مژھل فرضی جھڑپ میں ملوثیں کی رہائی افسو س ناک:سوز

 سرینگر//پردیش کانگریس کے سابق صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے مژھل فرضی جھڑپ اور ہلاکتوں میں ملوث قرار دئے گئے فوجی افسران و اہلکاروں کیخلاف عمر قید کی سزا کو معطل کرنے اور مجرمین کو رہائی دینے پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ سپریم کورٹ کی ایما پر آرمی کے کورٹ مارشل نے جن پانچ آفیسران کو مژھل فرضی جھڑپ میں تین بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے کی پاداش میں مجرم ٹھہراتے ہوئے سزا سنائی تھی ، اُن کو موجودہ آرمی لیڈر شپ نے ٹریبونل کے ذریعے بری کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے اور سپریم کورٹ کے لئے بھی یہ واقعہ ایک چلینج ہے۔پروفیسرسوز نے کہاکہ موجودہ آرمی لیڈرشپ کو اس بات کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے کہ کشمیر میں یکے بعد دیگرے کور کمانڈروں نے کئی اوقات پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ غلط شناخت کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے بے قصور شہریوں کو ہلاک کیا گیا تھا اور فوج کی طرف سے معافی مانگی گئی تھی۔اس موقع پر کشمیر کے لوگوں کو جمہوری اور آئینی اداروں کے ذریعے داد رسی تلاش کرنی چاہئے خاص طور پر کشمیری بار ایسوسی ایشن کو قرار دادپاس کرنے کے بجائے سپریم کورٹ میں کیس درج کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ اب ملک کے انسانی حقوق سے وابستہ ادارے برائے نام ر ہ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے المناک بات یہ ہے کہ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق اس قدر مرعوب ادارہ بن گیا ہے کہ حالیہ بڈگام ہیومن شیلڈ معاملے پر نہ صرف اس ادارے نے کوئی کام نہیں کیا بلکہ اس واقعہ پر اپنی طرف سے کوئی پوزیشن بھی اختیار نہیں کی ۔ میری شکایت کو صرف ریکارڈ میں درج کیا گیا ۔ اب اندازہ لگائے کہ ریٹائرڈ جسٹس ہوڈا نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت میں کیا کام سر انجام دیا ہوگا؟۔ملک کے دانشوروں کی بھاری اکثریت یہ سمجھ رہی ہے کہ بنیادی حقوق کی پامالیوں کے ذریعے جو کچھ بھی ملک میں ہو رہا ہے، اُس سے وزیر اعظم کی حیثیت کو بھی زبردست خسارہ پہنچ رہا ہے۔‘‘