منشیات کی فصلیں……زور دارمہم کی ضرورت!

پولیس نے وادی کے مختلف علاقوں میں بھنگ کی فصل تباہ کرنے کی منظم کاروائی شروع کی ہے، جو ایک خوش آئند اقدام ہے، اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند ایام کے دوران منشیات کی مختلف اقسام کی بھاری پیمانے پر ضبطی عمل میں لائی گئی ہے، جس سے اس امر کا اشارہ مل رہا کہ ریاست کے اندر اس خوفناک اور تباہ کُن شے کے ساتھ کس پیمانے پر مختلف عناصر کے مفادات فروغ پا رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ منشیات کا دھندہ ساری ریاست میں خطرناک طریقے پر اپنے پنجے گارڑ ھ چکا ہے اور ہزاروں نوجوان اس زہریلی لت کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس خوفناک صورتحال کے حوالے سے ہماری انتظامیہ اور سماج میں چوکسی کا احساس جس پیمانے پر بیدار ہونا چاہئے تھا،وہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ منشیات کے کاروبار کا فروغ اس وقت ساری دنیا میں سماجی ڈھانچوں کی شکست وریخت کا ایک بہت بڑا سبب بنا ہوا ہے اور امریکہ جسے سُپر پاور ملک میں بھی اس وباء کی وجہ سے سماجی تانے بانے بکھر رہے ہیں، جبکہ لاطینی امریکہ،براعظم افریقہ اورجنوبی ایشیا میں میں متعدد ممالک اس میں ملوث مافیا کے ہاتھوںتاخت و تاراج ہو چکے ہیں، کیونکہ اکثر اس کاروبار سے ارب پتی بننے والے لوگ مختلف راہوں سے سیاسی اقتدار واختیار کی قربت حاصل کرکے بالآخر فیصلہ سازوں کو روپ دھار لیتے ہیں۔ اس طرح عوامی رائے اور سوچ کو انکی سوچ کے تابع بنا دیا جاتا ہے۔ ایسے خوفناک خطرات کے بیچ ہماری انتظامیہ ، سماج ، دینی و سماجی اداروں کو خواب خرگوش سے بیدار ہو جانا چاہئے کیونکہ ڈور ہاتھوں سے تیزی کے ساتھ چھوٹتی جارہی ہے۔ہماری ریاست ،میں جہاں تقریباً40فیصد غذائی اجناس بیرونِ ریاست سے درآمد کئے جاتے ہیں، زرعی اراضی کا ایک بھاری حصہ منشیات کی کاشت کے لئے استعمال ہوتاہے اور یہ سب کارروائی انتظامیہ کی ناک کے نیچے دن کی روشنی میں انجام پاتی ہے۔ منشیات کی کاشت کوئی چند گھنٹوں یا دنوں کے دوران ہیر پھیر کی کارروائی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اسکی کاشت میں ایک مکمل فصلی موسم درکارہوتاہے۔ اس دوران انتظامیہ کے متعلقہ محکمے کہاں نیند میں پڑے رہتے ہیں،یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ ریاست میںسماج کو اندر ہی اندر سے دیمک کی طرح چاٹنے والے اس دھندے کے لئے کتنی مقدار میں زرعی اراضی استعمال ہورہی ہے اس کے متعلق مختلف محکموں کے پاس موجود اعداد وشمار نہ صرف متضاد ہیں بلکہ مشکوک بھی ہیں۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ ہزاروں کنال اراضی پر منشیات کی کاشت ہوتی ہے ، جس سے اربوں روپے مالیت کی مختلف منشیات تیار کی جاتی ہیں ۔ایسا کیوں ہے؟اس بحث میں پڑے بغیر منشیات کے زیرکاشت اراضی کاحجم بذات خود ایک انتہائی تشویشناک امرہے کیونکہ اس زمین سے اْگنے والا زہرصرفے کے لئے بالآخر سماج میں ہی راہ پاتاہے ، جس سے نسلوں کی نسلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ یہ فصلیں کاشت کرنے اور ان کی پرورش وپرداخت کیلئے وہی محنت جو کہ ایک حلال فصل کے لئے ضرورت ہوتی ہے ، اْٹھائی جاتی ہے ، اْس  سارے عرصہ میں متعلقہ محکموں کی جانب سے کبھی عوام کو کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ کیا یہ دانستہ عمل ہے یا پھر انتظامیہ اْسی وقت جاگتی ہے ،جب یہ زہر لہلہانے لگتاہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی غالباً متعلقہ محکموں سے یہ جواب طلب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی ہے کہ ایک مکمل فصلی موسم کے دوران اس انسان دشمن کام کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی ؟ سماج کے اندر پنپنے والی بے شمار بیماریوں کا سبب اس دھندے سے حاصل ہونے والی غیر قانونی دولت ہے ، جو سماجی کو ایک نئی اور خطرناک طبقاتی کشمکش کی جانب دھکیل رہی ہے۔ اس خوفناک صورتحال پر فوراً جاگنے کی ضرورت ہے۔اس وقت چونکہ یہ فصلات لہلا رہی ہیں، انتظامیہ کے لئے بیدار ہونے کا وقت ہے کہ وہ اس امر کا جائزہ لے کہ کن کن علاقوں میں اس حوالے سے سرگرمیاں ہورہی ہیں۔ محکمہ آبکاری اور پولیس کے پاس اْن علاقوں کا ریکارڈ موجود ہے ،جہاں منظم طریقے سے منشیات کی فصلیں تیار کی جاتی ہیں ،لہٰذا اس موزی سرگرمی کا توڑ کرنے کےلئے منظم طریقے پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اکادُ کا کاروائیاں کرنے سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں۔ اس حوالے سے انتظامی وسماجی سطح پر منظم تحریک چلانا ہماری اوّلین ترجیح ہونی چاہئے۔ سنگین اور متواتر کارروائی کرنے میں کوئی نرمی نہیں کی جانی چاہئے۔اسی کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ریاستوں سے ادویات کے نام پر جو منشیات یہاں بھیجی جاتی ہیں، اُنکا قلع قمع کرنے کےلئے متعلقہ محکموں کو مربوط طریقے پر مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے، وگرنہ ہماری نوجوان نسل کا مستقبل گھور اندھیروں میں غرق ہونے کا اندیشہ ہے۔