مژھل فرضی انکوانٹر:ملوثین کی سزا معطل

نئی دہلی// مژھل فرضی انکاﺅنٹر میں فوجی عدالت نے عمر قید کی سزا کے حقدار قرار دئے گئے دو افسران سمیت6فوجی اہلکاروں کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات بھی صادر کئے ہیں۔ فوج نے 30اپریل2010کو کپوارہ کے مژھل سیکٹر میں حد متارکہ پر دراندازی کی کوشش کے دوران3پاکستانی جنگجوﺅں کو ہلاک اور ان کی تحویل سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جو کچھ عرصہ بعد ہی بے بنیاد ثابت ہوا۔اس واقعہ میں نادی ہل رفیع آباد بارہمولہ کے رہنے والے تین جواں سال مزدوروں28سالہ شہزاد احمد خان ولد غلام محمد ،17سالہ ریاض احمد لون ولد محمد یوسف اور 22 سالہ محمد شفےع لون ولد عبدالرشید جاں بحق ہوگئے ۔ایک کمسن بچے کا باپ شہزاد احمد بارہمولہ میں ایک چھاپڑی پر میوہ فروخت کرتا تھا اور کبھی کبھار ٹھیکیداروں کے ساتھ مزدوری بھی کرتا تھا ،رےاض احمد لون بارہمولہ میں ہی مستری کا کام کرتا تھا جبکہ محمد شفےع دسویں کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد دماغی طور انتہائی منتشر تھا۔ تینوں27اپریل2010 کو گھروں سے نکلنے کے بعد پر اسرار طور لاپتہ ہوگئے تھے۔بعد میں یہ بات منکشف ہوئی کہ فوج نے ہی اپنے مقامی اعانت کاروں کی مدد سے تینوں نوجوانوں کو کنٹرول لائن پر فوج کے ساتھ بحیثیت پورٹر کام کرنے پر آمادہ کیا اوراس کے عوض بھاری ادائیگی کا لالچ دیا۔ جب تینوں کو مژھل پہنچایا گیا تو فوج کی4راجپوت رجمنٹ سے وابستہ اہلکاروں نے انہیں فرضی تصادم آرائی کے دوران موت کے گھاٹ اُتار دیا۔28مئی کو تےنوں بے گناہ نوجوانوں کے قتل نا حق پراس وقت مہر تصدےق ثبت ہوئی جب میڈیا میں ان کی تصاویر آئیں اور ورثا نے ان کی شناخت کر لی۔ چنانچہ پوری وادی میں پر تشدد ایجی ٹیشن کا آغاز ہوا جو کئی ماہ تک جاری رہی اور احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے قریب120 سے زائدنوجوان جاں بحق ہوگئے۔اسی دوران ایک طرف پولیس نے معاملے کی نسبت ایف آئی درج کرکے تحقیقات شروع کی جبکہ دوسری جانب فوج نے واقعہ کی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کرکے قاتلوں کو سزا دینے کا یقین دلایا۔پولیس تحقیقات کے دوران اس بات کا بھی پتہ چلا کہ فوج کی4راجپوت یونٹ سے وابستہ اہلکاروں نے شہزاد، ریاض اور محمد شفیع کو فرضی جھڑپ میں قتل کردیا اور انہیں پاکستانی جنگجو ثابت کرنے کےلئے نہ صرف ان کے چہروں کو مسخ کیا بلکہ انکی لاشوں کے ساتھ ہتھیار بھی رکھے اور بعد میں تینوں کو کلاروس کے لوگوں کے حوالے کرکے دفنادیاگیا۔15جولائی2010کو پولیس نے معاملے کی نسبت چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سوپور کی عدالت میں چارج شیٹ پیش کیا جس میں11ملزمان پر آر پی سی کی دفعہ302کے تحت الزامات عائد کئے گئے جن میں فوج کے کئی افسران اور اہلکار بھی شامل تھے۔فرضی جھڑپ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کورٹ آف انکوائری کے دوران الزامات ثابت ہونے کے تناظر میں فوج نے ملوث اہلکاروں کےخلاف جنرل کورٹ مارشل کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کےلئے کپوارہ میں قائم فوج کی68ماﺅنٹین بریگیڈ کے بریگیڈئر دیپک مہرا کی قیادت میں8رُکنی کورٹ مارشل تشکیل دیا گیا۔کورٹ مارشل کی کارروائی نومبر2014میں مکمل ہوئی جس دوران واردات کے وقت فوج کی4راجپوت رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسرکرنل ڈی کے پٹھانیہ، کیپٹن اوپندر سنگھ، حوالدار دویندر کمار، لانس نائیک لکھمی، لانس نائیک ارون کماراور ٹیریٹوریل آرمی سے وابستہ رائفل مین عباس حسین کو مژھل فرضی جھڑپ میں تین بے گناہ نوجوانوں کے قتل کا مرتکب پایا گیا۔تمام افسران اور اہلکاروں کے خلاف ایوارڈ حاصل کرنے کےلئے تین عام شہریوں کے قتل، مجرمانہ سازش رچنے اور مہلوکین کو پاکستانی جنگجو قرار دینے کے الزامات درست پائے گئے ۔جنرل کورٹ مارشل کے تحت ان تما م افسران اور اہلکاروں کو نہ صرف عمر قید کی سزا سنائی گئی بلکہ انہیں برطرف کرکے دوران سروس تمام مراعات اور دیگر فوائدسے بھی محروم کردیا گیا ۔ستمبر2015میں اعلیٰ فوجی حکام نے ان کی سزا کی تصدیق کی اور انہیں جیل منتقل کیا گیا۔ کورٹ مارشل کو قریب دو سال کا عرصہ گزر گیااور اب ایک فوجی عدالت نے نہ صرف ان افسران و اہلکاروں کی عمر قید کی سزا معطل کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں بلکہ انہیںضمانت بھی فراہم کی ہے۔ کورٹ مارشل کی کارروائی کے بعد ان اہلکاروں نے آرمڈ فورسز ٹریبونل میں کیس درج کرکے کورٹ مارشل کو چیلنج کیا تھا۔فوجی عدالت میں ملزمان کے کیس کی پیروی کرنے والے میجر آنند کمار اور میجر ایس ایس پانڈے نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ جسٹس وی کے شالی کی سربراہی میں آرمڈ فورسز ٹریبونل کے بنچ نے فوجی اہلکاروں کو سنائی گئی سزا معطل کردی ہے اور انہیں کیس میں ضمانت بھی فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ سزا کی معطلی کا مطلب یہ ہے کہ تمام اہلکار اب جیل سے باہر آئیں گے جبکہ عدالت میں ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری رہے گی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ریاست میں گزشتہ25برسوں سے جاری مسلح جدوجہد کے دوران اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جس میں فوج نے کورٹ مارشل کے ذریعے فرضی انکاﺅنٹر میں ملوث اپنے ہی افسران اور اہلکاروں کو عمر قید کا حقدار قرار دیا تھا۔