منجاکوٹ میں طبی عملہ نہ دارد

منجاکوٹ// نیشنل ہیلتھ مشن کے تعینات ملازمین کی ہڑتال کے باعث دور دراز علاقہ جات میں قائم طبی مراکز بند پڑے ہوئے ہیں اور لوگ علا ج کیلئے دربدر ہیں ۔اسی طرح سے پی ایچ سی منجاکوٹ اور پی ایچ سی گھمبیر مغلاں میں بھی ڈاکٹروں کی کرسیاں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو دردر کی ٹھوکریں کھاناپڑرہی ہیں ۔ کئی مریضوں کو خالی ہاتھ واپس لوٹناپڑتاہے تو کئی راجوری جانے پر مجبور ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ منجاکوٹ اور گھمبیر مغلاں میں پہلے سے ہی طبی عملے کی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور اس پر مصیبت یہ کہ این ایچ ایم کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹر بھی ہڑتال پر ہیں جس کے نتیجہ میں طبی نگہداشت کا پورا نظام ہی درہم برہم ہوکر رہ گیاہے ۔پی ایچ سی منجاکوٹ جموں پونچھ شاہراہ پر واقع ہے جہاں عام مریضوں کے علاوہ بڑی تعداد میں زخمیوں کو بھی لایاجاتاہے جن کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ڈاکٹر نہ ہونے پر وہ سخت پریشان ہوتے ہیں ۔ اگرچہ چند روز قبل چیف میڈیکل افسر راجوری نے یقین دلایاتھاکہ جلد میڈیکل افسر تعینات کیاجائے گالیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاگیا۔ مقامی شہری محمد رئوف خان نے بتایاکہ وہ کئی گھنٹے سے علاج کا انتظا رکررہے ہیں مگر کوئی ڈاکٹر ہی تعینات نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ افسوسناک بات ہے کہ لوگوں کو علاج کی سہولت نہیں مل پارہی ۔