موجودہ مشکل دور سے خلاصی کیلئے مین سٹریم کی واپسی اہم: سجاد لون

سرینگر//جموں کشمیر بینک کے سابق چیئرمین پرویز احمد نینگرو نے پیپلز کانفرنس میں باضابطہ طور پرشمولیت اختیارکرلی ہے۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون اور پارٹی کے دیگر لیڈران نے پرویز نینگرو کا شاندار طریقے سے پارٹی میں استقبال کیا۔ سجاد غنی لون نے کہا ہے کہ پرویز نینگرو کی موجودگی میں پارٹی مزید مضبوط ہوگی اور ہمیں عوامی خدمت میں مزید حوصلہ فراہم ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ پرویز احمد کا ماضی شاندار رہا ہے اور انہوںنے جموںکشمیر کو معاشی لحاظ سے کافی ترقی پر پہنچایا ہے ۔سجاد لون نے کہا کہ ’ہمیں پرویز احمد جیسے قابل، محنتی اور ٹیکنوکریٹس کی ضرورت ہے، ہمیں ایسے کامیاب لوگوں کی ضرورت ہے جنہوں نے محنت اور جدوجہد کے ذریعے اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کی ہو، وہ جے کے پی سی کے معاشی ایجنڈے کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔سجاد لون نے کہاکہ ’’میں کھلے دل سے پرویز صاحب کو تبدیلی کے اس کارواں میں خوش آمدید کہتا ہوں ،ان کا ایک شاندار بینکنگ کیریئر رہا ہے ان کے دور میں ہم نے بینکنگ انڈسٹری میں ایک تیز ترین تبدیلی دیکھی‘‘۔
انہوں نے بینک چیئرمین اور سی ای ائوکے طور پر اپنے دور میں جے اینڈ کے بینک کی مالی خوشحالی کا رخ موڑ لیا، ہمارا اجتماعی مقصد جموں و کشمیر کو معاشی طور پر خوشحال ، خود انحصار اور ترقی پسند بنانا ہے۔سجاد لون نے کہاکہ ’’ مجھے یقین ہے کہ پرویز احمد موجودہ قیادت کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور جنوبی کشمیر کے لوگوں کو نئی قیادت پیش کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے‘‘۔ جموں و کشمیر کے موجودہ سیاسی ماحول کے بارے میں ایک سوال کے جواب میںسجاد لون نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ جس مشکل دور سے گزر رہے ہیں ہم میں سے کسی نے ایسا مشکل دور1947 سے نہیں دیکھا ہے، ان مشکلات کے خاتمے کا واحد حل مین اسٹریم کی واپسی ہے ۔سجادلون نے جموں و کشمیر کے لوگوں سے مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی عزت کرنے اور انہیں اقتدار میں لانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا اداروں سمیت عوام الناس مین اسٹریم سیاسی لیڈران کو غدار قرار دے رہے تھے، مگر وہی ’غدار‘ باہر سے آنے والے طوفان کے مقابلے میں کھڑے تھے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر لوگوں نے سیاسی جماعتوں اور مین اسٹریم سیاسی لیڈران کی قدر و عزت کرکے انہیں واپس اقتدار تک نہیں پہنچایا تو حالات سدھرنے کے بجائے بد تر ہو جائیں گے۔‘‘سجاد لون کا مزید کہنا تھا کہ ’’صوبہ جموں یا صوبہ کشمیر سے، نمائندہ جو بھی ہو مقامی ہونا چاہئے، کیونکہ غیر مقامی نہیںبلکہ مقامی باشندے ہی جموں و کشمیر کے باشندوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بہتر اقدامات اکر سکتے ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھاکہ اب وقت آگیا ہے کہ جموں و کشمیر کی مین اسٹریم دھارے میں شا مل سیاسی تنظیموں کے درمیان خود شناسی کی جائے اور یہ کہ عوام کو بااختیار بنانا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو عزت اور احترام دینا چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو کئی محاذوں پر درپیش مسائل اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک کہ میں اسٹر یم کو دوبارہ پروان نہ چڑھنے دیا جائے۔اس دوران پرویز احمد نینگرو نے پیپلز کانفرنس میں شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سجاد لون کی شخصیت ،سوچ ، نظریہ اور جموں و کشمیر میں سماجی و اقتصادی ترقی کے نئے دور کے آغاز کے سلسلے میں ان کے جذ بے سے متاثر ہوئے۔ پرویز احمد نے کہاکہ ’’مجھے اس سے پہلے کئی دہائیوں سے پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ جموں و کشمیر کے عوام اور پریمیئر اداروں کی خدمت کرنے کا موقعہ حاصل ہوا ہے، اب میری خواہش ہے کہ پیپلز کانفرنس کے تحت کام کرتے ہوئے تبدیلی کے لیے جامع سیاسی اور معاشی ادارے بنانے میں اپنی خدمات انجام دوں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں سیاسی اور اقتصادی طور پر بہت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم جموں و کشمیر میں پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی اور ادارہ جاتی حل تلاش کریں‘‘۔ اس موقعہ پر پارٹی لیڈرعبدالغنی وکیل ، منصور حسین سہروردی ، نذیر احمد لاوے ، محمد خورشید عالم ، یاسر ریشی اور شیخ محمد عمران بھی موجود تھے۔