!موسم ِ گرما اورنظامِ ہاضمہ کے مسائل اگر نکسیر پھوٹ جائے تو کیا کریں؟

عظمیٰ ویب ڈیسک

موسم گرما میں جہاں جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کے باعث صحت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، وہیں مرغن غذائیں بھی نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا سبب بنتی ہیں۔اگر نظامِ ہاضمہ متاثر ہو تو یہ نیند کی کمی، تھکاوٹ اور غائب دماغی کی وجہ بنتا ہے۔اس لیے موسم گرما میں کھانے پینے کا خیال رکھنا پڑتا ہے، ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ ہلکی پھلکی غذائیں کھائی جاتی ہیں، جن میں پھل اور سبزیاں شامل ہوتی ہیں، جو بالکل درست ہے۔گرمیوں میں ایسے کھانوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو صحت کے ساتھ آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو بھی متوازن رکھنے میں مدد فراہم کریں۔درج ذیل ایسے ہی چند غذائی اجزاء ہیں جن کا انتخاب کرکے گرمی کے باعث جسم میں ہونے والی پانی کی کمی سے بچاجاسکتا ہے۔ موسم گرم ہو تو کھیرے بے حد فائدہ مند ہوتے ہیں جو جسم میں فوری طور پر ٹھنڈک پیدا کرتے ہیں اور جسم کے درجہ حرارت میں کمی لاتے ہیں۔ اسے سلاد یا پھر اس کے جوس میں لیموں اور ادرک ملا کر بھی پیا جا سکتا ہے۔ گرمیوں کا خاص پھل تربوز بھی بے شمار فوائد سے بھرا ہوا ہے۔ یہ جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا اور اس میں میگنیشیئم، پوٹاشیئم، فائبر اور وٹامن بی ہوتا ہے۔ خربوزہ یا گرما سخت گرمی کے موسم میں کھانے والے پھل ہیں جو آپ کے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتے۔ دہی کا استعمال کر کے بھی گرم موسم میں پانی کی کمی اور دیگر مسائل سے بچا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ اس میں موجود کیلشیئم کی بھرپور مقدار ہڈیوں کے لیے بھی بہت مفید ہوتی ہے۔دہی کو لسی یا پھر آم، اسٹرابیری اور دیگر پھلوں کے ساتھ کھا کر یا جوس بنا کر بھی اس کے فوائد دگنے کیے جا سکتے ہیں۔ ناریل کا پانی بھی جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا اور یہ ہاضمے کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔ ناریل پانی کی ہی طرح، تازہ لیموں پانی بھی تازگی اور وٹامن سی سے بھرپور اور صحت کے لیے مفید ہے۔ آپ اس کو میٹھا، نمکین، ایک چٹکی کالے نمک یا زیرے کے پاؤڈر کے ساتھ پی سکتے ہیں۔ اگر چاہئے تو آپ اس میں پودینے کا جوس بھی شامل کرسکتے ہیں۔اس کو تیز ٹھنڈا کر کے پیئں تاکہ گرمی کے توڑ کے ساتھ ساتھ جسم میں وٹامن سی کی مقدار بھی مناسب رہے۔

ادھر یہ عام مشاہدہ ہے کہ بیٹھے بٹھائے کچھ لوگوں کی ناک سے اچانک خون بہنا شروع ہوجاتا ہے، جسے عرف عام میں نکسیر پھوٹنا بھی کہتے ہیں، یہ ایک عام بیماری ہے جس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی۔عموماً 6 سے 10 برس کی عمر کے بچوں، 50 سے 80 سال کے افراد اور حاملہ خواتین کو اس کی شکایت عام رہتی ہے، جبکہ خون جمنے کی خرابی کے حامل افراد، وہ لوگ جو ایسی دوائیں لیتے ہیں جو خون جمنے میں معاون ہوتی ہیں، نزلہ، الرجی یا سائنوسائٹس میں مبتلا لوگوں کے ناک سے خون آنے کا بھی زیادہ امکان ہوتا ہے۔

اس کی دو اقسام ہیں پہلی ناک کے اگلے حصے سے خون بہنا اور دوسری ناک کے پچھلے حصے سے نکسیر کا پھوٹنا جو کہ زیادہ خطرناک ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ناک کے اگلے حصے سے پھوٹنے والی نکسیر ناک کی درمیانی جھلی جو نتھنوں کو الگ کرتی ہے اس سے پھوٹتی ہے۔ اس میں بہت ساری خون کی رگیں ہوتی ہیں۔ چہرے پر چوٹ یا ناخن لگنے سے بھی نکسیر پھوٹ سکتی ہے۔زیادہ خطرناک سمجھی جانے والی دوسری قسم جس میں ناک کے پچھلے حصے کی گہرائی سے خون بہتا ہے لیکن بہت کم حالات میں پھوٹتی ہے۔ اکثر بڑی عمر کے افراد کو بلڈ پریشر میں اضافہ یا چہرے پر چوٹ آنے کی صورت میں ناک کے پچھلے حصے سے نکسیر بہتی ہے۔ہیومڈیفائر (humidifier) خشک ہوا میں نمی برقرار رکھتے ہیں، بصورت دیگر ناک اور گلے کی ہوا کی نالیاں خشکی سے سوج جاتی ہیں۔ ماہرین ناک کے خشک حصوں کو نم کرنے اور خشک ہونے سے بچانے کے لیے سیلائن (نمکین

پانی) نیزل اسپرے استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں۔ان کے مطابق سیلائن اسپرے کے استعمال سے ناک کے خشک ہونے کی شکایت میں کمی آسکتی ہے، اس سے الرجی کی علامات اور بہتی ہوئی ناک میں بھی بہتری آسکتی ہے۔تمباکو نوشی سے ناک میں جلن اور خشک ہونے کا امکان ہوتا ہے اس لیے تمباکو نوشی کم کرنے یا مکمل طور پر چھوڑنے کی کوشش کریں۔جن افراد کو نکسیر پھوٹنے کی شکایت ہو وہ پانی میں گھلنے والا جیل یا پیٹرولیم جیلی کی ایک تہہ کو روئی کی مدد سے نتھنوں کے اوپر لگائیں، اس سے بھی خشکی سے بچا جاسکتا ہے۔اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ زیادہ سے زیادہ پانی پیئے۔نکسیر پھوٹنے کے فوراً بعد نیم کے پتے یا اجوائن پیس کر سر میں لگانا بھی خاصا مفید ثابت ہوتا ہے۔رس دار پھل، دودھ، دہی اور پانی والی ٹھنڈی ترکاریاں جیسے لوکی، شلجم اور مولی وغیرہ کھائیں۔اس کے علاوہ ناک میں خارش کرنے سے پرہیز کریں، ایسپرین کا استعمال کم سے کم کریں، اس سے خون پتلا ہوتا ہے اور نکسیر کا ذریعہ بنتا ہے۔