موجودہ دور کے نوجوان باصلاحیت

 سرینگر//نوجوانوں کو فیصلہ لینے کیلئے باصلاحیت قرار دیتے ہوئے تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ موجودہ دور کے نوجوان شیخ عبداللہ کے دور کے نوجوان نہیں ہے،جنہوں نے اندھی تقلید میں ان پر سب کچھ چھوڑ دیا۔تحریک حریت کے دفتر پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ انکے بیٹے نے جانے سے قبل کوئی رخصتی،کوئی مصافحہ،کوئی گفتگو نہیں کی،بلکہ از خود اپنی راہ متعین کر دی۔ انہوں نے کہا ’’ جنید خان ذہین اور تعلیم یافتہ ہے،اور اس نے خود اپنی راہ چننے کا فیصلہ لیا‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں صحرائی نے کہا کہ آج کل کے بچے با صلاحیتہیں،وہ مرحوم شیخ عبداللہ کے دور کے نوجوانوں کی طرح نہیں ہے جو’’الہ کریں گا وانگن کریں گا‘‘ نعرہ بلند کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے نوجوان منشیات کے عادی نہیں ہے،اور وہ یہ بات سمجھ رہے ہیں،کہ انکا مستقبل تاریک ہے۔تحریک حریت کے چیئرمین نے کہا’’زور زبردستی کے راج پر نوجوانوں کو اس بات کا علم ہے کہ انکا مستقبل تاریک ہے،جبکہ اس بات کا بھی انہیں احساس ہے کہ انہیں کس خطا کی بنیاد پر تنگ کیا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ وہ(جنید خان) بھی ان میں سے ہی ایک تھا‘‘۔اپنے فرزند کے بارے میں مزید جانکاری دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک دن ،کس غیر ریاستی شہری نے انکی گاڑی کو دانستہ نقصان پہنچایا،اور جب وہ اس پر بھڑک گئے تو انہیں ایک پولیس افسر نے تھانے میں لیکر تھپڑ رسید کیا،اورگالیاں دی،جبکہ جنید بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا، کہ غیر کشمیری ہونے کی بنیاد پر اآپ اس کی طرفداری کرتے ہیں،حق یہ نہیں ہے،اور نہ ہی انصاف کا تقاضا۔ محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ ہم بھارت کو اسکی کوئی ریاست نہیں مانگتے،بلکہ کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں،جس کا وعدہ انہوں نے اقوام متحدہ میں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی گناہ نہیں ہے،بلکہ یہ ریاستی عوام کا پیدایشی حق ہے۔محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ والدین کو بھی اپنے بچوں کی سلامتی سے متعلق فکر ستاتی ہے،جبکہ نوجوان بھی ہاتھوں میں سر لیکر پھررہے ہیں۔بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صحرائی نے کہا’’ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو عملانے کیلئے جب میز سجے گی،اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے میز پر بیٹھنا پڑے گا،تو ہمیں کوئی بھی اعتراض نہیں ہوگا‘‘،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے سے ہی برصغیر میں امن قائم ہوگا۔مزاحمتی لیڈرشپ کو خانہ نظر بندی سے رہا کرنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے صحرائی نے کہا کہ ابھی اس پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا،تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی صرف نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی،جبکہ فورسز،پولیس اور انکی گاڑیاں بدستور سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر ہیں۔اتحاد کو کامیابی کا زینہ قرار دیتے ہوئے محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ صف اول پر جو جماعتیں مزاحمت کر رہی ہیں،اور انہیں لیکر جامع اتحاد کیا جائے تو اس میں کیا کیا قباحت ہیں۔