موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ گذشتہ مہینہ انسانی تاریخ کا گرم ترین ستمبر قرار

 یو این آئی

بروسیلز//موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مسلسل سامنے ا? رہے ہیں اور اب سائنسدانوں نے گزشتہ مہینے کو انسانی تاریخ کا گرم ترین ستمبر قرار دیا ہے۔یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے جو انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا ہے۔درحقیقت ستمبر 2023 میں عالمی درجہ حرارت اتنی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا جس نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا۔اس سے قبل جون، جولائی اور اگست بھی گرم ترین مہینے قرار دیے گئے تھے، خاص طور پر جولائی کو انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا۔یونین کے موسمیاتی ادارے Copernicus Climate Change Service (سی سی سی ایس) کے مطابق ستمبر کے دوران درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا جو دنگ کر دینے والا ہے۔

 

جولائی اور اگست دونوں مہینوں میں درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا۔سائنسدانوں کی جانب سے عرصے سے انتباہ کیا جا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا ضروری ہے۔ابھی ایسا مستقل طور پر تو نہیں ہوا مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر درجہ حرارت کے اس حد تک پہنچنے سے عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں دنیا میں موسم گرما کیسا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی جو کچھ ہمیں غیرمعمولی لگ رہا ہے وہ ایک دہائی کے دوران عام معمول بن جائے گا۔ستمبر کے دوران عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت 16.38 ڈگری سینٹی گریڈ رہا اور اس طرح ستمبر 2020 میں قائم ہونے والے ریکارڈ کو 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے فرق سے ٹوٹ گیا۔سائنسدانوں کے مطابق عموماً درجہ حرارت میں اضافے کا فرق معمولی ہوتا ہے۔