منی شنکر ایئر نے مودی کا موازنہ ماؤنٹ بیٹن اور کرزن سے کیا، خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی

 نئی دہلی// سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے معطل رکن منی شنکر ایئر نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو خاص طور پر پاکستان، بھوٹان اور نیپال کے تعلق سے نشانہ بنایا۔سابق سفارت کار نے وزیراعظم پر یہ الزام بھی لگایا کہ نیپال کے داخلی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔ انہوں نے مسٹر مودی کا موازنہ برطانوی وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن اور لارڈ جارج کرزن سے کیا۔ مسٹر ایئر نے کہا کہ نیپال کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مشکلات کا سامنا ہے اور مودی حکومت کے تحت صورت حال 'دل شکنی' تک آگے بڑھی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے درحقیقت اس وقت نیپال کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی تھی جب 2014 میں انہو ںنے جنک پور میں ایک ریلی کو خطاب کیا اور سائیکلیں تقسیم کیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپالی قیادت کو مسٹر مودی کا آئینی ترمیم کے تعلق سے مبینہ مشورہ دینا بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 24 جنوری 1950 میں ہندوستان میں آکر کیا تھا۔ مسٹر ائیر نے کہا کہ ہم سایوں کے ساتھ مسٹر مودی کی پالیسی صرف پاکستان کے لئے ہی تباہ کن نہیں رہی بلکہ دوسروں کے حق میں بھی مکمل تباہ کن رہی۔ پاکستان محض اس کا بڑا حصہ ہے ۔ یہاں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ایئر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ جس کا اہتمام مودی حکومت کی چار سالہ کارکردگی کا ایک جائزہ پیش کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ مسٹر ایئر نے کہا کہ بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ جیسے جنوب ایشیائی ملکوں کے تعلق سے بھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ٹھیک نہیں۔ ملک کی خارجہ پالیسی 'مذہبی تعصب' پر مبنی ہوکر رہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مالدیپ کے ہمیشہ بہت قریب رہا لیکن اس جزیرے میں بھی اب وہ اپنے اثرات کھوچکا ہے ۔وہاں چینی اثرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ سابق وزیر نے یہ بھی دعوی کیا کہ بنگلہ دیش ، بھوٹان اور نیپال کے تعلق سے بھی این ڈی اے کی خارجہ پالیسی خامیوںسے بھری راہ پر چل رہی ہے ۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے تعلق سے آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر کے تعلق سے اظہار خیال کیا اور بی جے پی کی اس مہم پر سوال کھڑا کیا کہ ہندوستان 'ہندوؤںکا فطری جائے مقام' ہے ۔ بھوٹان کے تعلق سے مسٹر ایر نے کہا کہ اب وہ بھی ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر سنجیدگی سے نظر ثانی کررہاہے ۔یو این آئی