منشیات کا زیادہ استعمال ہیپا ٹائٹس میں اضافے کا موجب :ڈاک

سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے کہا ہے کہ منشیات کا زیادہ استعمال وادی میں ہیپا ٹائٹس کیلئے ذمہ دارہے ۔ ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ منشیات کے عادی افراد میں این آئی وی اور دیگر انفیکشن پھیلانے والی بیماریاں تیزی سے منتقل ہوجاتی ہیں ۔ڈاک صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ وادی میں منشیات پھیلنے سے انفیکشن کی کئی بیماریاں پھیل رہی ہیں جن میں زیادہ تر ہیپا ٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسی مہلک بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ان کیسوں میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ منشیات کے عادی افراد کی جانچ نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ طبی خدمات کی طرف زیادہ دھیان دیتے ہیں جس کے نتیجے میں کئی کیسوں میں مریضوںکی موت کے اسباب کا پتہ بھی نہیں چلتا ۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ ایک منشیات کا عادی شخص ابتدائی تین برسوں میں مزید 20افراد کو بیماری میں ملوث کرتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 2017میں کی گئی ایک سروے کے دوران ڈینٹل کالج اور صدر ہسپتال میں 2000کے قریب مریضوں کی جانچ کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ 12فیصد مریض ہیپا ٹائٹس بی اور سی میں مثبت پائے گئے جبکہ دو قریبی گائوں کے لوگوں میں 38فیصد افراد کو ہیپا ٹائٹس کے انفیکشن میں ملوث پایا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ 2018میں کئی گئی اسی طرح کی سروے سے پتہ چلا ہے کہ 420مریض ہیپا ٹائٹس بی اور سی میں مبتلاہوچکے ہیں جبکہ سکمز میں 460ایچ آئی وی کیس درج کئے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہیپا ٹائٹس بی اور سی کے علاوہ ایچ آئی وی طبی لحاظ سے کافی تشویشناک معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے پھیلائو سے انفیکشن کی بیماریاں بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں جوکہ معاشرے کیلئے کافی تشویشناک امر ہے جس کی طرف دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔ سی این آئی