منیال گلی میں کئی افراد پیدائشی طورپر بینائی سے محروم

 تھنہ منڈی //سب ڈویژن تھنہ منڈی کے منیال گلی علاقے میں بارہ سے پندرہ افراد پیدائشی طور پر آنکھوں کی روشنی سے محروم ہیں جن میں اکثر تعداد بچوں کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں نومولود دو مزید بچے آنکھوں کی روشنی سے محروم پائے گئے ہیں جبکہ دیگر دو بچے بتدریج قرآن کریم کا تیسرا اور آٹھواں پارہ حفظ کر رہے ہیں جسے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت کہا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں عوام نے حکومت اور محکمہ صحت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس علاقے میں خصوصی ٹیمیں بھیج کر یہاں کی آب و ہوا پانی اور مٹی وغیرہ کی جانچ کروائیں تاکہ ماؤں کے شکموں میں پل رہی نئی نسل پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں اور وہ بھی دنیا کے حسین نظاروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ منیال گلی کے مکینوں نے بتایا کہ معذوری کسی فرد کی اپنی چاہت نہیں لہذا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ معذور افراد کو مکمل صلاحیتوں کے حامل افراد کے ساتھ مقابلے کے برابر بنائے اور عام انسانوں کی طرح انھیں بھی جینے کا حق دے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معذور افراد کے لئے اس علاقے میں خصوصی سکول کھولے جائیں اور دوسری تمام سہولیات بہم پہنچائی جائیں تاکہ یہ لوگ بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے متاثرین نے کہا کہ اس وقت انہیں حکومت کی جانب سے ماہانہ ایک ہزار روپیہ بطور پنشن دی جارہی ہے جو کمر توڑ مہنگائی کے اس دور میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے ل۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ماہانہ پنشن بڑھائی جائے تاکہ وہ بھی دو وقت کی کی روٹی کھا سکیں۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی حکومت اس نوعیت کے معذور اور بالخصوص قدرتی طور پر نابینا افرادکیلئے سہولیات پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معذور افراد کے ذہنوں سے محرومی کا شبہ ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے تاکہ وہ بھی آرام دہ اور پرسکون زندگی جی سکیں۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ بینائی سے محروم افراد کو خصوصی طور پر فلاحی سکیموں کے دائرے میں لا کر ان کی معاونت کی جائے تاکہ اس نوعیت کے معذوروں کی مشکلات کم ہو سکیں ۔