مودی کی تقریرمثبت اثر پیدا نہ کرسکی: سوز

سرینگر//سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز نے کہاہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے کشمیر میںجس انداز سے تقریر کی اس میں کچھ نیا نہیں تھا اور اُس سے یہاں امید کی کوئی کرن نمودار نہیں ہو ئی۔سوز نے کہاکہ وزیراعظم کی تقریر کا لب و لہجہ وہی تھا جو عام طور پر ہوتا ہے۔اگر وکاس  Development) سب چیزوں کا علاج ہوتا تو پھر مودی  نے اس بات کا احساس نہیں کیا کہ جو نوجوان واویلا کرتے ہیں ،سڑکوں پر نکل آتے ہیں یا اُن میں سے کچھ بندوق اٹھاتے ہیں، اُن کے دماغ میں کوئی پریشانی ہو گی اور اُس پر یشانی کو دیکھنا اور سمجھنا چاہئے۔ جب تک اُن کے ذہن تک رسائی نہیں ہوگی تب تک وہ جھگڑا کرتے رہیںگے ۔سوز نے کہاکہ مودی نے اس بات کا نوٹس بھی نہیں لیا ہے کہ فوج کے کئی سینئر جنرل اسی خیال کے ہیں کہ کشمیر میں گولیوں کی بارش سے اور نوجوانوں کو مارنے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا البتہ کشمیر کے سیاسی مسئلے پر سنجیدہ گفتگو کرنے سے اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ادھر وزیر اعلیٰ نے ایجنڈا آف الائنس کا ذکر باربار کیا اُس کے بارے میں بھی انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ اس طرح ان کی یکطرفہ تقریر ہوئی ، اُس سے ظاہر ہوا کہ تینوں خطوں کی بعض ضرورتوں کا اُن کو احساس ہے ۔ مگر اُن کو ریاست کی وحدت کو اجاگر کر کے کشمیر کی سیاسی گتھی کو سلجھانے کی طرف توجہ نہیں ہے۔‘‘