’’ملی ٹینسی‘‘ پر حفاظتی فورسز کا مکمل کنٹرول:وزارتِ داخلہ دراندازی روکنے اورتشددکے خاتمے کیلئے حفاظتی گرڈ کومضبوط بنایاجائے:امت شاہ

نیوز ڈیسک

نئی دہلی//مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعہ جاری کردہ اختتامی جائزہ رپورٹ کے مطابق،سیکورٹی ایجنسیوں کی کوششوں کی وجہ سے جموں و کشمیر میں گزشتہ کچھ برسوں میں عسکری واقعات میں کمی آئی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملی ٹینسی پر سیکورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے۔منگل کو جاری کردہ اختتامی جائزہ رپورٹ کے حوالے سے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے کہا،’’ جموں و کشمیر میں 42,000لوگ تشدد کا شکار ہوئے اور دہلی میں کسی نے ایک آنکھ بھی نہیں جھکائی لیکن اب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میںحالات پر سیکورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے‘‘۔شاہ نے کہا، ’’ملی ٹینسی کے واقعات میں تقریباً 54 فیصد، سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں 84فیصد اورملی ٹینٹوں کی بھرتی میں تقریباً 22 فیصد کمی آئی ہے‘‘۔

 

جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال پر فروری 2022کی جائزہ میٹنگ سے شاہ کے بیان کو اخذ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کی کوششوں کی تعریف کی جس کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پچھلے کچھ برسوں میں ملی ٹینسی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’ملی ٹینسی کے واقعات کی تعداد 2018میں 417سے کم ہو کر 2021میں 229 ہو گئی ہے، جب کہ ہلاک ہونے والے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 2018میں 91سے کم ہو کر 2021میں 42 ہو گئی ہے‘‘۔ تاہم شاہ نے ہدایت دی کہ سرحد پار سے دراندازی روکنے کو یقینی بنانے اور ملی ٹینسی کے خاتمے کے لیے سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط کیا جائے۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جموں و کشمیر پر کئی میٹنگوں میں دی گئی تجاویز کے جائزے کے خلاصے میں، وزارت داخلہ نے کہا کہ اب جموں میں ملی ٹینسی پر سیکورٹی فورسز کا’’مکمل کنٹرول‘‘ ہے۔ کشمیر جو ’’ملی ٹینسی کے ہاٹ سپاٹ سے سیاحتی مقام‘‘ میں بدل گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ میں وزیر داخلہ کی تقریر کا حوالہ دیا گیا ہے جو انہوں نے 5 اکتوبر 2022کو سری نگر میں کی تھی جب انہوں نے خطے میں 2,000کروڑ روپے کے 240ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا تھا۔شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے، وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 70سالوں سے تین خاندانوں کی حکمرانی میں، جموں و کشمیر میں صرف 15,000کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی اور مودی نے صرف تین سالوں میں 56,000کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے،پہلے یہ ملی ٹینسی کا مرکز تھا اور آج یہ سیاحتی مقام بن گیا ہے، وادی کشمیر میں پہلے سب سے زیادہ 6لاکھ سیاح ہر سال یہاں آتے تھے، جب کہ اس سال اب تک 22لاکھ سیاح یہاں آئے ہیں، اس سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار ملا ہے۔اسی حوالے سے امت شاہ نے ایک میٹنگ میں کہا، جموں و کشمیر میں پتھرائو کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت مضبوطی کے ساتھ ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہی ہے۔ شاہ نے سڑکوں کو تشدد سے پاک رکھنے اور قانون کی حکمرانی کو نمایاںطور پر بحال کرنے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں اور مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کی۔مرکزی وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ ملی ٹینٹوں اور علیحدگی پسندوں کے خوف کو ختم کرنے کے لئے سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط کیا جانا چاہئے، شاہ نے کہا کہ ملی ٹینسی کے ماحولیاتی نظام میں ایسے عناصر شامل ہیں جو عام آدمی کی فلاح و بہبود کو نقصان پہنچانے کے لئے ،ملی ٹینٹوں اور علیحدگی پسندوں کی مہم میں مدد، حوصلہ افزائی اور اسے برقرار رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔