مژھل سیکٹر میں آرپار گولہ باری،فوجی اہلکار ہلاک

کپوارہ+راجوری //راجوری اور پونچھ میں حد متارکہ پر اگرچہ گزشتہ روز کی فائرنگ اور گولہ باری کے بعد سکوت طاری ہے تاہم کپوارہ کا مژھل سیکٹر مسلسل آگ اگل رہا ہے اور اس سیکٹر میں پاکستانی فوج کی فائر نگ سے ایک فوجی جوان ہلاک ہوگیا جبکہ راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں کل شدید زخمی ہوا فوجی اہلکاربھی چل بسا۔راجوری اور پونچھ اضلاع میں اگر چہ حد متارکہ پر سکوت طاری تھاتاہم راجوری سے کافی دور شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے مژھل سیکٹرکے کانگڑی پوسٹ علاقہ میںہندوپاک افواج کے گولے آگ برستے رہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق مژھل سیکٹرکے کانگڑی پوسٹ علاقہ میں دیر شام گئے تک شلنگ جاری تھی اور شدید قسم کی گولہ باری کی وجہ سے لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے تھے ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی فائرنگ سے سکھ یونٹ سے وابستہ ستنام سنگھ نامی فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا جس کے بارے میں کہاجارہا ہے کہ وہ پاکستانی سنیپر رائفل کا نشانہ بنا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرے فوجی اہلکار کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے تاہم اس کی تصدیق تاحال نہ ہوسکی۔ادھرجموں صوبہ میں سرحدوں پر سکوت طاری ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مارٹر شل فوج کی ایک گاڑی پر گرنے کے نتیجہ میں ایک اہلکارموقعہ پر ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہواتھا۔ذرائع نے بتایاکہ 54آر آر سے وابستہ اہلکار نائیک پریم سنگھ گزشتہ روز اس وقت موقعہ پر ہی ہلاک اور اس کا ایک دوسراساتھی نائیک ہرویندر کمار یادو زخمی ہوا جب پاکستانی فوج کی طرف سے داغا گیا ایک مارٹر شل ان کی گاڑی پر آن لگا۔اگرچہ ہرویندر کو فوری طور پرہیلی کاپٹر کی مدد سے آرمی ہسپتال منتقل کیاگیاتاہم وہاںاس نے دم توڑ دیا۔بعدازاں دونوں فوجی اہلکاروں کی لاشیں ضلع ہسپتال راجوری لائی گئیں جہاں ڈاکٹروںنے ان کا پوسٹ مارٹم کیا اور پھر انہیں آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے فوج کے حوالے کردیاگیا۔پریم سنگھ کا تعلق ریاست راجستھان جبکہ ہرویندر کاتعلق اترپردیش سے تھا۔خیال رہے کہ پچھلے لگ بھگ دو ماہ سے حد متارکہ پر فائرنگ اور گولہ باری کاسلسلہ جاری ہے جس دوران کئی فوجی اہلکار اور کئی عام شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ گزشتہ روز کی کشیدگی کے بعد اگر چہ حد متارکہ پر سکوت ہے تاہم لوگوں میں بدستور خوف و ہراس پایاجارہاہے ۔دریں اثناء مینڈھر میں بھی سکوت طاری رہاتاہم لوگ خودبھی گھروںمیں ہی محصور رہے اور اپنے مال مویشیوں کو بھی گھروں میں رکھا۔