ملی ٹنسی کی وجوہات جاننے کی ضرورت:تاریگامی

سرینگر//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما و سابق ممبراسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ملی ٹینسی کی کمر توڑ دینے کے بیان پر کہاہے کہ ملی ٹینسی کی وجوہات جاننے کی ضرورت ہے اور وزیراعظم نے  سیاسی پہلو پر کوئی بات نہیں کی ۔ اپنے ایک بیان میں تاریگامی نے کہاکہ سی پی آئی ایم کی طرف سے بارہا یہ زور دیاجاتارہاہے کہ تشدد کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا حل نہیں ہے بلکہ تشدد موت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ ملی ٹینسی کی وجوہات جاننے کی ضرورت ہے ،پچھلے تین دہائیوں کے دوران کئی مرتبہ یہ اعلانات ہوئے کہ ملی ٹینسی پر قابو پالیاگیاہے مگر پھر کیوں یہ باربار سامنے آجاتی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں غیر یقینی صورتحال وقت بروقت قائم ہونے والی حکومتوں کی طرف سے اپنائی گئی غلط پالیسیوں کے سبب گہرے غم و غصہ کا نتیجہ ہے اور خاص طو رپر 2014میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اس طرح کے بیانات سے ملک کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں اور بی جے پی حکومت کشمیر کو عام الیکشن کیلئے استعمال کررہی ہے ۔تاریگامی نے کہاکہ سیاسی مذاکرات کی کوئی پہل نہیں کی گئی تاکہ متعلقین کے ساتھ بات چیت کرکے مسئلہ کا حل نکالاجاسکے ۔ ان کاکہناتھاکہ ایسے حالات میں طاقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہواہے ۔سی پی آئی ایم رہنما نے کہاکہ 2014کے انتخابات میں بڑی تعداد میںلوگوں نے جمہوری عمل میں شرکت کی لیکن اس کے بعد کیا ہوا اور کیوں پچھلے تین سال سے جنوبی کشمیر کیلئے لوک سبھا کے ضمنی چنائو نہیں کرائے جاسکے ،یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب حل طلب ہے ۔تاریگامی نے کہاکہ بدقسمتی سے بی جے پی حکومت کشمیر کو سیکورٹی کے نکتہ نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور اسے کراس بارڈر یا امن و قانون کا مسئلہ سمجھ رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی کی غلطیوںکو نہ دہرایاجائے بلکہ ٹھوس سیاسی پہل کی جائے تاکہ مسائل کا حل نکل سکے ۔