موسم خشک مگر ابر آلود، کئی مقامات پر شبانہ درجہ حرارت مسلسل منفی

سری نگر// وادی کشمیر میں خشک موسم کے بیچ بیشتر مقامات پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے درج ہوا ہے۔
 
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کی پیش گوئی کے مطابق جموں وکشمیر میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور اس دوران کہیں کہیں ہلکے درجے کی بارش بھی ہوسکتی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں وادی میں 21 فروری تک موسم خشک رہنے کی توقع ہے۔
 
ادھر وادی سری نگر اور کپوارہ کو چھوڑ کر وادی کے باقی علاقوں میں شبانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ریکارڈ ہوا ہے۔
 
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی1.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سری نگر میں 18 دسمبر کو رواں موسم کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درج حرارت منفی7.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت منفی7.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت منفی4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی2.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
لداخ یونین ٹریٹری کے قصبہ دراس جو سائبیریا کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین علاقہ ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی18.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں کم سے ک درجہ حرارت منفی 14.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور ضلع لیہہ میں منفی13.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
 
دریں اثنا وادی میں جمعے کے روز بھی موسم صبح سے ہی خشک رہا تاہم بادلوں اور آفتاب کے درمیان دن بھر سنگھرش جاری رہا۔
 
دونوں کے بیچ اس کشمکش کے دوران آفتاب کئی بار بادلوں کی اوٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔وادی میں بیس روزہ چلہ خورد کا دور اقتدار اختتام پذیر ہونے والا ہے تاہم امسال اس نے بھی چالیس سالہ چلہ کلان کی طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا۔