مودی دور میں تعلقات ٹھیک نہیں ہوئے:زکریا

  اسلام آباد// پاکستان نے کہاہے کہ پاکستان پر بھارتی بے بنیاد الزامات دہشتگردی سے رنگے ہاتھ چھپانے کی کوشش ہے جب کہ پاکستان خود بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ بھارتی رویے نے نہ صرف سارک سمٹ کو سبوتاڑ کیا بلکہ بھارت نے سارک تنظیم کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،بھارت کی کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آبادکاری اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات ٹھیک نہیں رہے، مودی سرکار کے دور میں دوطرفہ تعلقات مزید خراب ہوئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان بنیادی وجہ تنازعہ ہے، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ستر سال بیت گئے، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے تاہم بھارت پاکستان کے خلاف آج بھی بچگانہ حرکتیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے پرامن انداز سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو یقینی بنا کر پر امن انداز سے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ہفتہ وار بریفنگ میں نفیس زکریا ن کا کہنا تھا کہ بھارتی  فوج  کشمیریوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہے، 8 کشمیریوں کو جاں بحق کیا جاچکا ہے جب کہ بھارت تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کررہا ہے جسے عالمی برادری مسترد کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت رہنماوں کی نظر بندی و گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں جب کہ کشمیریوں کو مسلسل آٹھویں جمعہ نماز کی ادائیگی سے روکا جارہا ہے۔نفیس زکریا نے کہا کہ امریکہ جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے، جان مکین اور امریکی قیادت نے بارہا پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جب کہ امریکی وفد کا دورہ پاکستان مثبت رہا جس میں کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات چیت کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی وفد کے ساتھ مسئلہ کشمیر، بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، افغان صورتحال سمیت تمام امور گفتگو کا حصہ ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارتی بے بنیاد الزامات اپنے دہشتگردی سے رنگے ہاتھ چھپانے کی کوشش ہے، بھارت پاکستان پر دہشتگردی پرمسلط کرتا ہے اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے جب کہ بھارتی سرکاری حکام نے پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کے پھیلائوکو تسلیم کیا ہے۔