مودی بتائیں کیا ہوتے ہیں بڑے دھماکے: کانگریس

 نئی دہلی// کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے گذشتہ پانچ سال میں ملک میں بڑے دھماکے نہیں ہونے سے متعلق بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے پٹھان کوٹ‘ اودھم پور‘ پمپور‘ پلوامہ وغیر ہ میں ہوئے ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی کو بتانا چاہئے کہ ان سے بڑے دھماکے کیا ہوتے ہیں۔کانگریس ترجمان آنند شرما نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں معمول کی پریس بریفنگ میں دعوی کیا کہ مودی حکومت کے دور میں ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں 176فیصد اضافہ ہوا ہے اور دسمبر 2018 تک سولہ بڑے دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ ملک میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران 1706 دہشت گردانہ واقعات ہوئے جن میں 426جوان شہید ہوئے اور 1355عام شہری مارے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی زمینی حقائق کا انکار کرتے رہتے ہیں اور سیکورٹی کے نام پر ملک کو تقسیم کرتے ہیں۔ ان کی ہر تقریر اور بیان سے ملک کو چوٹ پہنچتی ہے اور ہر بیان کے ذریعہ سے وہ ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ حقائق کو مسترد کیا جائے اور اپنے سیاسی فائدے کے حساب سے حقائق کو پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے پانچ سال کے دوران صرف سماج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے داخلی سلامتی کو کبھی اہمیت نہیں دی ہے اور اس سے وابستہ حقائق کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف نے حکومت سے آئی ای ڈی کو تباہ کرنے کے لئے جدید آلات خریدنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مودی حکومت نے فورس کے مطالبہ پر توجہ نہیں دی اور اس کے لئے فنڈ دستیاب نہیں کرایا گیا۔