مودی حکومت نے غریبوں کیلئے منافع بخش سکیمیں شروع کیں نوجوان سٹارٹ اپ انٹرپرینیورشپ کا انتخاب کرنے کی طرف گامزن :جتیندر سنگھ

 عظمیٰ نیوز سروس

جموں //مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مختلف سکیمیں شروع کی ہیں جن کی مدد سے نوجوان اب سرکاری نو کریوں کے بجائے اسٹارٹ اپ انٹرپرینیورشپ کا انتخاب کرنے کی جانب گامزن ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے اسٹارٹ اپ انٹرپرینیورشپ کا انتخاب کرنے کے لئے کارپوریٹ ملازمتیں چھوڑرہے ہیں ۔

 

موصوف اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے زیر اہتمام ’’مدرا لاب بھارتھی سمیلن‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔وزیر موصوف نے کہا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا (PMMY) کے تحت جموں و کشمیر کو بہت زیادہ فائدہ پہنچایا گیا ہے جو اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں 6 کروڑ سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں سے جموں و کشمیر میں تقریباً 25,000 مستفیدین ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر میں مدرا یوجنا سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے تقریباً 60 سے 70فیصد خواتین ہیں۔پروگرام کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسی اسکیم نہیں ہو سکتی جس کی حمایت کسی بینک کی ضمانت کے بغیر ہو لیکن، مدرا پی ایم مودی کے تحت شروع ہوا اور بینکوں کے تعاون سے اس اسکیم کے تحت بغیر کسی گارنٹی کے قرض فراہم کرتا ہے اور واحد گارنٹی ‘مودی کی گارنٹی’ ہے جس کا مطلب ہے گارنٹی کی تکمیل کی ضمانت ہے ۔قابل ذکر ہے کہ پردھان منتری مدرا یوجنا (PMMY) مودی حکومت کی ایک اہم اسکیم ہے۔ اسکیم مائیکرو کریڈٹ کے قرض کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ 10 لاکھ آمدنی پیدا کرنے والے مائیکرو انٹرپرائزز جو کہ مینوفیکچرنگ، ٹریڈنگ یا سروس کے شعبوں میں غیر فارم کے شعبے میں مصروف ہیں، بشمول زراعت سے منسلک سرگرمیاں جیسے پولٹری، ڈیری، شہد کی مکھیوں کی پالنا وغیرہ۔ یہ سکیم غیر کارپوریٹ کو قرض دینے والے ممبران اداروں کے ذریعے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ ان مائیکرو اور چھوٹے اداروں میں چھوٹے مینوفیکچرنگ یونٹس، سروس سیکٹر یونٹس، دکاندار، پھل/سبزی فروش، ٹرک آپریٹرز، فوڈ سروس یونٹس، مرمت کی دکانیں، مشین آپریٹرز، چھوٹی صنعتیں، کاریگر، فوڈ پروسیسرز کے طور پر چلنے والی لاکھوں ملکیتی/ پارٹنرشپ فرمز شامل ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ مذکورہ سکیموں کی مدد سے چھوٹے طبقے کو فائدہ پہنچ رہا ہے جن کو سابقہ حکومتوں نے یکسر نظر انداز کر دیا تھا ۔