منشیات کی وباء کا بھیانک منظر، 70ہزار لت میں مبتلاء،انسداد منشیات مراکز میں4ہزار کیس درج،کاروبار کرنے والے 482افراد گرفتار

سرینگر// وادی میں منشیات کی وبا ء میں پھیلائو کی بھیانک تصویر سامنے آرہی ہے۔ منشیات کی خرید و فروخت کے گراف میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2018 میں482 افراد کو اسکے الزام میں حراست میں لیا گیا،جبکہ ایک درجن مبینہ منشیات سمگلروں کو پی ایس اے کے تحت نظر بندبھی کیا گیا۔پولیس کا تاہم کہنا ہے کہ پولیس تنہا ہی اس وباء کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتی ہیں،بلکہ متحرک سماج کو بھی اپنا رول دا کرنا پڑے گا۔ ریاست بالخصوص وادی میں منشیات کی وباء نے ایک ہمہ گیر بیماری کی شکل اختیار کی ہے۔ منشیات کے لت میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد میں جہاں اضافہ ہو رہا ہیں،وہیں زہر فروشی کے کاروبار میں بھی کسی قسم کی تنزلی نظر نہیں آرہی ہے۔سرکاری اعدادو شمار سے منشیات فروشی کی بھیانک تصویر سامنے آرہی ہے،جس کے مطابق2018میں ہی پولیس نے صوبہ کشمیر میںمنشیات فروشوں کے خلاف312کیس درج کر کے482افراد کو حراست میں لیا۔اعدادو شمار کے مطابق تقریباً ہر روز منشیات فروشوں کے خلاف کیس درج کئے جاتے ہیں اورہر2دنوں میں3افراد کو منشیات فروشی کے جرم میں دھر لیا جاتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ221کیسوں میں متعلقہ عدالتوں میں فرد جرم بھی عائدکیا گیاہے۔ ضلع سطحوں پر’’این ڈی پی ایس(نشیلی ادویات اور نفسیاتی مواد) سے متعلق کیسوں کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیموں کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے،تاکہ منصفانہ اور متحرک انداز سے کیسوں کو نپٹایا جاسکے۔ سال گزشتہ سب سے زیادہ کیس ضلع سرینگر میں درج کئے گئے،جن کی تعداد52تھی اور اس میں82افراد کو دھر لیا گیا۔ جنوبی ضلع کولگام  دوسرے نمبر پر رہا  جہاں50کیسوں کا اندارج کیا گیا اور86افراد کو مبینہ طور پر منشیات فروشی کی پاداش میںحراست میں لیا گیا۔شمالی ضلع بارہمولہ گزشتہ برس اس فہرست میں تیسرے پائیدان پر رہا جہاں 40کیس درج کر کے60 افراد کو گرفتار کیا گیا۔گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ایک معالج نے بتایا کہ2017میں بھی سب سے زیادہ منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں کے کیس سرینگر سے موصول ہوئے،جن کی تعداد مجموعی تعداد میں45فیصد تھی۔انہوں نے بتایا کہ صدر اسپتال کے انسداد منشیات مرکز میں4ہزار کیس سامنے آئے،جن میں45.34کیس سرینگر کے تھے،جبکہ بڈگام سے5,88اور پلوامہ سے3.6کے علاوہ شوپیاں سے9.55اور اسلام آباد(اننت ناگ) سے2.69فیصد کیس درج ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ گاندربل سے1.7اور بانڈی پورہ سے3.43 اور بارہمولہ سے9.8کے علاوہ کپوارہ سے6.12فیصد کیسوں کا اندراج عمل میں لایا گیا۔ وسطی کشمیر میں سال گزشتہ مجموعی طور پر81کیس درج کئے گئے اور141افراد کو دھر لیا گیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے2 اسکالروں سجاد احمد بٹ اور نوید امتیاز کی طرف سے تحقیق میں کہا گیاہے کہ گزشتہ2 دہائیوں کی شورش کے نتائج میں کشمیر میں منشیات کی لت میں مبتلا افراد میں اضافہ ہوا ہے۔اپنی تحقیق میں انہوں نے اقوم متحدہ کے منشیات کی روک تھام کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وادی میں قریب70ہزار لوگ اس لت میں مبتلا ہیں،جن میں4ہزار خواتین بھی شامل ہیں۔ محقیقین کا ماننا ہے کہ وادی میں منشیات اور نشیلی ادویات کے پھیلائو سے ہی زیادہ سے زیادہ لوگ نشہ آوار اشیاء لینے کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق2018میں وادی میں17کوئنٹل37کلو پوست(پاپی اسٹرا)،8کوئنٹل50کلو فکی۔6.88کلوبرائون شوگر،73کلو چرس،5کلو گانجا،ایک کوئنٹل71کلو بھنگ  اور8کلو افیم کے علاوہ49کلو پوست پائوڈر۔8.62کلو بھنگ پائوڈر،1.94کلو چرس پائوڈربرآمد کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ’’سینکڑوں ادویات مشروبات کی بوتلیں اور کیپشول بھی گزشتہ برس کے دوران پولیس نے منشیات کے سوداگروں سے برآمد کر کے ضبط کئے۔