منڈی اور پونچھ میں مجالسِ چہلم کا اہتمام

پونچھ +منڈی// نواسہ رسول جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے بہتر(72) جانثاروں نے سن 61 ہجری میں دین اسلام کو بچانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جام شہادت نوش کیاتھا۔ اس قربانی کے سلسلہ میں مسلسل گزشتہ ایک ماہ اور دس دن سے ضلع پونچھ کے طول وعرض میں مجالس امام حسین علیہ السلام و عزاداری امام حسین کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز انجمن تنظیم المومنین اور انجمن جعفریہ پونچھ کی جانب سے مجالس چہلم امام حسین کا اہتمام کیا گیا ۔اس سلسلہ میں تنظیم المومنین منڈی کی جانب سے بھی امام بارگاہ عالیہ منڈی میں ایک مجلس کا اہتمام کیا گیا جس میں پلیرہ ساتھرہ لورن سلونیہ ،پونچھ منگناڑ سے آئے ہوئے عزاداروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔مجلس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے شروع کیا گیا بعد ازاں نعت سلام نوحوں اور مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری ہوا مجلس کے دوران مولانا اقرار حیدر زیدی نے شہادت امام حسین علیہ سلام پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین اور ان کے جانثاروں نے دین اسلام کی بقاء کے لیے کربلا کے میدان میں جو قربانی پیش کی اس کی دنیا میں کو نظیر نہیں مل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفے نے جس دین کو اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے لایا اس دین نے انسانیت کو ہر قدم پر جینے کا سلیقہ بخشا ان کا کہنا تھا کہ یزید جیسا فاسق و فاجر رسول کے لایے ہویے دین اسلام میں مٹانا چاہتا تھا اس دین کو رسول کے نواسے نے کربلا کے میدان میں اپنے ساتھیوں اور اپنی قربانی پیش کر کے قیامت تک کے لیے زندہ و پایندہ کر دیا۔ اس سلسلے کی ایک اور مجلس شب منگل امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں انجمن جعفریہ پونچھ کی طرف سے منعقد کی گئی جس میں ضلع بھر سے عزاداروں نے شرکت کر کے امام حسین اور ان کے رفقاء کی قربانی کو یاد کیا ۔اس موقعہ پر پونچھ میں مسلسل گزشتہ پانچ ایام سے مجالس اربعین کا اہتمام کیا جا رہا تھا جن میں بیرون ریاست سے آیے ہوئے حجت الاسلام مولانا اختر عباس جون خطبات پڑھ رہے تھے ۔اربعین کی آخری مجلس سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں قربانی پیش کر کے انسانیت کو دوام بخشا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو شیعہ سنی اور دوسرے فرقوں کی بنیادوں سے اٹھ کر اسلام دشمن قوتوں کے خلاف صف آراء ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بھی یزیدی طاقتیں دین اسلام کے مقابل کھڑی ہیں جن کو مٹانے کے لیے مسلمانوں کو مل کر حسینی کردار ادا کر کے دین اسلام کی سر بلندی کے لیے کام کرنا چاہیے آخر پر دعایہ کلمات سے مجالس کا اختتام کیا گیا۔