مُردوں کی تحقیقات میں زندوں کی تاویلات

 با ادب با ملاحظ ہوشیار ، تشریف لا رہے ہیں، وارد کشمیر ہو رہے ہیں ،سرکار کے ثنا خوان،اہل کشمیر کے دشمن ِ جان، افرا سیاب ِ جہان، صاحبِ ایوان، تحقیقات شوپیان پدھار رہے ہیں ۔ویسے تو ہم پروبستان میں قیام پذیر ہیں کیونکہ قریب تیس سال سے ہم پروب اوڑھتے ہیں  بچھاتے ہیں، کھاتے ہیں پیتے ہیں، پہنتے ہیں نچوڑتے ہیں ، یعنی پروب ہماری مرغن غذا بھی ہے اور من بھایا پوشاک بھی ۔اسلئے اسے قدم بڑھا کر آگے چلنے کی فرمایش کی گئی ہے اور امید ہے مزید ایک ہفتے کے اندر ان سے مشرف بہ دیدار ہو سکتے ہیں۔ان کے چہرہ مبارک کا دیدار کرتے ہی  ملک کشمیر میں چراغان ہوگا ، قمقمے روشن ہو ں گے، امیدوں کی کرنیں چار سو پھوٹیں گی کیونکہ تحقیقات کا چوں چوں مربہ اپنی خوشبو پھیلائے ہر کسی کی سانسوں کو معطر کردے گا ۔ زمام اقتدار والے بھی خوشی سے ناچ اٹھیں گے بلکہ قلم دوات سے نیا فتویٰ جاری کردیں گے۔ ارباب اقتار اسے پروب بھی کہتے ہیں جو زیادہ انگریزی جانتے ہیں وہ اسے انیو سٹگیشن پکارتے ہیں اور جو عزت و آبرو کا مقام دیتے ہیں وہ اسے تحقیقات کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اور جب ارباب اقتدار ااس قدر جلیل القدر القاب دیتے ہیں تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے، اتنے با رعب الفاظ سے ہم مرعوب ہوتے ہیں کہ آج نہیں تو کل ملزمین جیل سلاخوں کے پیچھے ہونگے ۔قید با مشقت جھیلیں گے ، یا ہو نہ ہو خون کا بدلہ خون کی وساطت سے کیفر کردار تک پہنچیں گے۔پروب لفظ سے کچھ زیادہ ہی ہم  انصاف کے ہتھوڑے تلے دب جاتے ہیں کیونکہ ہم نتیجہ اخذ یوں کرتے ہیں کہ معاملے کی تہہ تک جایا جائے گا اور اگر پروب کے ساتھ ایف آئی آر کا نمبر بھی ساتھ میں بتایا جائے تو سونے پہ سہاگہ کا احساس ہوتا ہے۔سب کچھ وزن دار معلوم پڑتا ہے ۔ایسالگتا ہے کہ معاملے کا باقاعدہ ایم آئی آر کیا جائے گا ، اسے سائینسی بنیادوں پر کسی مشین کے اندر ڈال کر اسکا کچا چٹھا بیچ بازار بکھیرا جائے گا تب کہیں کسی طاقتور ملزم کے بچنے کی کوئی گنجایش نہیں رہے گی۔مانا کہ ہم اہل کشمیر ہیں کسی بات پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ہر وقت کہتے رہتے ہیں کہ پتھری بل تحقیقات کا کیا ہوا ۔بھائی ہونا کیا تھا سی بی آئی نے رپورٹ دی ، قائد ثانی نے رپورٹ کی کاپی لیکر جائے وقوع پر جاری کردی ، سیاسی ڈگڈگی بجائی، عدالت عظمیٰ نے ملزمین کے سرشتے سے پتہ کیا کہ کیسے آگے بڑھو گے تو جواباً عرض کیا گیا کہ ہم کورٹ مارشل کردیں گے ۔کورٹ مارشل لفظ سن کر ہمارے جسم پسینے سے شرابور ہوگئے کہ اب تو ملزمین کی شامت آہی گئی۔لیکن لیکن ۔۔۔ کوئی جلد بازی کی بات نہیں بڑے سکون سے بات سن لے بھائی۔اب اگر کورٹ مارشل میں کوئی کیس ہی نہیں بنا تو بھلا اس میں فوج کا کیا قصور۔کیس نہیں بنا تو سمجھ لو کہ جمعہ خان ، ظہور دلال اور دوسرے لوگ مرے ہی نہیں بھلا اس میں کوئی کیا کر سکتا ہے ۔پروب بھی ہوئی، تحقیقات بھی ہوئی، انویسٹگیشن بھی ہوا لیکن کسی زندہ آدمی کو ایسے ہی مردہ نہیں مان سکتے ۔یہ اور بات کہ انہی افراد کی موت پر فوج نے اپنی پیٹھ تھپتھپائی، چھٹی سنگھپورہ کے مبینہ قاتلوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کردیا تو اس پر اعزاز بن ہی جاتا ہے وہ لے لیا ۔بھلا فوج ایسے ہی جھوٹ موٹ کوئی کہانی دہرا ئے گی کیا ۔یقین نہ آئے تو مژھل  تحقیقات کو ہی سامنے رکھو ۔الزام لگا  تحقیقات ہوئی، میجر اوپندر سمیت کچھ فوجی افسران کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ۔فوج نے کورٹ مارشل کردیا وہی کورٹ مارشل جس کا نام سن کر آدمی تھر تھر کانپ اٹھتا ہے ، ملٹری کورٹ نے ملزم ٹھہرایا ۔سزا سنائی ۔سزا بھگت رہے تھے کہ پتہ چلا مرنے والے پٹھانی سوٹ پہنے تھے۔یعنی براہ راست خان ڈریس پر نظر دوڑ گئی ۔انہیں کیا پڑی تھی کہ وہی کپڑے پہن لئے جو بندوق بردار پہنتے ہیں ۔فوجی اہلکاروں کو خان سوٹ کے سبب دوربین سے دیکھنے پر آتنک وادی لگے پھر تو گولیاں برسنا حق بجانب تھا ۔ایسے میں پروب کی کیا خطا ۔پروب تو پروب ہے کوئی انسانی آنکھ تھوڑی ہے ۔خیر تحقیقات کی بات چلی تو کیا ۲۰۱۰ کی ہلاکتوں کی  یک نفری کمیشن سے تحقیقات نہیں ہوئی ۔اب بھلا سیلاب کو کوئی کیسے روکے ۔تحقیقاتی فائل سیلاب کی زد میں آگئی ۔ممکن ہے ایسی فائلوں کی آب رواں کے ساتھ مقنا طیسی کشش ہو کہ پانی آیا تو ساتھ ہولئے، یعنی یہ تو عاشق و معشوق کی محبت کی داستان محسوس ہوتی ہے کہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سیر کو نکلے ۔پھر بھلا اس میں ارباب اقتدار کی کیا خطا؟
ابھی حال ہی کی بات ہے کہ گنو پورہ شوپیان میں  پتھر چلے، ملٹری گاڑیوں کے شیے ٹوٹے، جے سی او زخمی ہوگیا پھر گولیاں چلیں ۔دو مرے کتنے ہی زخمی ہوئے ۔فوری طور پروب کا حکم دیا گیا۔ایف آئی آر درج ہوئی۔یعنی تحقیقاتی عمل میں جس قدر وزن ڈالنا تھا وہ تو ڈالا پھر اس میں اعتراض کی کیا گنجائش ؟مگر تحقیقات میں اگر یہ پتہ چلا کہ فوجیوں نے گولیاں ہوا میں داغیں اور سرپھرے  سنگبازوں نے ہوا میں اچھال لیکر سر  یا سینے کو گولیوں کی زد میں لا کھڑا کیا تو اس میں فوجیوں پر کیسا الزام۔اور جب تحقیقات کے میزائل میں افسپا کی بتی جڑی ہو تو آگ لگتے ہی یہ میزائل دور، کہیں بہت دور گرتا ہے کہ عام خام لوگ اسے ڈھونڈتے رہہ جاتے ہیں جیسے کوئی داغ لگا ہو کہ فوراً سرف پاوڈر سے دھل گیا اور پھر کہیں دوسری جگہ کسی اور خون خرابے کی تحقیقات تک کہیں نظر نہیں آتا۔ما نا کہ شوپیان ہلاکتوں پر چار سو ملک کشمیر میں ہارون سے ہیر پورہ تک، کھنہ بل سے کھادن یار تک غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ، سیاسی بیان بازی کے تیر چلے ، ایک طرف خون بہا دوسری طرف آنسو بہے لیکن ہمارے سیاستدان  اس طرح باتیں کرتے ہیں کہ اس غم و اندوہ کے عالم میں بھی ہنسی نکل جاتی ہے ۔ یقین نہ آئے تو ہم بانوئے کشمیر کی اس بیان پر کھلکھلا کر ہنس پڑے کہ ہم شوپیان تحقیقات منتقی انجام تک لے جائیں گے۔انصاف اور امن ایک ہی سکے کے دو چہرے ہیں ۔خود فوجی بھی ہنستے ہوں گے کہ ملک کشمیر کے سیاستدان کس کھیت کی مولی ہیں جو ہمارا پروب کریں اور ہم پر انگلی اٹھائیں ۔اور تحقیقات کر بھی دیں تو کہاں کہاں سے ہماری خلاف ایکشن کی شرطیں پوری کردیں گے ۔وزارت داخلہ تو ہمارے آگے سینہ سپر کئے بیٹھی ہے۔وزارت دفاع تو ہمارے لئے دفاع میں کھڑی ہے ۔کتنے سرشتوں سے فائلیں پاس کروا کر لائیں گے۔نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔جب رادھا  کے گھنگھرو ہماری تحویل میں ہوں تو بھلا بنا چھم چھم کوئی ناچ ہوتا ہے کیا!!
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں ہم کرنی سینا کیوں نہیں ۔ہریانہ کے جاٹ کیوں نہیں ۔ گجرات کے پٹیل کیوں نہیں۔ فوجی گاڑی کیا اسکول بس پر پتھرائو کرنے کے بعد بھی ہم پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔آگے سے گولیاں نہیں چلتیں۔کسی بس کے آگے بانٹ پر باندھا بھی نہیں جاتا۔معروف فلمسازوں اور اداکاروں کی گردنیں اڑانے کے لئے نقدی انعام کی گھوشنا کرنے کے بعد بھی کوئی ہم سے سوال نہیں پوچھتا  بلکہ ٹی وی اسٹڈیو میں بلا کر ہم سے سوال جواب  نہیں ہماری  قیمتی رائے مانگی جاتی۔جاٹوں کے لئے نوکریوں وغیرہ میں آرکشن کی مانگ کو لے کربسیں جلاتے، کاروں کو پھونک دیتے، بڑے بڑے بزنس  ہائوس راکھ میں بدل دیتے پھر مجال کہ کوئی ہم سے آنکھ ملاتا  بلکہ درجنوں خواتین کی عصمت دری پر بھی کسی کے عزت نفس میں جنبش نہ ہوتی ۔مگر ہم تو اہل کاشمر ہیں  اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا اور پتھر کا جواب گولی سے بلکہ  وزیر داخلہ  کے بیان سے شہہ لیکر پھر گولیاں نہیں گنی جائیں گی۔ایسے میں کنول برداروں کو شکایت ہے کہ گولیاں نہ گننے والوں پر ایف آئی آر کیوں ؟ بھائی لوگو انہیں تو افسپا نے گولی کیا ، پیلٹ کیا، بشری حقوق کی پامالی کیا سب کا ساتھ سب کا وکاس نہیں بلکہ سب کا ستیا ناس کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جبھی تو گولی پیلٹ سب کی تعداد روزبروز بڑھتی جاتی ہے ۔کنول بردار بھی نجانے کس مٹی کے مادھو ہیں۔ملک کشمیر میں انہیں شکایت ہے کہ اہل کشمیر ترنگا نہیں لہراتے اور باقی جگہوں پر شکایت ہے کہ باریش لوگ کیوں لہراتے ہیں ۔یوگی راج میں تو انہوں نے کاس گنج کو  ٹاس پٹاس گنج بنا دیا ۔جو ترنگا لہرا رہے تھے ان کے علاقے میں گھس کر اپنابھگوا جھنڈا دکھا کر ترنگے پر اعتراض جتایا  اور نعرہ لگایا   ؎ 
منہ میں گلوری بغل میں پان
ملائو تم چلے جائو پاکستان
پھر ہونا کیا تھا رنگوں کی ہولی کھیلی گئی۔لال لال خون بہا، سرخ سرخ شعلے بھڑکے، سفید سفید پٹیاں سروں اور جسموں پر کس گئیں۔تحقیقات کی آواز بلند ہو گئی ۔ہم تو ان آوازوں سے تنگ آئے ہیں نجانے انہیں کیا شوق چرایا ہے۔خود  سڑسٹھ سابق اعلیٰ افسران کو بھی آئے دن کنول برداروں کی من مانیاں ایک آنکھ نہ بھائیں  ۔کھلے خط میں اس بات کا بر ملا اظہار و احتجاج کیا کہ پردھان سیوک صاحب کچھ تو فکر کیجیے۔ فقط  من کی بات کرنے سے کام نہیں چلے گا کچھ تو جن کی بھی بات کیجیے ۔اقلیتیں تیری سرکار میں نشانہ بن رہی ہیں     ؎
مودی تیرے  وکاس کاریہ میں 
جنتا کٹتی مرتی ہے 
سورگ کے تیرے وعدے پر
جہنم بنی یہ دھرتی ہے
چلتے چلتے یہ دلچسپ خبر کہ مودی سرکار اب کی بار یہ طعنہ لینے کو تیار نہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت  میں اور ابھرتی  عالمی  تجارتی منڈی میں تین کروڑ لوگ فٹ پاتھوں پر بنا اوڑھنا بچھونا راتیں گزارتے  ہیں کیونکہ کبھی آدھی دنیا پر راج کرنے والی برطانوی حکومت کی راجدھانی لندن میں بھی کوئی ساڑھے چار ہزار لوگ ناداری کے سبب فٹ پاتھوں پر سونے کو مجبور ہیں   ؎
کتنی ہے مہربان حکومت عوام پر 
روٹی ابھی پچاس روپے کی نہیں ہو ئی
آفرین صد آفرین!!
(رابط[email protected]/9419009169  )