاں تشددغالب نہیں ہوگا ۔ مہاتما گاندھی کی ان ہی بنیادی اصولوں کی علمبرداری اور اوصاف سے متاثر ہو کر رابندر ناتھ ٹیگور جیسی عظیم شخصیت نے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ’’مہاتما‘‘ کا درجہ دیا تھا، جو ہمیشہ کے لئے ان کے نام کا حصہ بن گیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک موہن داس کرم چند گاندھی ، اپنے مہاتما ہونے کا ثبوت دیتے رہے ۔ ہندو مسلم اتحاد کو بھی مہاتما گاندھی ضروری قرار دیتے تھے ۔ اُن کا خیال تھا کہ ’اتحاد ایک طاقت ہے ، یہ صرف کتابی کہاوت نہیں بلکہ زندگی کا ایک اصول ہے، اگر ہم میں پھوٹ ہوگی تو ہم تباہ ہو جائینگے۔ اگر ہم ہندو مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر تیار رہیں گے تو کوئی تیسری طاقت آسانی سے ہندوستان کو غلام بنا لے گی ۔ہندو مسلمان اتحاد کا مطلب صرف ہندوؤں اور مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ان سب جماعتوں کا اتحاد ہے، جو ہندوستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں ۔ ہم اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ جذبۂ ایثار وقربانی کا عنصر ہماری زندگی سے غائب ہوتا جا رہا ہے ۔ اس ضمن میں مہاتما گاندھی کا خیال تھا کہ ’جو قوم بے شمار قربانیاں پیش کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتی ہے، وہ ترقی کی لامحدود بلندیوں پر پہنچنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جس قدر قربانی حقیقی ہوگی، اسی قدر کامیابی جلد ہوگی ‘۔ نفرت اور عداوت کے تئیں ان کا نظریہ تھا کہ ’ ہم اپنے دشمنوں کو محبت سے جیت سکتے ہیں، نفرت سے نہیں ۔ نفرت اور تشدد میں بہت باریک سا فرق ہے ‘۔
ہمارے ملک میںجمہوریت جس طرح ان دنوں پامال ہو رہی ہے ۔ اس سلسلے میں مہاتما گاندھی نے کبھی کہا تھا کہ ’ ’ اگر جمہوریت کا صحیح مفہوم پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قوتِ برداشت اور رواداری پیدا کرنا پڑے گی ۔‘‘ جمہوری نظام حکومت کے سلسلے میں بھی ان کا بہت ہی واضح نظریہ تھا کہ’ ’ جمہوری نظام حکومت کو کسی ایک شخص کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ، خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو ۔‘ ‘اس سیاق و سباق کے ساتھ ہی ان کا ایک خواب یہ بھی تھا کہ ’’ بھارت کے تمام مذاہب اور نسلوں کے افراد کو ایک ہی جھنڈے کے نیچے لا کر جمع کر دو اور ان میں اتحاد اور یکجہتی کا جذبہ اس شدت کے ساتھ پید اکر دو کہ ان کے ذہنوں سے فرقہ واریت اور تنگ نظری کا نام و نشان تک مٹ جائے ۔ ‘ ‘لیکن افسوس کہ لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر ملک کو انگریزوں کی غلامی اور ظلم وتشدد سے آزاد کرایا ، کہ آنے والی نسل خود کو کسی بھی طرح غلام نہ سمجھے، اسے ہر طرح کی آزادی نصیب ہو ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں مذہبی منافرت تعصب اور فرقہ پرستی کی ایسی گرم ہوا بہہ رہی ہے کہ ہر وہ انسان جو محبت، اخوت، مساوات، یکجہتی پر یقین رکھتا ہے ۔ وہ پریشان ہے ، ڈرا ڈرا، سہما سہما سا، خوف زدہ اور دہشت زدہ ہے ۔ ملک کے گوشے گوشے سے نفرت، عداوت، تشدد اور عدم رواداری کے شعلے بھڑک رہے ہیں ، جو ملک کے امن وامان ، دوستی ، بھائی چارگی اور گنگا جمنی تہذیبی اقدار کو خاکستر کر رہے ہیں ۔ اقلیت واکثریت جو اس ملک میں برسہا برس سے شیر وشکر کی طرح رہتے آئے ہیں، ان کے درمیان منافرت اور اختلافات کی خلیج پیدا کرکے ملک کی سا  لمیت کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ نام نہادمذہب اور حب الوطنی کاسہارا لے کر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو سرِعام ذلیل و رسوا ہی نہیں بلکہ انھیں بڑی بے رحمی سے قتل تک کیاجا رہا ہے۔ آسام ، دہلی اور اتر پردیش کے ابھی ابھی سانحات اس امر کے نمایاں ثبوت ہیں ۔ مہاتما گاندھی کی دور اندیش نگاہیں ان امور پر بھی تھیں اور انھوں نے اس سلسلے میں بھی بہت واضح طور پر کہا تھا کہ۔  "Religion is not test of nationality, but a personal matter between man and his god. In the sense of nationality they are Indians first and Indians last , no matter what religion they protess"   اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ ان تمام مذہبی منافرت، عداوت، تشدد، نا انصافی، استحصال، ظلم و بربریت ، قتل وغارتگری کو فراموش کرکے مہاتما گاندھی کے اصولوں اور ان کی تعلیمات و ترجیحات ،جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے ،اس لئے قابل قبول ہو سکتی ہے کہ ان تعلیمات میں ان تمام مذاہب کی تعلیمات کی روح کو پیش کیا گیا ہے ۔ انسانیت اور انسانی اقدار کی حفاظت اور ان پر عمل کرنے کی تاکید اور تعلیم ہر مذہبی کتابوں اور پیامبروں نے دی ہے ، پھر ان میں اختلاف کہاں ہو سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود ہی ان دنوں متعصبانہ ، فرقہ وارانہ اور جارحانہ ذہنیت کے لوگوں کے نشانے پر ہیںاور ان کی تعلیمات او رنظریات پرعمل تو دور، ان کی شناخت تک مٹانے پر درپے ہیں ۔ اب اس ملک میں مہاتما گاندھی کے عدم تشدد اور آپسی اتحاد و اتفاق کی تعلیمات کے بجائے نفرت ، عداوت،عدم رواداری ، عدم مساوات اور انتشارو خلفشار ، تشدد ، دہشت وغیرہ ان کی ترجیحات ہیں ۔ 30  اکتوبر 1948 ء کو مہاتما گاندھی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کیا گیاتھا اور اب ان کی روح کو قسطوں میں قتل کیا جا رہا ہے ۔ کانگریسی رہنماراہل گاندھی نے بڑی جرأت کے ساتھ گزشتہ پارلیامانی انتخاب کے دوران یہی بات کہی تھی کہ مہاتما گاندھی کا قتل آر ایس ایس کے لوگوں نے کرایا تھا ۔ راہل گاندھی کے اس بیان پر آر ایس ایس نے ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ،لیکن راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس بات پر قائم ہیں اور اس کے لئے وہ مقدمہ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں کیونکہ تاریخی حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ ملک میں مہاتما گاندھی کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے ، وہ بہر حال افسوسناک ہی نہیں بلکہ تشویشناک ہے ۔ اس تناظر میں ہم یہ دیکھیں کہ جس شخصیت کے عدم تشدد کے پیغام کو قبول کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے عدم تشددکا عالمی دن ، ہر سال ان کے یوم پیدائش پر منانے کا فیصلہ کیا ہے ، اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر کس طرح پڑ رہے ہیں ۔ ہمیں بہت مایوسیوںکا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مایوسی کوکفر کہا گیا ہے ۔اس لئے ہمیں بہت زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیںہے۔ اندھیرےمیں اُجالے کےآنے تک کچھ دیر توضرور لگتی ہے۔ 
رابطہ۔:9934839110