منی سیکریٹریٹ مینڈھر کی عمارت کھنڈرات میں تبدیل

 
مینڈھر//منی سیکریٹریٹ مینڈھر کی عمارت نامکمل رہنے کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہوتی جارہی ہے ۔اس پروجیکٹ کاکام سات سال قبل شروع ہواتھااور عمارت کا ڈھانچہ کھڑا کردیاگیا لیکن اس وقت تک عمارت مکمل نہیں ہو سکی جس کے نتیجہ میں نہ صرف کروڑوں روپے کا پروجیکٹ تباہ ہورہاہے بلکہ لوگوںکو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ پارہا اور ان کو دفاتر کے چکر میں اسی طرح سے دربدر ہوناپڑرہاہے ۔مقامی لوگوں نے ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گورنر انتظامیہ نے آتے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ تمام رکے پڑے کام جلد شروع کئے جائیں گے اور نا مکمل عمارتوں کو جلد مکمل کیا جائے گا لیکن مینڈھر کے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور منی سیکٹریٹ کی عمارت ابھی تک نامکمل پڑی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس پروجیکٹ کی بقایا رقم واگزار نہ کئے جانے کی وجہ سے عمارت تباہ ہوچکی ہے اور لوگ بھی دربدر ہیں۔ مقامی لوگوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ فوری طور منی سیکریٹریٹ کی بقایا رقومات واگزار کی جائیں تاکہ عمارت جلد مکمل ہو سکے اور مینڈھر کے لوگوں کو راحت کی سانس مل سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دیگرپروجیکٹ بھی ادھورے پڑے ہیں جن کا کام مکمل کرانا بہت ضروری ہے اور یہ بات باعث تشویش ہے کہ  گورنر انتظامیہ کے دوران مینڈھر میں کوئی بھی ادھور اکام  شروع نہیں کیا گیا اور تمام زیر تعمیر پروجیکٹ نا مکمل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر گورنر انتظامیہ کے دورمیں عمارت مکمل نہ کی گئی تو اس کو مزید کئی سال لگ جائیں گے لہٰذا فوری طور پر رقومات واگزار کی جائیں تاکہ اس کی تکمیل ہوسکے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اضلاع و تحصیل کی سطح پر لوگوں کو ایک ہی چھت تلے سبھی دفاتر کی سہولت فراہم کرنے کیلئے منی سیکریٹریٹ کی عمارتوں پر کام شروع ہوامگر ابھی تک ان عمارتوں کی تعمیر التواکاشکار پڑی ہوئی ہے ۔صرف مینڈھر ہی نہیں بلکہ راجوری اور پونچھ میں بن رہی منی سیکریٹریٹ کی عمارتیں بھی تعطل کاشکار ہیں ۔جہاں پونچھ کی منی سیکریٹریٹ عمارت نامکمل ہونے کی وجہ سے ابھی ویران پڑی ہے وہیں راجوری میں اس پروجیکٹ پر کام ہی شروع نہیں ہوا اور مجوزہ منصوبے والی جگہ کا انتخاب ہی نہیں ہوپایاہے ۔