مکہ مسجد بم کیس کاڈراپ سین

 ’’ایسا ہی فیصلہ بابری مسجد مقدمہ کا آئے گا اور ہم یوں ہی دیکھتے رہ جائیںگے‘‘۔سوشیل میڈیا پر مکہ مسجد حیدر آباد ۲۰۰۷ء بم بلاسٹ میں ماخوذ ملزموں کی حیران کن رہائی پر یہ فوری ردعمل دل کو چھولینے والا ہے۔ واقعی عدالتی فیصلے ہوتے ہیں۔ ہم اخباری بیان بازی اور کچھ عوامی جلسوں میں اپنے غم و غصے کا احتجاج کرتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے اور پھر یہ فیصلے ہمارا ردعمل ماضی کی گمنام اندھیروں میں کھوجاتا ہے۔مکہ مسجد دھماکے سے متعلق جو فیصلہ ہوا وہ غیر متوقع تو نہیں ہے کیوں کہ جب مارچ 2017ء میں اسیمانند اور بھرت موہن لال راکیشور کو ضمانت مل گئی اور وہ جیل کی سلاخوں سے باہر آگئے تبھی یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ یہ لوگ الزامات سے بھی بَری ہوجائیںگے۔ کیوں کہ جو کچھ ہوا منصوبہ بند طریقہ سے ہوا۔ جیسے اسیمانند کی درخواست ضمانت منظور کرلی گئی تھی‘ تب نیشنل انوسٹی گیٹیو ایجنسی NIA  نے اسے چیالنج نہیں کیا تھا۔ شاید پرتیبھا امبیڈکر جیسی آئی پی ایس آفیسر این آئی اے میں ہوتیں تو ضرور وہ اس فیصلہ کو چیالنج کرنے کے لئے عرضی داخل کرتیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پرتیبھا امبیڈکر نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس این آئی اے کی حیثیت سے غیر معمولی کام کیا تھا۔ ان کی میعاد پانچ سال کی تھی مگر ایک سال پہلے ہی انہیں اترپردیش واپس طلب کرلیا گیا۔ اور ان کا تبادلہ این آئی اے سے دوسرے محکمہ میں کردیا گیا۔ شاید یہ اسیمانند کی پہلی ضمانت پر رہائی اور پھر الزامات منسوبہ سے بَری کرنے کے لئے راہ ہموار کی جارہی تھی۔ اسیمانند کی رہائی پر مسلمانوں کے غم و غصے پر کسی نے سوشل میڈیا پر اعتراض کیا کہ جب مکہ مسجد دھماکے مقدمہ میں گرفتار کئے گئے ایک سو سے زیادہ مسلم نوجوانوں کو بے قصور ثابت ہونے پر بَری کردیا گیا تھا تب اعتراض کیوں نہیں کیا گیا اور اب اسیمانند کی رہائی پر متضاد رویہ کیوں ہے؟ تو ان نادان ساتھیوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مسلم نوجوانوں کو تو کسی قصور کے بغیر گرفتار کرکے ان کی نوجوانی اور جوانی کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے برباد کردینے کی روایت 1857ء سے ہی چلی آرہی ہے۔ جن نوجوانوں کو رہا کیا گیا اِن میں سے کسی نے بھی یہ اقبال نہیں کیا تھا کہ وہ بم دھماکے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہیں‘ جبکہ اسیمانند نے باقاعدہ اپنے دستخطی بیان میں اپنے جرم کا اقبال کیا تھا یہی نہیں اس نے جیل کے نوجوان مسلم ساتھی شیخ کلیم کی خدمت، فطرت اور اس کے کردار سے متاثر ہوکر اس کے سامنے اپنے جرم کا اقبال کیا تھا جس کا تذکرہ نیشنل میڈیا کرچکا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسیمانند نے اپنے بیان سے مکر گیا۔ بہرحال فیصلہ کے فوری بعد جج کے رویندر ریڈی کا استعفیٰ مقدمہ کے فیصلہ کی طرح موضوع بحث رہا۔ کہا جاتا ہے کہ سخت فیصلوں کے بعد ججس اپنا قلم توڑ دیتے ہیں‘ رویندر ریڈی نے اپنے کیریر کے خاتمہ کا اعلان کیا جس پر یہ تجسس پیدا ہوا کہ آیا جج پر پہلے ہی سے کوئی دبائو تھا یا کسی ڈر یا خوف کی وجہ سے انہوں نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا۔ اگر وہ دو مہینہ بعد اپنے میعاد کی تکمیل پر سبکدوش ہوتے تو انہیں وہ تمام سہولتیں اور مراعات ملتی رہتیں جو موظف ججس کا حق ہے۔ دو مہینہ پہلے استعفیٰ کی وجہ سے وہ تمام مراعات سے محروم رہیںگے۔ جہاں تک دبائو کا تعلق ہے‘ یقینا ایسے حساس نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والے ججز یا پیروی کرنے والے وکلاء پر دبائو رہتا ہے‘ دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ جہاں تک رویندر ریڈی کا تعلق ہے اُن سے متعلق جو رپورٹس پرنٹ اور انڈیا ٹوڈے کے ذریعہ منظر عام پر آئی ہے اس کی روشنی میں یہ ججس صاحب کوئی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں تھے‘ ان کا دامن کرپشن کے الزامات سے داغدار ہے۔ ہائی کورٹ کا ویجیلنس ڈپارٹمنٹ ان کے خلاف رشوت خوری کے الزامات کا جائزہ لے رہا تھا۔ بنجارہ ہلز حیدرآباد کے ایک شخص کرشنا ریڈی نے مذکورہ جج کے خلاف رشوت خوری کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں جج کے خلاف درخواست دی تھی کہ جس شخص نے کرشنا ریڈی کو 150کروڑ روپئے کا دھوکہ دیا تھا اس کی پیشگی ضمانت کی درخواست رویندر ریڈی نے جنگی خطوط پر صرف ایک ہی دن میں منظور کردی تھی۔ چار اور پانچ دسمبر 2017ء کو رویندر ریڈی کورٹ نمبر9 کے انچارج جج تھے۔ 5؍دسمبر کو دھوکہ باز شخص نے پیشگی ضمانت کی درخواست دی تھی جسے اُسی ہی دن انہوں نے منظور کردیا جبکہ قاعدہ کے مطابق ایسی درخواستوں پر پہلے دن جائزہ لیا جاتا اور دوسرے دن فیصلہ کئے جاتے ہیں۔ بہرحال! مکہ مسجد دھماکے جیسے حساس اور سنگین نوعیت کے مقدمے کے فیصلے کے سلسلہ میں ان کا رول جج کے علاوہ اور کیا تھا‘ اگر ہماری تنظیمیں، تحریکات اور قائدین دلچسپی لے کر تحقیقات کرواتے ہیں تو اس کا انکشاف ناممکن نہیں۔ ویسے کتنے شرم کی بات ہے‘ کہ اہم ثبوت جو سی بی آئی نے عدالت میں پیش کئے تھے‘ وہ غائب کردیئے گئے۔ یہ کیسے ہوا؟ کیا آج کے ترقی یافتہ دور میں جبکہ ہر دفتری کام کمپیوٹر پر کیا جارہا ہے اور تمام ڈاٹا سیکریٹ فائلس میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ ریکارڈس اگر کاغذی فائلس کی شکل میں غائب بھی ہوجاتے ہیں تو کمپیوٹر کے میموری میں محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ریکارڈ سیکشن اور متعلقہ محکمہ کے وہ تمام عہدیدار و افراد جو اس مقدمہ سے کسی نہ کسی طور پر وابستہ رہے ہیں‘ شک کے گھیرے میں لائے جاسکتے ہیں۔ ان میں سے یقیناً کچھ سبکدوش بھی ہوئے ہونگے اور بعض کا دوسرے محکمہ جات میں تبادلہ کیا جاچکا ہوگا۔ ان سب کے خلاف تحقیقات کی جانی چاہئے۔ ظاہر ہے کہ این آئی اے یا سی بی آئی کو اب اُتنی دلچسپی یا ضرورت نہیں رہے گی تاہم مکہ مسجد دھماکے کے متاثرین اور خود مکہ مسجد کے تقدس کا پاس و لحاظ کرنے والے ہمارے قائدین جماعتیں اور تنظیمیں اس سلسلہ میں پیش رفت کرسکتے ہیں۔
مکہ مسجد، اجمیر کی درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ، سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگائوں کے یکساں نوعیت کے دہشت گردی واقعات کے تمام ملزمین جنہیں مجرم ثابت ہونا تھا‘ بَری ہوچکے ہیں۔ ان میں مسلمان بھی ہیں۔ فرق اتنا ہے دہشت گردی کے واقعات میں مسلمان گرفتار ہوکر جیل چلاجاتا ہے تو اس کی دنیا اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ سماجی بائیکاٹ شروع ہوجاتا ہے۔ دوست، رشتے دار اپنا تعلق بھی ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اور یہ ان کی مجبوری بھی ہے کیوں کہ انہیں بھی شک کے دائرے میں گھیر کر ستایا جاسکتا ہے۔ جب برسوں بعد وہ رہا ہوکر واپس آتے ہیں تو انکی دنیا اُجڑ چکی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس غیر مسلم دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے جاتے ہیں‘ گرفتار کئے جاتے ہیں تو انہیں قومی ہیرو بنادیا جاتا ہے۔ ان کے ارکان خاندان کیلئے سینہ ٹھوک کر فنڈ وصول کئے جاتے ہیں جب وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو ان کا والہانہ استقبال کیا جاتا ہے۔ جلوس منظم کئے جاتے ہیں اور پھر وہ ہندوتوا نظریہ کی حامل سیاسی جماعت یا اس کے تائیدی امیدوار بن کر عوامی رہنما بن جاتے ہیں۔ کئی مثالیں ہمارے درمیان ہیں۔ جیسے ممبئی کے مسلمانوں کے قتل عام، ان کی املاک کو تباہ و برباد کردینے والے ایک بزدل بہروپئے کو اس کی موت پر ترنگے میں لپیٹ کر سرکاری اعزاز کے ساتھ اس کی آخری رسومات انجام دی گئیں۔ دادری میں محمد اخلاق کے قتل میں ملوث ایک ملزم کی موت واقع ہوئی تو اسے بھی قومی ترنگے میں لپیٹا گیا اور اس کی آخری جلوس میں ریاستی وزیر نے شرکت کی تھی۔ دوسری طرف کوئی مسلمان جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے تو اسکے اپنے لوگ اور مسلم سماج کے دوغلے عناصر محض اپنی اہمیت جتانے خود کو محب وطن ثابت کرنے کیلئے تمام حقائق سے واقف ہوتے ہوئے بھی کبھی کبھی بے قصور مسلمانوں کی موت پر انہیں قبرستانوں میں تک جگہ نہیں دیتے۔
16؍اپریل 2018ء کو دو فیصلے تقریباً ساتھ ساتھ ہوئے۔ ایک تو مکہ مسجد دھماکے کا فیصلہ‘ دوسرے عدلیہ پر بچے کچے اعتماد کو متزلزل کردیا۔ دوسری طرف ضلع عادل آباد کے وٹولی کے ایک خاندان کے 6افراد کو زندہ جلادینے کے مقدمے کا فیصلہ جس میں مناسب ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے یہ مقدمہ کالعدم قرار دیا گیا۔ مکہ مسجد دھماکہ سانحہ مئی 2007ء میں پیش آیا تھا اور وٹولی کا واقعہ `12؍اکتوبر 2008ء کو بھینسہ منڈل کے وٹولی میں پیش آیا تھا۔ دونوں ہی مقدمات کے فیصلے مایوس کن رہے۔ عدالتوں میں نہ تو ہمارے ہمدرد ہیں‘ نہ ہی دوسرے محکموں میں۔ ہم اس لئے ہار جاتے ہیں کہ ہر ایک سانحہ کا ہم استحصال کرتے ہیں۔ اور پھر اُسے ایک واقعہ کے طور پر یاد رکھ لیتے ہیں دوسرے لوگ ہر سطح پر محنت کرتے ہیں۔ ان کی لابی ہوتی ہے۔ ان کے وکیل سے لے کر ججس تک ان کے اثرات و رسوخ ہوتے ہیں۔ اور جو محنت کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ جیلوں میں بے شمار بے قصور لوگ سڑ رہے ہیں۔ بعض مسلم این جی اوز قانونی امداد فراہم ضرور کررہی ہیں مگر جن وکلاء کی خدمات وہ حاصل کرتے ہیں وہ وکلاء اپنی فیس کے اعتبار سے تو معیاری ہیں مگر پیروی اور بحث و مباحث کے معاملے میں وہ حریف کے مقابلے میں بے دم نظر آتے ہیں۔ اور اکثر و بیشتر یہ اپنے حریفوں سے نفسیاتی طور پر مرعوب بھی رہتے ہیں۔ اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں ایسے کئی مقدمات کے فیصلے ہوتے رہیںگے۔ ہم حسب روایت تبصرے کرتے رہیںگے سوشیل میڈیا پر اپنی بھڑاس نکالتے رہیںگے اور ۔
رابطہ:ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔ فون9395381226