منگت میں عوامی راحت کانفرنس کا انعقاد

بانہال // تحصیل کھڑی کے  کڑجیمنگت علاقے میں عوامی راحت کانفرنس منقد ہوئی جس کی صدارت سابق سرپنچ منگت گل محمد جان نے کی ۔منتظمین نے دعویٰ کیا کہ  اس کانفرس کا مقصد عام لوگوں کو روز مرہ کی مشکلات سے راحت پہنچانا ہے اور اپنی مدد اپ کرنے وسرکار کیطرف سے لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے مختلف سرکاری سکیمیوں سے آگاہ کرنا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اجتماعی فائدہ پہنچانے کے لئے منظم جدو جہد کرنا ہے ۔ اجلاس میں بانہال سے منگت روڈ جو عرصہ دس سال سے زیر تعمیر ہے اور ابھی تک نامکمل ہے کو مکمل کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ اس رابطہ سڑک کو مکمل کرنے کیلئے کئی بار سرکار کی طرف سے ڈیڈ لائین دی گئی لیکن کوئی بھی دعویٰ سچا ثابت نہیں ہوسکا اور عوام کو جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہ ملا۔ جس سے عام لوگوں کے مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا پچھلے سال دورہ رام بن کے دوران وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اس روڈ کو مکمل کرنے کے لئے PMGSY کو 15  دسمبر 2017 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی لیکن ابھی تک سرکار اس روڈ کو منگت گاوں تک پہنچانے میں ناکام رہی ہے اور متعلقہ ٹھیکیدار اور محکمہ من مرضی سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی دربار میں وزیر اعلی نے باوہ سے منگت تک چار کلو میٹرلمبے لنک روڈ کا اعلان بھی کی تھا جس کی سروے بھی ہو چکی ھے لیکن اس روڈ پر کام شروع نہیں کیا جا سکا ۔ انہوں نے کہا کہ منگت بانہال رابطہ سڑک کی زد میں آنے والے زمینداروں کو جو معاوضہ دیا گیا ہے اس میں ابھی تک بیس فیصدی رقم بند رکھی گئی اور دس سال کے بعد بھی  کھدائی کی وجہ سے سینکڑوں کنال کی اراضی اور درختوں کا معاوضہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر رام بن نے پچھلے سال یقین دلایا تھا کہ زمینداروں کو پہنچے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے ایک ٹیم بھیجی جائے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ مقررین نے کہا کہ علاقہ مہو منگت تعلمی اعتبار سے بہت ہی پسماندہ ہے ہائی سکول منگت ، مڈل سکول کڑجی اور دیگر سکولوں میں سٹاف نہ ہونے کے برابر ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی سکول منگت میں ہیڈ ماسٹرکی ایک ، ماسٹر گریڈ کی چار اور ٹیچروں کی دو اسامیاں خالی ہیں اور نظام تعلیم خستہ حالی کا شکار ہے۔ انہوں نے حکام سے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسکے علاوہ کانفرس میں سماجی برائیوں پر روک لگانے پر زور دیا گیا اور شادیوں میں فضول خرچی سے لوگوں کو باز رہنے کی اپیل کی گئی تاکہ غریب لوگوں کو مشکلات سے نجات مل سکے۔ اس کانفرس میں آرگنائزر مولوی بشیر احمد مظاہری ،فاروق احمد شیخ ، سماجی کارکنان ماسٹر علی محمد ، محمد یوسف نمبر دار ، غلام قادر کوٹے ، عبدالعزیز کوٹے ، مولوی ارشاد احمد نائیک ظاہر، ریاض احمد لون ریاض گل لون ،نثار احمد لون ، عبدالرحمان ارمڈکہ ، محمد سلطان لون ، عبدالعزیز لون، عطا محمد کوٹے، محمد رمضان لون وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔