منجاکوٹ میں الٹراسائونڈ مشین 2سال سے خراب

منجاکوٹ //خطہ پیر پنچال کے طبی مراکز میں جہاں طبی و نیم طبی عملے کی قلت کاسامناہے وہیں مشینری یاتو بیکار پڑی ہے یا پھر نصب ہی نہیں کی گئی ۔ لگ بھگ ایک لاکھ کی آبادی کو طبی خدمات فراہم کرنے والے پرائمری ہیلتھ سنٹر منجاکوٹ کا حال یہ ہے کہ اس میں نصب الٹراسائونڈ مشین پچھلے دو برسوں سے بند پڑی ہے جس کو ٹھیک کروانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی جارہی ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ انہیں الٹراسائونڈ کیلئے بیس کلو میٹر دور ضلع ہسپتال راجوری جاناپڑتاہے اور مقامی سطح پر طبی خدمات فراہم نہیں ہورہی ۔ ان کاکہناہے کہ بارہا حکام سے اپیل کی گئی کہ الٹراسائونڈ مشین کو قابل استعمال بنایاجائے لیکن اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاجارہا ۔ مقامی شہری محمد فاروق کاکہناہے کہ یہ طبی مرکز بہت بڑی آبادی کو طبی خدمات فراہم کرنے کیلئے قائم کیاگیاتھاتاہم اس کی حالت ایک گائوں کے طبی مرکز سے بھی خراب ہے ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ صحت کی طرف سے طبی خدمات کے نام پر بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر صورتحال بہت ہی خراب ہے ۔ مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے الٹراسائونڈ مشین کو ٹھیک کروائیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی لاپرواہی والی بات ہے کہ پچھلے دو سال سے الٹراسائونڈ مشین خراب پڑی ہے لیکن اسے ٹھیک نہیں کروایاجارہا۔ان کاکہناہے کہ منجاکوٹ ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں ہر طرح کی طبی خدمات میسر رکھی جانی چاہئے تھی کیونکہ ہندوپاک کشیدگی کے دوران سرحدی آبادی کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاہے ۔ان کاکہناہے کہ منجاکوٹ کے لوگوں کے پاس کوئی متبادل نہیں لہٰذا انہیں فراہم کی جارہی طبی سہولیات میں بہتری لائی جائے ۔رابطہ کرنے پر بلاک میڈیکل افسر منجاکوٹ ڈاکٹر کبیر اعظم نے بتایاکہ اس سلسلے میں کئی مرتبہ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیاگیاتاہم ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیاگیا ۔