ممنوعہ جماعت اسلامی

مرکزی  حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دعویٰ تو بہت بڑاکرتی ہے مگر کمال یہ ہے کہ وہ ازخود ان کے خلاف دلائل بھی فراہم کردیتی ہے۔ اس کی تازہ مثال جماعت اسلامی ( جموں کشمیر ) پر پابندی ہے۔ جماعت  اسلامی (جے اینڈ کے)پر پابندی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سب سے پہلے ۱۹۷۵ء میں اس پر دو سال کے لئے پابندی لگی۔ یہ اندار گاندھی ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ اس دوران جیل میں بھیجے جانے والے آنجہانی  مرارجی ڈیسائی اور اٹل بہاری واجپائی آگے چل کر ملک کے وزیراعظم بنے اور جارج فرنانڈیس اور لال کشن اڈوانی وزیر دفاع اور وزیرداخلہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان نیتاؤں کو بھی اسی طرح ملک کے لیے خطرہ بتایا گیا تھا جیسے اب جماعت اسلامی (جموں کشمیر) کو ملکی سا  لمیت کے لئے بتایا جارہا ہے۔ ایمرجنسی کے خاتمہ پردیگر تنظیموں کے ساتھ جماعت پر بھی پابندی اُٹھادی گئی۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ   اندراگاندھی نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے ایمرجنسی اور پابندی لگائی تھی اور اب مودی جی بھی ان کی تقلید کررہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اندراگاندھی نے اپنے مقصدمیں کامیاب نہیں ہوئی تھیں اور قوی امکان ہے کہ مودی جی کا بھی وہی حشر ہوگا۔  جماعت اسلامی (جموں کشمیر) کو ۱۹۸۰ء میں دوسری بار تین سال کے لئے ممنوعہ قرار دیا گیا۔ ممنوعہ قرار دینے سے اگر جماعت ختم ہوگئی ہوتی تو مودی سرکارکو زحمت کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جماعت جیسے پہلے قائم تھی اسی طرح قائم و دائم رہی۔ اس پابندی کے خلاف وادی کی سبھی جماعتوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔ میر واعظ عمر فاروق نے اسے بدترین آمریت قرار دیا۔ اس پابندی کی مذمت حریت کے علاوہ ان دو جماعتوں نے بھی کی جن کے ساتھ مل کر بی جے پی نے جموں کشمیر کے اندر تین سال حکومت کی تھی۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا ’’جمہوریت نظریات کی جنگ ہے۔ جماعت اسلامی ( جے کے) پر پابندی لگا کر اسے معتوب کرنا قابل ِمذمت ہے۔یہ ایک سیاسی مسئلہ کو حل کرنے میں حکومت ِہندکی زور زبردستی اور قوت کے استعمال کی مثال ہے۔‘‘ محبوبہ مفتی کی بات دُرست ہے۔نظریات کو طاقت کے استعمال سے کچلا نہیں جاسکتا۔   
’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ ‘ کا نعرہ لگا کر اقتدار سنبھالنے والی مودی جی نے کشمیر میں امن قائم کرنے کے کئی مواقع یکے بعد دیگرے گنوائے۔ انہوں نے اٹل جی کا نعرہ ’’کشمیریت ، جمہوریت اور انسانیت‘‘ لگایا  لیکن اس پر مخلصانہ عمل در آمد نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں کشمیر کے حالات اتنے نہیں بگڑے کہ انہیں کوئی ریاستی سرکار برخواست کرنی مجبوری آن پڑی ہو یا کسی بالائے زمین جماعت پر پابندی لگانے کی نوبت آئی ہو۔ ۴ا۲۰ء کے اواخر میں بی جے پی نے پہلی بار وادی کے اندر اپنے بہت سارے اُمیدوار کھڑے کئے۔ امیت شاہ کوتوقع رہی ہوگی کہ کانگریس مکت بھارت میں اس کے رائے دہندگان بی جے پی کی جھولی میں آجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بی جے پی کے سارے اُمیدواروں کی ضمانتیںضبط ہوگئیں لیکن جموں میں اسے بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی اور اس نے پہلی بار ۲۵ نشستیں حاصل کیں۔ مودی جی کو توقع تھی کہ مفتی محمد سعید مرکزمیں ایک آدھ وزارت کے عوض جموں کشمیر میں بی جے پی وزیراعلیٰ کے تحت اپنی بیٹی کو نائب وزیراعلیٰ بنادیں گے لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ مفتی سعید تو دور محبوبہ مفتی بھی اس پر راضی نہیں ہوئیںاور چلتے چلتیمرکزی حکومت نے محبوبہ مفتی کی سرکار برخواست کردی۔ اس کے بعد بھاجپانے پی ڈی پی میں اندرونی بغاوت برپا کرواکے پیپلز کانفرنس کی مددسے حکومت سازی کی کوشش کی لیکن اسے نیشنل کا نفرنس نے محبوبہ مفتی اور کانگریس سے مل کر ناکام بنادیا۔ بالآخر مرکزی حکومت نے اسمبلی کو تحلیل کردیا۔ 
 کوئی سیاسی نظریہ جب میدان عمل میں پوری طرح ناکام ہوجاتا ہے تو اس کے حاملین زور زبردستی پر اُتر آتے ہیں۔ بی جے پی جب فکری سطح پر اشترا کی دانشوروں کا مقابلہ نہیں کرسکی تو شہری نکسل واد کی اصطلاح گھڑکر اپنے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی خاطر بیک جنبش زبان حقوق انسانی کا کام کرنے والوں کو’’ باغی اور دہشت گردوں کے حامی ‘‘قرار دے دیا گیا۔ ملک بھر میں شہری نکسل واد کے نام پر جو کارروائی کی گئی اسی کا اعادہ اب جموں کشمیر میں جماعت اسلامی (جے کے) پر پابندی لگا کر کیا گیا ہے لیکن حیرت کامقام ہے کہ اس کے خلاف ساری زبانیں گنگ ہیں، ممکن ہے یہ رواں سرحدی تناؤ اور کشیدگی کا اثر ہو کہ یہ اہم مسئلہ نظرانداز ہوا۔
مودی جی کے اقتدار میں آنے سے قبل یہ کہا  جارہا تھا کہ اُن کے خوف سے پاکستانی جنگجو ہندوستان کا رخ کرنے کی جرأت نہیں کریں گے اور اپنے آپ امن قائم ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بعد بی جے پی کے نائب وزیراعلیٰ سے جوتوقع کی گئی وہ بھی غلط ثابت ہوئی۔ نوٹ بندی کے حوالے سے کہا گیا کہ اس سے علٰحیدگی پسندوں کی شہ رگ کٹ جائے گی اور کشمیری مزاحمت دم توڑ دے گی مگر اوڑی کا سانحہ ہوگیا۔ اس کے بعد سرجیکل اسٹرائیک کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ اب سرحد پار سے کی جانے والی شورش ختم ہوجائے گی مگر بے سُود۔ پتھربازی کا جواب چھروں کی بندوق سے دے کر کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی مگر پلوامہ کا حملہ بھر بھی ہوا۔ اب سرکار پر کچھ اور کرنے کا دباؤ بڑھ گیا۔ حکومت نے پاکستان کو پلوامہ کی خون آشامی کے بعدتجارتی میدان میں پسندیدہ ممالک کی فہرست سے خارج کیا۔ کئی حریت  رہنماؤں کی سرکاری سیکورٹی واپس لے لی گئی اور دوسرا سرجیکل اسٹرائیک کر بالا کوٹ میں کر ڈالا گیا لیکن پھر فوجی ہوا باز ابھی نندن کی گرفتاری سے اس کے اثرات یکسر زائل ہوگئے۔ اب کیاکیا جائے کہ حکومت کی طاقت کا بھرم قائم رہے ،اس کے لئے جماعت اسلامی ( جے کے) پر فٹافٹ پابندی عائد کردی گئی اور یہ خبر پھیلائی گئی کہ اس کے عسکریوں سے روابط ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب حزب المجاہدین عرصۂ دراز سے سرگرمِ عمل ہے تو حکومت کو اس بات کا انکشاف اچانک پلوامہ کے بعد اور انتخاب سے قبل کیوں ہوا؟ 
جماعت اسلامی کو حریت کا موجد قرار دیا جارہا ہے ، توپھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ حریت پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر حریت کوئی’’ خطرناک‘‘ تنظیم ہے تو واجپائی جی نے اس کے لیڈروں نے دلی میں گفت وشنید کے لئے کیوں بڑے طمطراق سے بلایااور جب بھی کشمیر میں گفت و شنید کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو سرکاری و غیر سرکاری نمائندے حریت لیڈروں سے گفتگو کیوں کرتے ہیں؟ جماعت اسلامی پر پابندی میں ہڑبڑاہٹ کا اندازہ اس کی اُلٹی ترتیب سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کسی تنظیم پر پابندی لگانے سے قبل اس کا قصور بتایا جاتا ہے اور بعد میں گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ مثلاً پہلے ہندو مہاسبھا کو گاندھی جی کے قتل کا ملزم ٹھہرایا گیا، پھر پابندی لگی اور اس کے بعد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اس بار یہ ہوا کہ ممنوعہ قرار دینے سے قبل جماعت کی قیادت اور کیڈر کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور بعد میں جماعت پر پابندی کا فرمان جاری ہوا۔مختلف ذرائع سے اس اقدام کے جواز میں ایسی وجوہات بتائی جارہی ہیں جن میں کوئی دَم نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ٹریبونل یا عدالت میں جب اسے چیلنج کیا جائے گا تو پابندی ازخودختم ہوجائے گی اور اگر ایسا مستقبل قریب نہ بھی ہو تو بھی زندہ تحریکات کے اوپر سرکاری پابندیوں کا کوئی خاص اثر مر تب نہیں ہوتا، اس لیے کہ نظریہ انسانوں کے قلب وذہن میں بستے ہیں۔ اس کا تجربہ کانگریس کو نہیں ہوسکتا ،اس لیے کہ اس پر کبھی پابندی نہیں لگی لیکن سنگھ پریوار کو توہونا چاہیے ،اس لیے اسے دو مرتبہ ممنوعہ قرار دیا جاچکا ہے۔ ترکی میں برسوں کی پابندی اسلام پسندوں کے اثرات زائل نہیں کرسکی ۔ ویسے بقول شاعر    ؎
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے 
جتنا بھی دباؤ گے اتنا ہی یہ پھیلے گا