موسمیاتی تبدیلی:امریکہ نے موقف میں تبدیلی کا اشارہ دے دیا

پےرس //فرانس کے صدر امینیول میکخواں نے کہا ہے کہ وہ پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کا 'احترام' کرتے ہیں لیکن فرانس موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے پر قائم ہے۔پیرس میں جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر کا کہنا تھا 'ہم جانتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہمارے اختلافات کیا ہیں؟'ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ اس سمت میں آگے بڑھا جائے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ اس حوالے سے اپنا موقف تبدیل کر سکتا ہے، تاہم انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔امریکی صدر کا کہنا تھا 'پیرس معاہدے کے حوالے سے کچھ ہو سکتا ہے۔'خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سنہ 2015 سے باہر نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نیا سمجھوتہ کرنے کی سمت میں آگے بڑھیں گے جس سے امریکی صنعت کاروں کا نقصان نہ ہو۔فرانسیسی صدر نے کہا کہ یہ اچھا وقت ہے جب موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور دونوں رہنما اس مسئلے پر بات چیت کریں کہ وہ دوسرے مسائل جیسا کہ شام میں جنگ بندی اور تجارتی شراکت کے معاملے پر مل کر کیسے کام کر سکتے ہیں۔امینیول میکخواں نے کہا 'ہمارے درمیان اختلافات ہیں، ٹرمپ نے انتخابات کے دوران اپنے ووٹروں سے کچھ وعدے کیے اور میں نے بھی کیا ان کا اثر دوسرے مسائل پر بھی پڑنا چاہیے؟ نہیں۔'امینیول میکخواں اور ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی اور خاص طور پر شام اور عراق میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی جنگجوتنظیم کے خلاف لڑنے کے اپنے اپنے ممالک کی مشترکہ کوششوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ان کا مزید کہنا تھا 'امریکہ عراق کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر شامل رہا ہے اور میں اس علاقے میں امریکی فوجیوں کی شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرانس کے دو روزہ دورے پر پیرس پہنچے ہیں۔ اس سے پہلے فرانس کے صدر امینیول میکخواں نے ایک سرکاری فوجی تقریب میں ان کا خیر مقدم کیا۔