مودی کا طلبہ کوذہنی تناؤ سے دور رہنے کا مشورہ

نئی دہلی//وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو طلبہ کو امتحان سے پہلے ذہنی تناؤ سے دور رہنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ امتحان زندگی کے نہیں صرف کلاس کے امتحان ہیں۔مسٹر مودی نے یہاں تال کٹورا اسٹیڈیم میں ملک اور غیر ملک سے آئے دو ہزار طلبہ ،سرپرستوں اور اساتذہ کے ساتھ ‘امتحان کے بارے میں بات چیت 2.0’ میں حصہ لیتے ہوئے کہا ‘کسوٹی بری نہیں ہوتی لیکن ہم اس کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں سب کچھ اس پر منحصر کرتا ہے ۔آپ اپنے ریکارڈ سے مقابلہ کیجئے اور ہمیشہ اپنے ریکارڈ توڑیے ۔اس سے آپ کبھی مایوس نہیں ہوں گے اور تناؤ میں نہیں رہیں گے ۔’’مسٹر مودی نے بچوں کو ناممکن ہدف بنانے سے بچنے اور رفتہ رفتہ ہدف کو بڑا کرنے کی صلاح دی۔انہوں نے کہا‘‘مقصد ایسا ہونا چاہئے جو پہنچ میں تو ہو لیکن پکڑ میں نہ ہو۔جب ہمارا ہدف پکڑ میں آئے گا تو اسی سے ہمیں نئے مقصد کی تحریک ملے گی۔’’ انہوں نے وقت کے اچھے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا‘‘جو کامیاب لوگ ہوتے ہیں،ان پر وقت کا دباؤ نہیں ہوتا ۔ایسا اس لئے ہوتاہے کیونکہ انہوں نے اپنے وقت کی قیمت سمجھی ہوتی ہے ۔ ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں مسٹر مودی نے کہا‘‘اپنے آپ کو ہمیشہ یہ یاد دلاتے رہئے کہ آپ زندگی کا امتحان نہیں دے رہے ہیں۔آپ صرف ایک کلاس کا امتحان دے رہے ہیں۔’’ وزیراعظم نے کہا کہ کسوٹی کستی ہے ،کسوٹی کوسنے کے لئے نہیں ہوتی۔انہوں نے سرپرستوں کو بچوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ‘‘ان کا مثبت رویہ ،بچوں کی زندگی کی بہت بڑی طاقت بن جاتا ہے ۔ماں باپ اور اساتذہ کو بچوں کا باہمی موازنہ نہیں کرنا چاہئے ۔اس سے بچوں پر برااثر پڑتا ہے ۔ہمیں ہمیشہ بچوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔اگر ہم اپنے آپ کو کسوٹی کے ترازو پر جھونکیں گے نہیں تو زندگی میں ٹھہراو آجائے گا۔’’ انہوں نے طلبہ کو زندگی میں آگے بڑھتے رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ زندگی کا مطلب ہی ہوتاہے حرکت ،زندگی کا مطلب ہی ہوتا ہے خواب۔وزیراعظم نے ہندی کے ممتاز شاعر گوپال داس نیرج کی ایک نظم کی چند سطریں ‘کچھ کھلونوں کے ٹوٹنے سے بچپن نہیں مرا کرتاہے ،پڑھتے ہوئے کہا‘‘اس میں سب کے لئے بہت بڑا پیغام چھپا ہے کہ مایوسی میں ڈوبا سماج،خاندان یا شخص کسی کا بھلا نہیں کرسکتا ہے ،توقع اور امیدرفتار کے لئے لازمی ہوتی ہے ۔