ممتاز ڈوگری شاعرہ وناول نگار پدما سچدیو کا انتقال

 جموں// ممتاز ڈوگری شاعرہ وناول نگار اور پدم شری ایوارڈ یافتہ پدماسچدیو کا ممبئی کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوا ہے ۔ وہ 81 برس کی تھیں۔وہ1940 میں جموں کے پرمنڈل علاقے میں سنسکرت سکالر پروفیسر جے دیو بدو کے گھر میں پیدا ہوئی تھیں۔منگل کی شام کچھ طبی پیچیدگیاںپیدا ہونے کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہوںنے آخری سانس لی۔ وہ وقتاًفوقتاً کلچرل اکیڈیمی کی مختلف اَعلیٰ اِختیاری کمیٹیوں کی رُکن رہ چکی ہیں۔ وہ اکیڈیمی کی ڈوگری اور ہندی اِشاعتوں میں باقاعدہ معاون تھیں۔ ایک بہترین مصنف ہونے کے ناطے پدما سچ دیو کو 2001ء میں چوتھا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پدم شری سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ حکومت مدھیہ پردیش کی طرف سال 2007-08 کے لئے سرسوتی ایوارڈ ، سوہا دایوارڈ اور شاعری کے لئے کبیر اعزاز دیا گیا۔پدما سچ دیو نے کئی شعری مجموعے تحریر کئے ہیں جن میں میری کویتا میرے گیت ( میری نظمیں ، میرے گیت) شامل ہیں جنہوں نے 1971ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ جیتا ۔سچ یو نے 1973 کی ہندی فلم "پریم پربت" کے گیت 'میرا چھوٹا سا گھر بار' کے بول بھی لکھے۔ انہوں نے 1978 کی ہندی فلم "آنکھوں دیکھی" کے دو گانوں کے بول بھی لکھے جن میں محمد رفیع اور سولکشنا پنڈت کے گایاہوا مشہورگیت "سونا رے ، تجھے کیسے ملوں" بھی شامل ہے۔انہوںنے آل انڈیا ریڈیو جموں اور ممبئی کے ساتھ بھی کام کیا اور گلوکار سریندر سنگھ سے شادی کے بعد نئی دہلی اور ممبئی منتقل ہوئیں۔اس دوران جموںوکشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویجز ( جے کے اے اے سی ایل ) نے پدما سچ دیو کے اِنتقال پر گہرے دُکھ کا اِظہار کیا ہے ۔اِس سلسلے میں ایک تعزیتی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سیکرٹری اکیڈیمی راہل پانڈے نے ٹیلی فونک خطاب کیا ۔اُنہوں نے پد ما سچ دیو کی وفات کو بالخصوص ڈوگری اَدب اور بالعموم ہندستانی اَدب کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ۔اُنہوں نے مرحومہ کی روح کے اَبدی اور دائمی سکون کے لئے دعا کی اوراُنہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں پدما سچ دیو کی اَدبی خدمات کو طویل عرصے تک یاد کیا جائے گا۔ایڈیشنل سیکرٹری اکیڈیمی ڈاکٹر اے ایس امن نے مرحومہ پد ما سچ دیو کو زبردست خراجِ عقیدت اَدا کرتے مرحومہ کی ڈوگری اور ہندی اَدبی خدمات کو اُجاگر کیا۔اِس موقعہ پر مرحومہ کی روح کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے دو منٹ کی خاموشی بھی اِختیار کی گئی۔ان کی وفات پرڈاکٹر فاروق عبداللہ  اور  عمر عبداللہ نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ لیڈران نے آنجہانی کی آتما کی شانتی کیلئے دعا کی اور آنجہانی کے سوگوران خصوصاً اُن کے اہل خانہ کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا۔  علی محمد ساگر، دیوند رسنگھ رانا اور صدر خواتین ونگ جموں ستونت کور ڈوگرہ، خاتون لیڈر بملا لتھرا نے بھی آنجہانی کے پسماندگان کیساتھ تعزیت کی ہے۔ اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے بھی پدما سچدیو کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ الطاف بخاری نے پدما سچدیو کی وفات پر ناقابل ِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔