مودی حکومت پاکستان سے نہیں ، مقامی لوگوں سے بات کریگی جموں و کشمیر اب ملک کی ملی ٹینسی ر اجدھانی نہیں بلکہ ایک سیاحتی دارالحکومت:ترون چُگ

عظمیٰ نیوز سروس

جموں//مودی حکومت پاکستان سے نہیں بلکہ مقامی لوگوں سے ان کے مسائل حل کرنے کیلئے بات کرے گی۔یہ بات بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری ترون چُگ نے کی اور کہاکہ فاروق عبداللہ کو مقامی مسائل کے حل کیلئے پاکستان کی طرف دیکھنا چھوڑ دینا چاہیے۔اسی دوران انہوں نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ہزاروں لوگوں نے ترنگا اٹھایا جو کہ ان دعوئوں کا جواب ہے جو ماضی میں کئے جاتے تھے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’میری ماٹی، میرا دیش‘‘کے پیغام کو لے کر بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری ترون چگ نے سرینگر میں ایک ترنگا ریلی کی قیادت کی ۔ اس یاترا میں سینکڑوں لوگ شامل ہوئے جنہوں نے وندے ماترم، بھارت ماتا کی جئے جیسے نعرے لگائے۔یاترا نے پانچ کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا جس میں بی جے پی کے مقامی لیڈران پورے جوش و خروش سے شامل ہوئے۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری ترون چگ نے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو یہ تجویز دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ بھارت کو جموں و کشمیر میں امن کیلئے پاکستان سے بات کرنی چاہیے۔ چگ نے کہا کہ مودی حکومت مقامی لوگوں سے ان کے مسائل حل کرنے کیلئے بات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ عبداللہ جی کو مقامی مسائل کے حل کیلئے پاکستان کی طرف دیکھنا چھوڑ دینا چاہیے۔چگ نے محبوبہ مفتی کی ان کے تبصرے کیلئے بھی مذمت کی کہ جموں و کشمیر میں کوئی بھی قومی پرچم نہیں رکھتا۔ آج اس مارچ میں ہزاروں لوگ ترنگا اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ وہ جموںو کشمیر میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھ سکیں گی۔جموں و کشمیر اب ملک کی دہشت گردی کی راجدھانی نہیں ہے۔ یہ ایک سیاحتی دارالحکومت ہے جہاں مقامی لوگ ترقی اور ترقی کے خواہاں ہیں۔