ممتاز عالم دین اورگوجری زبان میں قرآ ن پاک کے مترجم

سرینگر//مفسرقرآن ، اسلامی سکالر، جموں و کشمیر کے ممتاز عالم دین اور اسلامی دانشگاہ مرکز المعارف بٹھنڈی جموں کے صدر مفتی، مفتی فیض الوحید قاسمی منگل کی صبح 7بجکر45منٹ پر جموں کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر راجندر رتن پال نے بتایا کہ موصوف کے متعدد اعضا ء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ لائف سپورٹ نظام پر تھے۔اس پورے وقت کے دوران اور انتقال کرنے کے بعد بھی ان کا کووڈ 19ٹیسٹ منفی آیا۔موصوف 12مئی سے اچاریہ شری چندر کالج میڈیکل سائنس جموںمیں زیر علاج تھے جبکہ وہ 9مئی کو ہی بیمار ہوگئے تھے۔موصوف مدینہ مسجد بٹھنڈی میں معتکف تھے جہاں ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں 6روز بعد ہی گھر روانہ ہونا پڑا۔جامع مسجد جموں کے امام و خطیب مفتی عنایت اللہ قاسمی نے اس سلسلے میں کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ مفتی صاحب کی طبیعت 26ویں رمضان کو جب زیادہ خراب ہوگئی تو انہیں فوراً گھرمنتقل ہونا پڑا‘‘۔انہوں نے کہا کہ موصوف کو پہلے بخارہو ا جو تین چار روز تک 104سے کم نہیں ہوااور جونہی 27رمضان کو بخار کم ہوا تو ذیابطیس (شوگر)کا مسئلہ ہوا جو اچانک500تک پہنچ گیاجس کے بعد مختلف بیماریوں نے جنم لیا‘‘۔مفتی عنات قااسمی کے مطابق 9مئی سے12مئی تک وہ گھر میں ہی زیر علاج رہے اور12تاریخ کو ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ مفتی فیض الوحید کو انتقال کرنے کے بعد اپنے گھر واقع بٹھنڈی پہنچایا گیا جہاں دن پھرتعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا ۔مفتی عنایت کے مطابق مرحوم کا غسل نماز ظہر سے قبل دیا گیا اور کورونا ایس او پیز کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک ہی مرتبہ نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی بلکہ تقریبا24مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔نماز جنازہ کی پیشوائی کرنے والوں میں دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے مہتمم مولانا رحمت اللہ قاسمی،مفتی نذیر احمد قاسمی،مولانا فتح محمد مینڈھر،مولانا سید حبیب پونچھ اورمفتی عنایت اللہ قاسمی سمیت دیگر علماء شامل ہیں۔مرحوم کی تدفین بٹھنڈی میں ہی قریب سات بجے شام انجام پائی گئی۔مفتی فیض الوحید کے بارے میں جو تفصیلات موصول ہوئیں اُن کے مطابق موصوف حافظ قرآن ،عالم ،مفتی اورمفسر قرآن بھی تھے۔انہوں نے قرآن پاک کا گوجری میںترجمہ اورتفسیربھی عمل می لایاتھا جس کا گذشتہ سال سے اردو میں ترجمہ ہورہا تھا۔معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے پہاڑی زبان میںبھی کئی پاروں کا ترجمہ بھی کیا تھا۔وہ فی الوقت مرکزالمعارف (دارالعلوم )کے صدر مفتی ہونے کے علاوہ مدینہ مسجد بٹھنڈی میںنماز جمعہ کے فرائض انجام دیتے تھے۔ موصوف المعارف پبلک ہائی سکول کے سربراہ بھی تھے جہاں 1000بچے زیر تعلیم ہیںجبکہ مرکز المعارف میں600بچے لاک ڈائون سے قبل تعلیم حاصل کررہے تھے۔مفتی فیض الوحید صوبہ جموں کے تھنہ منڈی (دوداسن ) راجوری میں 1966 میں پیدا ہوئے۔انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے افتاء کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خود کو دینی خدمات کیلئے وقف کر دیا تھااوروہ فقہ کے استاد مانے جاتے تھے۔مفتی فیض الوحید گوجری زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ کرنے والے پہلے اسکالر ہیں۔انہوںنے سیرت نبویؐ پر ’سراجاً منیرا‘(گوجری اور اردو)نامی ایک ضخیم کتاب کے علاوہ دیگر کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔انہیں عوامی حلقوں میں ایک بے باک مقرر اور داعی کی حیثیت سے بھی پہچانا جاتا تھا۔موصوف بہت سی خوبیوں اور امتیازی اوصاف کے حامل تھے۔انہیں دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء میں شمار کیا جاتا تھا۔مفتی فیض الوحید کے بارے میں علما ء کا کہنا ہے کہ ان کا مقام بلند تر تھا، ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی، وہ مصنف بھی تھے، مقرر بھی، استدلال کی قوت بھی ان کے جملوں سے عیاں ہوتی تھی۔اُن کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ اُن کی تقاریر سن کر زبان و بیان کی لذت کا احساس ہوتا تھا، الفاظ کا انتخاب اورزبان پر عبور علمی شوکت کو ظاہر کررہا تھا۔ ان کی تقریر میں روانی تھی ، جس سے مجمع پر سکوت طاری ہوجاتا تھا ، ان کی زبان سے الفاظ یوں نکلتے تھے، جیسے موسلادھار بارش برس رہی ہے اور دلوں میں علوم کی کاشت کے لئے ماحول تیار کیا جارہا ہے۔ان کی علمی قوت، موضوعات کی ندرت بھی خطبات میں محسوس کی جاسکتی تھی۔