موبائیل فون کا بے جا استعمال

اشفاق مجید
آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ موبائل کا استعمال ہر ایک کے لیے لازمی بن چکا ہے ۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ موبائل کی ایجاد انسانی سہولیات کے لیے ہوئی تھی۔ قدیم زمانے میں لوگ اپنے ان احباب کی خبر سننے کے لیے مہینوں تک انتظار کرتے تھے جو کہیں دور سکون پذیر ہوتے تھے۔ انسان جب گھر سے کسی کام کی غرض سےباہر نکلتے تو گھر کی دنیا سے بے حال ہو جاتے تھے، اس لحاظ سے ہمیں اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں سب کچھ میسر ہے ۔جس چیز کے متعلق سالہا سال آپکو معلومات حاصل کرنے میں لگ جاتے تھے، وہ آج چند سیکنڈوں میں حاصل ہو جاتی ہیں۔ میں نے اور آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وقت ایسا بھی آئے گا کہ گھر بیٹھے بیٹھے آپ کسی بھی چیز کو خرید سکتے ہیں ۔موبائل دنیا کے ہر کونے کی خبر سے با خبر رکھتا ہے۔مگر اس موبائل فون کا بیجا استعمال کرنا انسان کے لئے فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس موبائل فون نے آج کے دور میں ہر کسی کو اپنا غلام بنایا ہے۔ ایک باپ اپنے بچے کو اس جہنم  میں خود دھکیل دیتا ہے اور جب پانی پاؤں سے لے کر سر تک پہنچ جاتا ہے تو افسوس کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا ۔بچوں میں موبائل فون کا بڑھتا ہوا رجحان کسی بگاڑ سے کم نہیں۔ کمسنی کی عمر میں موبائل فون کا استعمال بڑوں کی لاپرواہی ہے۔ اگر ہم آس پاس کی طرف نظر دوڑائیں تو سماج میں شاید ہی کوئی ایسا فرد یا شخص نظر آئے گا، جس کے ہاتھ میں موبائل فون نہیں ہوگا اور اپنا قیمتی وقت اسی موبائل میں صرف کر رہا ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ موبائل فون ہمارے جسم کا ایک حصہ ہے اور ہماری عادتوں میں شامل ہے۔ سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے، اُٹھتے، بیٹھتے، یہاں تک کہ واش روم میں بھی موبائل فون کا استعمال اس قدرعام ہے کہ ایسا لگتاہے جیسے آپ موبائل فون استعمال نہیں کر رہے بلکہ موبائل فون آپ کو استعمال کررہاہے۔ لیکن کیا کبھی سوچا کہ آپ کی نظریں جس اسکرین پر جمی رہتی ہیں ، اس اسکرین سے نکلنے والی روشنی کے کیا نقصانات ہیں ؟

فون سے نکلنے والی روشنی نہ صرف آپ کی آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ آپ کے دماغ کو بھی متاثر کر دیتی ہے۔ آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ موبائل فون نے اس قدر انسان کو  اپنا عادی بنایا کہ دو سیکنڈ تک اس کی طرف نہ دیکھیں تو بے چینی سی پیدا ہو جاتی ہے ۔شاگرد ، استاد، نوجوان ، بزرگ حتیٰ کہ علماء بھی اس لپیٹ میں آچکے ہیں بلکہ اس مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ایک ماں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے وقت موبائل فون کے ساتھ اس قدر مصروف ہوتی ہے جیسے ان کے گود میں بچہ ہی نہیں ہوتا ۔آج صورت حال یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے دور میں موبائل فون نے ہمارے پڑھے لکھے با شعور اور سنجیدہ طبقے کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ان میں سے اکثر نے اپنی تہذیب وتمدن کو فراموش کردیا ہے تو سوچا جاسکتا ہے کہ بچوں میں موبائل فون کا چلن ان کی اخلاقی تربیت میں کس قدر رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے۔موبائل فون کے زیادہ استعمال نے انسان کی شرافت اور تمیز کو ختم کر دیا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ اج کل کے چھوٹے بچے گیمز games کھیلنے کے ساتھ اس قدر مشغول ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنی راتوں کی نیندیں حرام کر دیتے ہیں اور صبح 10 سے 11 بجے بھی اُٹھنا ان کے لیے بار گراں ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان میں ایک بری  عادت پڑ جاتی ہے۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں والدین بھی لاپرواہی سے کام لیتے ہیں۔ کیا والدین کو یہ حق نہیں بنتا کہ بچے سے پوچھے کہ آخر دیر سے اٹھنے کی کیا وجوہات ہیں۔ اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ والدین ہارے ہوئے راجہ کی طرح ہاتھوں پہ ہاتھ باندھے ہوئے اپنے بچوں کی تباہی کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور کل جب یہی بچے سماج میں ایک بدنما داغ کی شکل اختیار کرتےہیں تو اس کے والدین شرمندہ ہو کر اس سے بے زار ہو جاتے ہیں۔پھر یہ کہنا بالکل بے سود ہےکہ کاش ہم نے اسی وقت بچوں کی صحیح تربیت کی ہوتی ،جب وہ صحیح راستے سے بھٹک رہے تھے ۔ اپنے بچوں کو بے لگام گھوڑے کی طرح نہ چھوڑیں، بے حیائی اور بے راہ روی کوبڑی شدت سے فروغ مل رہا ہے اور ہم ہاتھوں پہ ہاتھ باندھے ہوئے اس کا تماشا دیکھنے میں مشغول ہیں ۔نئے زمانے کی ہوائوں نے اب گھر کے بزرگوں کو اورمحلے والوں تک کو خاموش تعاون کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ٹیکنالوجی کی ترقی اور موبائل فون کے عام استعمال نے اپنوں اور بیگانوں کے فرق کو بدل دیا ہے۔موبائل فون زیادہ استعمال کرنے والے زیادہ دیر تک کسی ایک چیز یا ایک بات پر توجہ نہیں دے پاتے۔اگر ہم سماج کے دوسرے طبقے کی بات کریں تو ہمارے ذہن میں کئی طرح کی شکلیں گردش کرتی ہیں، چاہے کاروبار ہو ، تعلیمی ادارے ہو ، کھیتی باڑی ہو یا سرکاری ملازمت ہو، ہر وہ شخص جو اپنے موبائل فون کے ساتھ گھنٹوں تک مصروف ہوتے ہیں۔ ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے، اسی طرح موبائل فون کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے،بالخصوص والدین اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ چھوٹی عمر میں موبائل کا استعمال نہ صرف ان کے بچوں کے بگاڑ کا باعث بن سکتی ہے بلکہ وہ راہ راست سے بھی بھٹک سکتے ہیں۔ والدین سے گزارش ہے کہ اپنے لاڈ پیار کی وجہ سے بچوں کی زندگی کو خراب نہ کریں، باشعور بنے اور با شعور ہونے کا ثبوت پیش کرے ۔

( پاندوشن شوپیان)

<[email protected]