مگس بانی میں روز گار کے وسیع مواقع دستیاب: ہانجورہ

 سرینگر// وزیر برائے زراعت غلا م نبی لون ہانجورہ نے کہا ہے کہ مگس بانی ریاست میں آمدن اور روز گار کا ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبہ¿ میں روز گار کے50 ہزار مواقعے پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔وزیر سکاسٹ کشمیر کی جانب سے ’ورلڈ ہنی بی ڈے“ کے موقعہ پر منعقدہ2 روزہ نمائش اور شہد کے تجارتی میلے کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔میلہ کے انعقاد کا مقصد بذریعہ جانکاری و تشہیر مگس بانی سے متعلق بیداری عام کرنا ہے۔ہانجورہ نے کہا کہ اس شعبہ¿ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال اور کسانوں میں بیداری پید ا کرنے سے مگس بانی ریاست میں بے روز گاری کے مسئلے کے حل میں ایک اہم رول ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے محکمہ زراعت اور سکاسٹ کشمیر کو ریاست کے تمام اضلاع میں سروے کر کے مگس بانی سے وابستہ افراد اور جموں وکشمیر میں شہد کی پیداوار سے متعلق تمام اعداد و شمار جمع کر کے ضلع وار رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مگس بانی سیلف ہیلپ گرو¿پوں کے قیام پر بھی زور دیا تا کہ مگس بانی یونٹ ہولڈروں کو مالی و مارکیٹ سہولیات دستیاب رکھی جاسکیں۔ مگس بانی سے وابستہ کسانوں کو مارکیٹنگ کی سہولیت دستیاب رکھنے کے لئے حکومت ریاست بھر میں مراکز قائم کر رہی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ حکومت ایگرو انڈسٹریز سیکٹر کی بحالی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جس سے سبزیوں، مشروم، مگس بانی کو اختراعی اقدامات اُٹھا کر فروغ حاصل ہوگا۔مگس بانوں کی نقل مکانی کے دوران ٹرانسپورٹ اور اس شعبہ¿ کے لئے مراعات اور مارکیٹنگ سہولیات سہولیت دستیاب رکھنے کی مانگوں کے رد عمل میں وزیر نے انہیں یقین دلایا کہ اُن کی جائیز مانگیں ترجیحی بنیاد پر پوری کی جائیں گے۔وائس چیئرمین سکاسٹ کشمیر نے بھی اس موقعہ پر کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے یونیورسٹی کی جانب سے شروع کئے گئے اقدامات کو اُجاگر کیا۔اس سے قبل وزیر نے نمائش میں قائم کئے گئے مختلف سٹالوں بشمول مگس بانی، مشرو، حیاتیاتی زرعی مصنوعات، زراعت سے متعلق کتابچے، آلات کشا ورزی وغیرہ کا معائنہ کیا۔انہوں نے ریاست کے بہترین مگس بانوں کو اسناد اور ٹرافیاں بھی دیں۔ڈائریکٹر ایکسٹنشن سکاسٹ کشمیر، ڈین، زرعی سائنسدان، یونیورسٹی کے فیکلٹی ارکان، مگس بان اور جامعہ کے طُلاب کی بھاری تعداد اس موقعہ پر موجود تھی۔