منشیات کی عادت

 دنیا بھر میںآج منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جب کہ اس کے خلاف تشہیری مہم کے باوجود اس بدعت و لعنت میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ۔ہندوستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ پائی جاتی ہے ۔یہاں بھنگ پینے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے کیوںکہ یہ نشہ بازوں کو بآسانی مل جاتی ہے اور اسے پینے کے لئے تیار کرنا بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ نشہ آور اشیاء کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ پوری دنیا میں صدیوں سے مختلف نشہ آور اشیاء اور ان کے مختلف اجزاء استعمال کیا جاتے ر ہے ہیں۔ آج کل ادویہ سازی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کے طفیل منشیات فروشی بھی بڑھ رہی ہے ۔ حکومت منشیات کی فراہمی کی روک تھام کے بڑے بڑے دعوے تو کر رہی ہے لیکن زمینی سطح پر حکومت کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں ۔ ہمارے اپنے شہر کے بعض تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ اور عام نوجوانوں میں نشہ بازوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتارہاہے۔ یہ ایک تشویش کن امر واقع ہے ۔ ایک عالمی سروے کے مطابق منشیات کے خلاف جنگ عملاً ناکام ہوچکی ہے ۔رپورٹ میں درج اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق سے1998 ء سے اب تک دنیا بھر میں نشیلی اشیاء استعمال کرنے والوں کی تعداد میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 20؍ کروڑ سے زائد افراد منشیات کی زد میں ہیں ، جب کہ ہر سال 10 ؍لاکھ سے زائد افراد شراب کے استعمال سے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں ۔ مہلوکین میں دیگر نشہ آور اشیاء کے عادی افراد کی تعداد الگ ہے۔
منشیات کے استعمال سے جسمانی تکالیف ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت اور اخلاقی تنو مندی کے کئی گھمبیر مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اس لئے ہمارے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ایک عام شخص نشے جیسی گھناؤنی لت میں کیوں اور کیسے گرفتار ہوجاتا ہے؟ نشے کی لت میں مبتلاء افراد کے نزدیک زندگی کا کوئی ٹھوس مقصد نہیں ہوتا ،یہ لوگ زندگی میں درپیش رکاوٹوں سے جلدی گھبرا کر راہ فرار اختیار کر تے ہیں اور بالآخر منشیات کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں ۔ یوںیہ لوگ حیوانوںجیسی بے نیاز ومستانہ زندگی گزارتے ہیں ۔ بے روزگاری بھی منشیات کے فروغ کا ایک بنیادی سبب مانی جاتی ہے ۔ بے کارنوجوانوں کی ایک کثیر تعداد اس علت ومرض میں مبتلا ہے۔نشے کے اثرات بہت برے اور گہرے ہوتے ہیں جن کے باعث پورے پورے خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ نشے کی حالت میں نشہ باز میں انسانی جان اور عزت و آبرو کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہتی ،جنسی جرائم کے زیادہ تر واقعات بھی نشیلی چیزوں کے استعمال ایک بہت بڑا نتیجہ مانا جاتا ہے ۔نشے کاعادی گھرمیں فیملی میں بیٹھنے کے قابل رہتے ہیں اور نہ ہوش کی کوئی بات اور مہذب گفتگو کرسکتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے روئیے سے پورا خاندان متاثر ہوجاتا ہے۔ نشے باز شیطان کے مکروہ پنجوں میں اس طرح جکڑے ہوتے ہیں کہ ان کے اند رکا شیطان ہر برائی میں ان کی رہنمائی کر تارہتا ہے اور مزید گناہوں پر اکساتا رہتا ہے۔ نشے کے خمار میں کسی کا قتل کرنا ، رشتوں کا تقدس پامال کرنا ، چوری چکاری اور آبروریزی میں ملوث ہونا کوئی ناممکن بات نہیں۔منشیات کا استعمال کسی کو وقتی طور پر ذہنی طو ر ماؤف کر تاہے دے اور اس کی لت نشہ باز کو انتہائی جان لیوا بیماریوں کی جانب دھکیلتی ہے ۔ نشہ اس کو جیتے جی مار تا ہے، اس کے کاروبار کو کھاجاتاہے،ا س کی عادات کو بگاڑتا ہے ،اس کے اخلاق کو زنگ آلودہ کرتاہے اور پھر اس کی دماغی وجسمانی صحت کو تباہ کر دیتا ہے ۔انہیں ڈپریشن بھی ہوجاتا ہے بلکہ یہ عام طور پر یہ ڈپریشن میں ہی رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منشیات کی روک تھام کے لئے ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور یہ بات گرہ میں باندھ لیں کہ منشیات اسلام نے ممنوعہ قراد دئے ہیں۔اس لئے اگر حکومتی سطح پر اس کی روک تھام کا کام نہیں ہوتاتو ہم اجتماعی سطح پر قانونی اندازمیں تعاون واشتراک کر کے اجتماعی طور منشیات کا راستہ روک سکتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک و پرنٹ میڈیابھی منشیات سے ہونے والی تباہی کو واضح کر کے قوم کے نوجوانوں کو بچانے میں اپنا اپناکردار ادا کر سکتے ہیں۔مزید برآں اہل قلم وصاحبان ِ دانش اورسماجی اصلاح کاروں کو چاہیے کہ وہ انسدادِ منشیات سے متعلق مضامین ، کارٹون اور مزاحیہ خاکوں کو اخبارات میں شائع کرائیں تاکہ لوگ نہ صرف منشیات کی ذلت وخواری سے اپنے آس پاس کے ماحول کوبچاسکیں بلکہ اس قبیح لت میں گرفتار نوجوانوں کے لئے بھی اجتماعی طور پر کوئی نیک کام انجام دیا جاسکے ۔ نشہ بازوں کو بہت اَحسن انداز میںاور دل سوزی کے انداز میں اس روگ سے بچایا جائے ۔
………………………….
رابطہ : باغوان پورہ لال بازار سری نگر کشمیر
موبائل:  9906958038