مودی حکومت مہنگائی کو کم کرے یا کرسی خالی کرے:کانگریس

نئی دہلی/یو این آئی// کانگریس نے پیٹرول ، ڈیزل اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر زبردست  اشتعال کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ لہٰذا مودی حکومت کو قیمتوں میں کمی کرنا چاہئے یا کرسی چھوڑ دینا چاہئے۔کانگریس کے میڈیا کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت نے پیٹرول ، ڈیزل ، خوردنی تیل اور کھانا پکانے کے گیس کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کیا ہے کہ لوگوں کو اپنا گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام لوگوں کے لئے دسترس سے باہر ہوچکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ آج ڈیزل 90 روپے ، پٹرول 100 روپے ، خوردنی تیل 200 روپے اور ایل پی جی سلنڈر 800 روپے کو عبور کرچکا ہے۔ قومی دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے 200 کے قریب شہروں میں  پٹرول کی قیمتیں پہلے ہی 100 روپے فی لیٹر کو عبور کر چکی ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت مرکز میں برسر اقتدار آئی ہے  اس وقت سے وہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے رقم کما رہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مودی حکومت کے قیام کے سات برسوں 7 جولائی تک  پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 69 مرتبہ اضافہ کیا گیا  سرجے والا نے بتایا کہ مودی حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ اس حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے اب تک 25 لاکھ کروڑ روپے اپنے خزانے میں رکھے ہیں۔ گزشتہ سات برسوں میں  پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں 258 فیصد اور ڈیزل پر 820 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب  مودی نے مئی 2014 میں اقتدار سنبھالا تھا تو پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی  20 پیسے فی لیٹر تھی جو آج بڑھ کر 23 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ مئی 2014 میں ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی46   پیسے فی لیٹر تھی جو آج بڑھ کر 28 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح جب 2014 میں مودی حکومت برسر اقتدار آئی تو پٹرول اور ڈیزل سے ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی تقریبا 100 ہزار کروڑ تھی ، جو 2021 میں بڑھ کر 4 لاکھ 51 ہزار کروڑ ہوگئی ہے۔