مودی کی پالیسی کا توڑ صرف مزاحمت

 سرینگر//وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی کشمیریوں کو سرنڈر کرانے کی پالیسی کے خلاف’’ مزاحمت‘‘ کو موثر ہتھیار قرار دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے دانشوروں اور قلمکاروں سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تجاویز اور مشورے دینے کے برعکس’’تحریک‘‘ کو الجھن کا شکار نہ بنائیں۔ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے 1993 جیسے’’ عظیم اتحاد‘‘ کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بڑے ہونے کا دعویٰ بے معنی ہے۔ سرینگر صدر کورٹ میں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی طرف سے بشری حقوق کے علمبردار ایڈوکیٹ جلیل اندرابی کی22ویں برسی پر منعقدہ سمینار’’حق خوداردایت اور وادی میں بشری حقوق کی مسلسل پامالیاں‘‘ کے موضوع پر محمد یاسین ملک نے کہا کہ حکومت ہند کی سوچ ہے کہ کشمیری مزاحمتی لیڈرشپ اور لوگوں کو کسی طور پر خود سپردگی کرنے کیلئے مجبور کیا جائے،اور اسکا جواب مزاحمتی سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ملک نے کہا کہ آپریشن آل آوٹ اصل میں کشمیریوں کو سرنڈ کرانے کی پالیسی ہے۔انہوں نے کہا’’این آئی اے کی طرف سے مزاحمتی لیڈرشپ کے خلاف کارروائی اور مرکزی حکومت کشمیریوںکو سرنڈر کرانا چاہتی ہے،اور اسکا جواب مزاحمت ہے،اور ہم  وہی کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگر کشمیریوں کو اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے،اور سرنڈر کا جواب دینا ہے،تو  لوگ مزاحمت کریں۔ملک نے کہا’’ اگر یہ پالیسی کامیاب ہوگئی تو مرکز میں مستقبل میں آنی والی حکومتیں کانگریس یا دائیں بازوں کی جماعتیں بھی اسی پالیسی پر گامزن ہونگی،اور اگر انکی پالیسی کو مزاحمت کر کے ناکام بنادیا جاتا ہے،تو آئندہ بھی یہ پالیسی ناکام سمجھی جائے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ1989سے قبل یہ تاثر تھا کہ قوم مزاحمت نہیں کرسکتی،تاہم اشفاق مجید وانی نے اس کا جواب دیا۔ملک نے کہا کہ قربانیاں دینے کے بعد ایک مرتبہ پھر’’بھارت نے یہ تاثر دیا،کہ ہم نے کشمیریوں کو زیر کیا،اور فتح حاصل کی،تاہم برہان  وانی نے وردی پہن کر مزاحمت کی،اور یہ جواب دیا کہ ابھی مزاحمت زندہ ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ حکومت ہند کی یہ سوچ ہے کہ جب تک لوگوں پر خوف و ہراس قائم نہ کیا جائے،تب تک ریاست کا دبدبہ لوگوں پر قائم نہیں ہوسکتا‘‘۔اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا’’کل اتحاد چاہے،یا نہیں،مگر آج اتحاد کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو لوگ اس اتحاد کے خلاف ہیں’’وہ  مودی کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت کشمیر میں از خود حالات مخدوش بنانے کی کوشیں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا’’مرکز میں برسر اقتدار آنی والی ہر حکومت کو فکر لگی رہتی تھی کہ کشمیر کی صورتحال ٹھیک رہے،مگر موجودہ سرکار1947کے بعد واحد ایسی حکومت ہے،جو چاہتی ہے کہ کشمیر سلگتا رہے‘‘۔ان کا کہنا تھا حکومت ہند نے از خود۔پنڈت کالونیوں،فوجی کالونیوں اور نقل مکانی کرنے والوں کو ریاست کے پشتینی باشندے ہونے کے اسناد دینے کا معاملہ اٹھایا،جس کے بعد مزاحمتی قیادت میں اتحاد ہوا،تاکہ ان پالسیوں کے خلاف ایک ہی پروگرام سامنے آئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بار سمیت دیگر مزاحمتی جماعتوں سے مشاورت بھی کی گئی۔فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ اس دوران حزب کمانڈر برہان وانی جان بحق ہوئے،اور مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مل کر پروگرام دیا۔ دانشوروں اور قلمکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے ملک نے کہا کہ ماضی میں دانشوروں کے اندر’’تحریک‘‘ کیلئے رومانوی لگائو تھا۔ انہوں نے کہا کہ آجکل دانشور،سیول سوسائٹی ممبران،قلمکار اور چھوٹی جماعتوں کے چیئرمین یہ تاثر دیتے ہیں کہ مزاحمتی قیادت کے پاس ہڑتالوں کے بغیر کوئی پروگرام نہیں ہے،مگر آج تک انہوں نے اس سلسلے میں کوئی بھی مشورہ یا تجویز پیش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ قلم اٹھا کر یہ قلمکار تحریک کے ٹھیکیدار بنتے ہیں،تاہم گھر میں بیٹھ کر بھی وہ کوئی تجویز پیش نہیں کرتے،اور آج تک ہم نے کسی بھی ایسے قلمکار اور سیول سوسائٹی ممبر کی طرف سے ایک لفظ میں نہیں دیکھا کہ ہم آگے کیا کریں‘‘۔انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کو اس پیری میں بھی مسلسل خانہ نظر بند رکھا جاتا ہے،بچوں کو دہلی طلب کیا گیااور فرزند نسبتی سمیت انکی جماعت کے بیشتر کارکنوں کو تہاڑ جیل بھیج دیا گیا،جبکہ اسی طرح سے میرواعظ بھی نظر بند رہیں اور مجھے بھی آئے دن خانہ و تھانہ نظر بند رکھا جاتا ہے۔ ملک نے کہا کہ گزشتہ برس این آئی اے نے مزاحمتی خیمے کے خلاف کارروائی عمل میں لائی توقلمکار و دانشور ایسے غائب ہوئے،جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔بار جنرل سیکریٹری کی طرف سے سماجی میڈیا پر درج بیان پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملک نے کہا’’اگر بار کی سوچ یہ ہے تو،پھر ہمیں کیوں بے عزتی کیلئے یہاں دعوت دی گئی‘‘۔ شہید انصاف کو ایک بہادر انسان اور تحریک آزادی کا عظیم سالار قرار دیتے ہوئے ملک نے کہا کہ وہ کشمیر کے سچے سپوت تھے، جنہوں نے ظلم و جبر کی قوتوں کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے راہ عزیمت میں جان کی بازی لگادینے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ شہید انصاف ایک کامیاب وکیل تھے لیکن انہوں نے اپنے مستقبل کی فکر کرنے کے بجائے کشمیریوں کی حالت زار کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کو ترجیح دی اور یہی کرتے ہوئے اپنی جان کی بازی بھی لگادی ۔شہید انصاف کی شہادت اور جدوجہد کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ ایڈوکیٹ جلیل اندرابی جیسے شہداء قوموں کا افتخار ہوا کرتے ہیں اورکشمیر کی تاریخ میں اس عظیم سپوت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس موقعہ پر تحریک حریت کے نومنتخب چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے بھی اتحاد کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ آج تک ہم نے کافی بار اتحاد کی کوشش کی۔انہوں نے کہا’’1993کے بعد حریت کانفرنس کی شکل میں تمام تنظیموں نے اتحاد کیا،تاہم10برسوں کے بعد کچھ مشکلات اور کچھ غلطیوں کی وجہ سے وہ اتحاد برقرار نہیں رہا،اور دو لخت ہوا‘‘۔ صحرائی نے چھوٹے بڑے گروپوں اور جماعتوں کے دعوئوں کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت’’اتحاد ثلاثہ‘‘ قائم ہے۔صحرائی نے کہا کہ اتحاد تمام لوگوں کیلئے لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ جو وعدے کئے گئے،انکی برخلافی کی گئی،جس کی وجہ سے منصفانہ جدوجہد شروع کی گئی۔صحرائی نے تاہم کہا کہ حق خود ارادیت کیلئے جس طرح کے اتحاد کی ضرورت تھی،وہ نہ ہو سکا۔ان کا کہنا تھا کہ قوم اور مزاحمتی لیڈر شپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہے کہ انکی وجہ سے ’’تحریک‘‘ کو نقصان نہ پہنچے۔ صحرائی نے1993کے طرز پر جامع و عظیم اتحاد کی وکالت کی۔ صحرائی نے کہا کہ ہم میں اتحاد ہے،تاہم اس میں تھوڑی کمزوری ہے اور ہمیں اس کو مضبوط بنانا چاہیے،کیونکہ ہمارا’’دشمن‘‘ بھی مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈرشپ سے اگر لغزش ہوتی ہے،تو اس بارے میں مطلع کیا جانا چاہے۔انہوں نے واضح کیا کہ قربانیاں صرف لیڈر ہی نہیں دیتے بلکہ عام لوگ بھی قربانیاں پیش کرتے ہیں،اور یہ قربانیاں مقدس ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں اختلاف باعث رحمت ہے،تاہم اس کو مخاصمت کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہے۔صحرائی نے ایڈوکیٹ جلیل اندرابی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا۔سمینار کے دوران ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے بار جنرل سیکریٹری کی اس بات کو مسترد کرتے ہوئے ذاتی بیان قرار دیا۔میاں عبدالقیوم نے واضح کیا کہ بار صدر کے بیان کے بغیر کسی بھی سیکریٹری کا بیان بار کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے کہا’’ہم نے مزاحمتی لیڈر شپ کو تسلیم کیا ہے‘‘،جبکہ بار آئین کے تحت حق خودارادایت کے موقف پر آج بھی قائم ہے۔بار صدر نے ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کی22برسی پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کی۔سمینار سے لبریشن فرنٹ حقیقی کے چیئرمین جاوید احمد میر،ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ ،ایڈوکیٹ جی این شاہین،محمد یاسین عطائی،ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگا،ایڈوکیٹ محمد اشرف بٹ،ایڈوکیٹ بشیر صادق،ایڈوکیٹ ارشد اندرابی،پروفیسر نور محمد بلال،ڈاکٹر حمیدہ نعیم،زیڈ جی محمد اور میر واعظ کے نمائندے مولوی غلام نبی سمیت دیگر وکلاء نے بھی خطاب کیا،جس کے دوران مرحوم ایڈوکیٹ جلیل اندرابی کو خراج عقیدت ادا کیا گیا۔