مولانا غلام نبی وانی کا یادگار خط

 

مورخہ: 28 اکتوبر 1996ء

از مقام: سنٹرل جیل وارانسی (یو۔ پی)

از طرف: اسیر زندان غلام نبی وانی عفی عنہ

عزیز القدر جناب معید الظفرصاحب سلمہ اللہ تعالی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جس اللہ نے بندہ کو پیدا کیا، وہی حقیقی معبود ہے، جس رب کے سوا کسی کے آگے سجدہ کرنا حرام ہے ،وہی رب حقیقی مسجود ہے، جس معبود کے سوا تمام معبود باطل اور طاغوت ہیں، وہی حقیقی مقصود ہے، وہی لا شریک ذات ہے ،جس کا نہ زمین میں، نہ آسمان میں، نہ ملائکہ میں، نہ انبیاء ؑ میں، نہ اولیاء میں، نہ انسانوں میں، نہ جنوں میں، نہ زندوں میں اور نہ مردوں میں کوئی شریک ہے۔ تمام تعریفیں اسی کیلئے ہیں۔
بعدہ بے شمار درود وسلام میرے مرشد کامل، رہبر اعظم، سرور انبیاء ، ختم الرسل، جناب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے کلام میں حلاوت ہے، جن کے پیام میں راحت ہے، جن کی اطاعت میں فلاح ِدارین ہے، جن کی زندگی عالموں کیلئے نمونہ ہے، جن کی پیروی میں خیر دارین وعزت دارین ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
عزیز القدر! آپ کا شفقت نامہ جو آپ نے 3 اکتوبر کو تحریر کیا ہے، راقم نے مورخہ 26 ؍اکتوبر وصول پایا۔ خط دیکھ کر پھر پڑھ کر مسرت ہوئی۔ آپ کی خیر و عافیت سے خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بخیر و عافیت، بصحت و سلامت رکھے (آمین)۔ ناچیز بھی بفضل تعالیٰ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بخیر و عافیت ہے اور ایام اسیری گزار رہے ہیں۔مبارک اس اقبال مند خاتون کو جس نے آپ جیسے سعادت مند بیٹے کو جنم دیا۔ مبارک اس خوش نصیب باپ کو جس نے آپ جیسے فرض شناس بیٹے کا باپ ہونے کا شرف حاصل کیا ہے۔
میرے عزیز! آپ نے میرے دل کو راحت پہنچائی، خوشی اور مسرت عطا کی۔ آپ میرے عزیز شاگرد ہیں مگر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ خط لکھ کر آپ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو خوشحال زندگی بنائے۔ آپ کے والدین کو آپ کی پر مسرت زندگی (کی) بہار دیکھنے کا لطف حاصل ہو۔
میرے عزیز! میری دنیا و آخرت کا سرمایہ میرے شاگرد ہیں جو میرے بعد تعلیمی مشن کو برابر چلاتے رہتے ہیں۔ آپ درس گاہ جاتے ہیں، مسرت ہوئی۔ فاروق صاحب کی بے لوث خدمت سے درس گاہ میں ہر وقت بچوں کی صحیح تربیت ہوئی۔ اب آپ میرے درس گاہ میں بحیثیت ایک استاد فرائض انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالی ٰآپ کو نعم البدل عطا کرے۔ آمین
زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ قانون قدرت ہے، کبھی کوئی شاہ اور کبھی گدا، کبھی خوشی اور کبھی غم۔ اسی طرح اداروں میں کبھی شباب ہوتا ہے اور کبھی بڑھاپا۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنا کام کریں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہے اور درس گاہ میں بچوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی۔ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔فاروق احمد قاصد مع والدین، رفیق صاحب بھی میرا عرض سلام قبول کریں ساتھ ہی التماس دعا بھی ہے۔آپ اپنے والد جناب عبد الغفار صاحب کو میرا عرض سلام گزارش کریں اور دعا کرنے کی درخواست بھی۔باقی آئندہ۔
آپ کا اسیر زندان استاد*
اناالعاصی غلام نبی وانی عفی عنہ