منوارڈ اننت ناگ میں مسلح تصادم ،2حزب جنگجو جاں بحق

 شدید جھڑپوں میں50زخمی، نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری شرکت

 
اننت ناگ(اسلام آباد)+کولگام //جنوبی کشمیر میں اننت ناگ قصبے کے مضافات میں ایک خونریز تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین کے  معروف کمانڈر ساتھی سمیت جاں بحق ہوا۔تصادم آرائی کی جگہ و کھڈونی میں فورسز و نوجوانوں کے بیچ زبردست جھڑپیں ہوئیںجس کے دوران تقریباً50افراد زخمی ہوئے۔4زخمیوں کو نازک حالت میں ضلع اسپتال اننت ناگ میں داخل کیا گیا ہے ۔

جھڑپ کا آغاز

پولیس کے مطابق جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر فسٹ آر آر ،ایس او جی و سی آر پی نے دوران شب  بنہ پورہ مو نیواڑ منوارڈ نامی بستی کو محاصرہ میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کی۔اس بیچ فوج صبح 5بجے جوہنی الطاف احمد ڈار نامی شہری کے مکان کے قریب پہنچی تو یہاں موجود جنگجوئوں نے فوج پر گولیاں چلائیں، جس کے بعد تصادم شروع ہوا جو بدھ صبح9:30تک جاری رہا ۔ اس بیچ مکان کو بارودی مواد سے اُڑادیا گیا جس کے بعد ملبے سے دو لاشیں بر آمد کی گئیں جن کی شناخت الطاف احمد ڈار عرف الطاف کاچروعرف معین ساکن ہاورہ مشی پورہ کولگام اور عمر رشید وانی ساکن کھڈونی کولگام کے بطور ہوئی۔انکوانٹر کے سبب اننت ناگ اور کولگام میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کی گئی  جبکہ دونوں اضلاع میں تعزیتی ہڑتال کے سبب معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ۔اس بیچ تصادم آرائی کے سبب بانہال بارہمولہ ریل سروس معطل رکھی گئی ۔

کون تھا الطاف 

37سالہ الطاف کاچرو ہاورہ مشی پورہ کولگام سے تعلق رکھتا تھا اور وہ حزب المجاہدین کا آپریشنل کمانڈر کے طور کام کرتا تھا ۔الطاف2006سے عسکری میدان میں سرگرم ہوا تھا اور 2007میں اُن کو گرفتار کیا گیا تھا ۔جس کے بعد اُن پر سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔ جیل سے رہائی پانے کے بعد وہ معمول کی زندگی بسر کرنے لگا تاہم مقامی لوگوں کے مطابق اُنہیں تنگ طلب کیا جاتا رہا جس کے بعد وہ پھر سے سرگرم ہوگیا ۔الطاف کو محاصرہ توڑنے کے لئے جانا جاتا تھا اور پولیس کے مطابق تقریباً10بار محاصرہ توڑ کر فورسز کو چکمہ دینے میں کامیاب رہا تھا ۔مقامی لوگوں کے مطابق گذشتہ برس آونیورہ شوپیان میں الطاف حزب آپریشنل چیف محمود غزنوی کیساتھ موجود تھا تاہم محاصرہ توڑ کر فرار ہوا۔ڈار حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈوروں میں شمار ہوتا تھا اور وہ اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں انتہائی مطلوب کمانڈر تھا۔پولیس نے ان کے سر پر ساڑھے 12لاکھ کا انعام رکھا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق الطاف اس وقت وادی میں  سب سے پرانا جنگجو مانا جاتا تھا جو 11برسوں سے سرگرم تھا۔ڈار لشکر طیبہ کے مہلوک کمانڈر بشیر لشکری و پوسٹر بھائی برہان وانی کا قریبی ساتھی بھی رہ چُکا تھا ۔ڈار کا والد غلام محمدڈار بھی 90کی دہائی میں حزب المجاہدین کا کمانڈر رہ چُکا تھا اور وہ حدمتار کے قریب ایک مسلح تصادم کے دوران جاں بحق ہوا تھا ۔  عمر رشید وانی 2017میں گرفتار ہوا اور اسے کچھ وقت کے بعد رہا کیا گیا لیکن وہ ایک ماہ گھر میں رہا اور 15مئی 2018 سے سرگرم تھا اور پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل وہ بٹہ مالو میں جھڑپ کے دوران فرار ہوا تھا۔

جھڑپیں وہڑتال

 جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی بدھ کی صبح  اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں ہڑتال کی گئی اور کاروباری و تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کے علاوہ ٹرانسپورٹ میں خلل پڑا۔ادھر مونیوار اور ملحقہ علاقوں میں فورسز کے کڑے پہرے کے باوجود نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکیوں پر آکر احتجاج کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی۔ نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جھڑپ کے مقام کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہاں تعینات فورسز اہلکاروں سے چاروں اطراف سے سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں انتہائی کشیدگی دیکھنے کو ملی۔ ادھر فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے درجنوں گولے اور پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 50افراد زخمی ہوگئے ۔ 5نوجوانوں کی آنکھوں پر پیلٹ کے چھرے پیسوست ہوئے جن کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کردیا گیا۔

نماز جنازہ

مہلوک جنگجوئوں کی نعشوں کو جونہی اپنے آبائی علاقے کھڈونی اورہاوئورہ پہنچایا گیا تو یہاں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کھڈونی اور ہائوورہ میں بدھ کی صبح سے ہی حالات کشیدہ رہے ۔سہ پہر کو جونہی جنگجوئوں کی نعشیں اپنے آبائی علاقوں کو پہنچائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا جس دوران لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران جاں بحق جنگجوئوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لئے پانچ بار جنگجو جلوس جنازہ میں شامل ہوئے جنہوں نے ہوا میں گولیوں کے کئی رائونڈ فائر کرتے ہوئے مہلوک ساتھیوں کو سلامی پیش کی۔اس کے بعد ہزاروں لوگوں نے اُن کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔کئی مرتبہ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد کمانڈر الطاف کو سپرد لحد کیا گیا ۔عمر رشید کی نماز جنازہ میں بھی لوگوں کی بھاری تعداد شریک ہوئی۔جس کے دوران انہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔انکی بھی کئی مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

پولیس بیان

پولیس بیان کے مطابق مصدقہ اطلاع ملنے پر منوارڈ بستی میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ،اس دوران مکان کے اندر چھپے جنگجوئوں نے فورسز اہلکاروں پر گولیاں چلائیں جس دوران تصادم آرائی کے دوران دو جنگجو مارے گئے جن کی شناخت الطاف ڈار عرف کاچرو اور عمر رشید وانی ساکن کھڈونی کولگام کے بطور ہوئی  ۔الطاف ڈار ولد غلام محمد ڈار حزب المجاہدین کا آپریشنل کمانڈر تھا اور وہ 2007سے مجرمانہ ریکارڈ رکھتا تھا ۔ڈار فورسز اہلکاروںو عام شہریوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھا اور اور وہ پولیس کو کافی مطلوب تھے۔ڈار کے خلاف کافی کیس درج ہیں ۔
 
 

حزب کا خراج عقیدت

نیوز ڈیسک
 
 سرینگر // حزب المجاہدین سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ کشمیری قوم کے اصل ہیرو وہی ہیں جو اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرکے اپنی عزیز جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت بھی اپنے ان سرفروشوں کو نہیں بھول سکتے جو اپنا آج قوم کے کل پر قربان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کمانڈر الطاف احمد ڈار اور عمر رشید وانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نقوم کی مظلومیت و محکومیت ختم کرنے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیوں کی لاج رکھی جائے گی اور اس بھاری ذمہ داری کو نبھانے کیلئے تاحصول مقصد جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا یہ گرم گرم لہو ایک دن ضرور انقلاب برپا کرے گا اور غلامی کا دور اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد اور فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے بھی اپنے پیغامات میں انہیںخراج عقیدت پیش کرتے کیا۔