مودی کا انقلاب جو نظر نہیں آتا،اقتدار کے 3برس مکمل ہونے پر حصولیابیاں

نئی دہلی //مودی حکومت اپنے اقتدار کے 3برس ایک ایسے وقت میں پورے کر رہی ہے جب وہ چند ہفتے قبل اتر پردیش کی ریاست میں سب سے بڑے صوبائی انتخاب میں زبردست کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت آئندہ ہفتے اقتدار کے تین برس پورے کر رہی ہے۔ حکومت نے اپنی مختلف وزارتوں کے ذریعے ان گزرے ہوئے تین برسوں میں حکومت کی کارکردگی اور کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف شہروں میں سیکڑوں پریس کانفرنسز کا اہتمام کر رکھا ہے۔ہم نوا اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر حکومت کی کارکاردگی اور مودی کی مقبولیت کے بارے میں روزانہ طرح طرح کے سروے اور جائزے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان جائزوں سے لگتا ہے کہ پورا ملک مودی کے ترانے گا رہا ہے اور بیشتر لوگ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔مودی حکومت اپنے اقتدار کے تین برس ایک ایسے وقت میں پورے کر رہی ہے جب وہ چند ہفتے قبل اتر پردیش کی ریاست میں سب سے بڑے صوبائی انتخاب میں زبردست کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ اس کامیابی کے بعد بی جے پی کی مقبولیت بنگال ، اڑیسہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مودی 2014 میں ترقی اور ایک بہتر گورننس کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے۔ ان تین برس میں حکومت کے کام کرنے کے طریقے میں یقیناً بہتری آئی ہے۔ حکومت پر مودی کا مکمل کنٹرول ہے۔ہر جگہ صرف مودی کی تصویریں نظر آتی ہیں۔ سبھی اہم فیصلوں میں ان کا دخل ہوتا ہے۔اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے 'سووکچھ بھارت ' ، 'میک ان انڈیا' ، 'بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ ' ' جن دھن ' اور اسطرح کی متعدد اسکیمیں اور پروگرام شروع کیے۔ ان میں کچھ اسکیمیں اور پروگرام کامیاب رہے اور کچھ صرف نعرے بن کر محدود ہو چکے ہیں۔ مودی اقتدار سے پہلے 'بڑے خواب '' دیکھنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اس تین برس میں ان کی حکومت نے کوئی بڑا پروجکٹ ، بڑا منصوبہ یا پروگرام نہیں شروع کیا جو ملک میں تیز رفتار ترقی کا ضامن ہوتا۔ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح گھٹ کر اس وقت7 فیصد پر آ گئی ہے۔ اگر ترقی کی شرح نکالنے کے لیے 2014 کے فارمولے پرعمل کریں تو یہ شرح 7 فیصد سے بھی کہیں کم ہے۔ پانچ برس پہلے ملک میں ہر برس 7 سے 8 لاکھ نئی ملازمتیں بنتی تھیں۔ پچھلے برس یہ گھٹ کر سوا لاکھ پر آگئی ہے۔ اس برس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہزاروں نوکریاں ختم ہونے والی ہیں۔ آئی ٹی ، ای کامرس اور بینک کاری میں آئندہ تین برس کے دوران لاکھوں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ملک میں حکومت کی تمام دعوں کے باوجود روزگار کے نئے مواقع نہیں بن پا رہے ہیں۔ معیشت میں اعتماد اتنا کم ہے کہ بینکوں سے قرض لینے کی شرح اتنی نیچے آ گئی ہے جتنی پچھلے ساٹھ برس میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔حکومت نے حال میں سڑک ، بندرگاہوں اور نئے ہوائی اڈوں کی تعیر اور توسیع کے کچھ پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔ مودی حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ جس وقت وہ اقتدار میں آئی اس وقت بین الاقوامی بازار میں پیٹرول 107 ڈالر فی بیرل تھا اور یہاں 71 روپے فی لیٹر بکتا تھا۔ اب بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول 48 ڈالر کا ہے اور انڈیا میں 68 روپے میں بکتا ہے۔ اس سے ہر برس حکومت کوکچھ کیے بغیر تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔بینکوں کی حالت یہ ہے کہ دو برس قبل بڑی بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے یہاں پھنسے ہوئے قرضوں کی جو مالیت تین لاکھ کروڑ روپے تھی وہ اب سات لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں پر پابندی لگائے جانے کے بعد پرانے نوٹوں کی کتنی رقم جمع ہوئی۔ملک کے تعلیمی ادارے اس وقت بحران سے گزر رہے ہیں۔
٭ اقتصادی ترقی کی شرح گھٹ کر اس وقت7 فیصد 
٭ 5 برس پہلے ہر برس 7 سے 8 لاکھ نئی ملازمتیں بنتی تھیں
٭ پچھلے برس یہ گھٹ کر سوا لاکھ پر آگئی 
٭ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہزاروں نوکریاں ختم ہونے والی ہیں
٭ آئی ٹی ، ای کامرس اور بینک کاری میں آئندہ تین برسوں کے دوران 
لاکھوں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی
٭ حکومت کے تمام دعوں کے باوجود روزگار کے نئے مواقع نہیں بن پا رہے ہیں
٭ بینکوں سے قرض لینے کی شرح اتنی نیچے آ گئی ہے جتنی پچھلے 60برسوں میں کبھی نہیں تھی
٭ 2 برس قبل بڑی بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے یہاں پھنسے ہوئے 
قرضوں کی جو مالیت 3لاکھ کروڑ روپے تھی وہ اب 7لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گئی 
٭ کشمیر اور ماؤ نوازوں کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہو چکا ہے
٭ ہندوتوا کی ایک نئی لہر چلی ہے جس میں مذہبی اقلیتیں خوف وہراس سے گزر رہی ہیں۔
 ٭ گائے کے تحفظ کے نام پر گوشت کے کاروبار پر روک لگنے سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے 
٭ دلتوں کے خلاف مظالم بڑھ گئے 
٭ وزیر اعظم مودی نے 3 برسوں میں 50 سے زیادہ غیر ممالک کے دورے کئے 
٭ تین برسوں میں مودی نے اپنی کارکاردگی پر ایک بھی پریس کانفرنس کا انعقاد نہیں کیا
٭ نوٹوں پر پابندی لگائے جانے کے بعد پرانے نوٹوں کی کتنی رقم جمع ہوئی
٭ تعلیمی ادارے اس وقت بحران سے گزر رہے ہیں