ملی ٹینٹوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر | امسال زیادہ تر انکاونٹر ایل او سی پر ہوئے : پولیس سربراہ

یو این آئی

سرینگر//جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے اتوار کے روز کہا کہ امسال زیادہ تر انکاونٹر ایل او سی پر ہوئے ہیں جس دوران بڑی تعداد میں ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اکسانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔ دلباغ سنگھ نے کہاکہ نوجوان ، طلبا کے ساتھ ساتھ مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگ ان ریلیوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر کے ہر ضلع میں ترنگا ریلیوں میں لوگوں کی شرکت اس بات کی غماز ہے کہ یہاں کے لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ ہے۔پولیس چیف نے کہاکہ اس طرح کی ریلیوں سے امن اور بھائی چارہ مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں ملک کے تئیں محبت میں مزید اضافہ ہوگا۔یوم آزادی کے موقع پر سیکورٹی انتظامات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پولیس سربراہ نے کہاکہ یوم آزادی کی تقریبات میں لوگوں کی شرکت کو یقینی بنانے کی خاطر بھی تمام تر انتظامات کئے جارہے ہیںاور عوام الناس کو تقریبات میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ جموں وکشمیر میں سرگرم ملی ٹینٹوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پولیس چیف نے کہاکہ اس وقت جنگجوئوں کی تعداد نا کے برابر ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ملی ٹینسی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ان کی تعداد بہت ہی کم ہے۔پولیس سربراہ نے مزید کہاکہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اکسانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ انہیں تشدد کی طرف مائل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا : ’’زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ اس طرح کا راستہ تباہی اور بر بادی کی طرف جاتا ہے لہٰذا آج کا نوجوان امن کی طرف راغب ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ جو نوجوان بہکاوے میں آرہے ہیں انہیں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ راستہ ان کے مستقبل کو تاریک بنائے گا۔دراندازی کے بارے میں پوچھے گئے اور ایک سوال کے جواب میں پولیس سربراہ نے کہاکہ امسال دراندازی کی بہت ساری کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ امسال زیادہ تر انکاونٹر سرحدوں پر ہوئے جس دوران متعدد ملی ٹینٹوں کو مار گرایا گیا۔پولیس سربراہ نے کہاکہ سرحدوں پر تعینات افواج ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر چوبیس گھنٹے متحرک ہے۔